”جرائم پیشہ افراد اور جنگجو دونوںسیکورٹی فورسز کے نشانے پر “:ایس پی وید

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر جنگجوئیت کے راستے پر گامزن مقامی نوجوانوں کی گھر واپسی کےلئے” آپریشن آوٹ ریچ “کی کامیابی کا دعوی کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ایس پی وید نے آج واضح کر دیا کہ ریاست میں امن وامان برقرار رکھنا پولیس کی ترجیحات میں شامل ہے اور ایسے میں پویس جرائم پیشہ افراد کےساتھ ساتھ جنگجووں کےخلاف جنگ جاری رکھے گی ۔
ایک انٹرویو کے دوران ڈائریکٹر جنرل پولیس نے کہاکہ پولیس ایک منظم فورس ہے اور اس نے نہ صرف جرائم پیشہ افراد کو چھپنے پر مجبور کر دیا ہے بلکہ ریاست میںحالات کو معمول پر لانے میں پولیس پیش پیش رہتی ہے ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حالات کچھ بھی ہوں ۔پولیس اپنے فرائض نبھانے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے ۔انہوںنے مزید کہاکہ سیکورٹی فورسز جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ نقصان نہ ہو بلکہ کم سے کم نقصان میں ہی اپنا ہدف حاصل کیا جا سکے ۔
ڈائریکٹر جنرل پولیس نے مزید کہا پولیس اور سیکورٹی فورسز کے درمیان بہتر تال میل سے ملی ٹینسی آپریشن کامیاب ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پولیس نہ صرف جرائم پیشہ افراد اور جنگجووں کےخلاف برسر پیکار ہے بلکہ جنگجوئیت کا راستہ ترک کروانے کےلئے بھی کوششیں کی جارہی ہے اور اب تک پولیس نے ایسے ساٹھ نوجوانوں کو واپس اپنے گھروںکو پہنچایا ہے جو کہ کسی وجہ سے جنگجوئیت کے راستے کا انتخاب کرنے لگے تھے یا کر گئے تھے ۔
انہوںنے کہاکہ ہم نے اس طرح سے نہ صرف ساٹھ بچوں یا جوانوںکو بچایا ہے بلکہ ساٹھ خاندانوںکو بچایا ہے ۔الفا نیوز سروس کے مطابق ڈائریکٹر جنرل پولیس کا کہنا تھا کہ حالات معمول پر آرہے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگ بھی اب تشدد سے تنگ آگئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ پولیس اہلکاروں و افسران کی فلاح وبہبود کےلئے کئی ایک پروجیکٹ زیر غور ہیں جن میں پولیس اہلکاروںکے بچوں کو بھی بہتر تعلیم کی فراہمی شامل ہے ۔
انہوںنے کہا کہ پولیس کے اندر رکی پڑی ترقیاں اور اسامیاں بھی کافی حد تک بہتر ہورہی ہیںاور پروموشنوں کو کسی بھی صو رت میںروکا نہیں جائیگا ۔الفا نیوز سروس کے مطابق انہوںنے مزید کہاکہ ڈائریکٹر جنرل پولیس کا کہنا تھا کہ لوگ امن کے ساتھ ہیں اور انہیں پولیس اور فورسز کی مدد کرنا ہی ہوگی کیونکہ ریاست میںامن وامان پولیس کی پہلی ترجیح ہے اور امن میں رخنہ اندازی کرنے والوں کےخلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے اور لائی جائےگی ۔انہوںنے کہا جیسے جیسے حالات معمول پر آرہے ہیں پولیس اپنا فوکس جرائم پیشہ افراد کےخلاف مرکوز کررہی ہے ۔انہوںنے مزید کہاکہ حالات کچھ بھی ہوں ہم اپنے معاملات کو بہتر ڈھنگ سے آگے چلا رہے ہیں اور اس پولیس کو ریاستی عوام کا بھی ساتھ ہے ۔
ڈائریکٹر جنرل پولیس کا کہنا تھا کہ جنگجو اور جرائم پیشہ افراد دونوں پولیس کے نشانے پر ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی طرح کی کوتاہی نہیں کی جائےگی ۔تاہم انہوںنے کہا کہ حالات کو معمول پر لانے کےلئے مجموعی طور پر کوئی بھی کام کیا جائیگا جس کےلئے ہم ہر معاملے پر غور کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ عوام کو پولیس دوست چہرے ملے گا اور ایسے میںجرائم پیشہ افراد کےخلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائےگی اوراس نیٹ ورک کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی جاسکتی ہے ۔
ڈائریکٹر جنرل پولیس کا کہنا تھا کہ گھر واپسی کرنے والے مقامی جنگجووںکو باعزت زندگی گذارنے کا پورا پورا موقعہ دیاجائیگا لیکن انہیں تشدد کا راستہ کرنا ہوگا ۔انہوںنے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوںکو سمجھائیں تاکہ وہ جنگجوئیت کے راستے کو ہمیشہ کےلئے خیر باد کہہ سکیں اور امن کے ساتھ رہ کر اپنی پڑھائی پر دھیان دیں ،انہوںنے کہا کہ پولیس کا آپریشن آوٹ ریچ کافی حد تک کامیاب ہوگیا ہے اور زیادہ سے زیادہ مقامی جنگجو تشدد کا راستہ ترک کرنے کی کوشش کررہے ہیںانہوںنے کہا کہ اب تک اس آپریشن کے نتیجے میں پولیس کے اعلیٰ افسران نے کئی درجن ایسے خاندانوںکےساتھ رابط قائم کیا ہے جن کے بچے جنگجوئیت کے راستے پر گامزن ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ان محرکات کو تلاش کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے وہ اس راستے کا انتخاب کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ اس آپریشن کو جاری رکھا جائےگا اور زیادہ سے زیادہ والدین اور رشتہ داروں کےساتھ بات کی جائےگی تاکہ ان کے بچوں کی واپسی کو ممکن بنایا جا سکے ۔(الفا نیوز سروس )

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے