کشمیر اور فلسطین تنازعات حل طلب انصاف پر مبنی حل ناگزیر/پاکستان

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر// پاکستان نے آج واضح کر دیا کہ کشمیر اور فلسطین تنازعات حل طلب ہیں اور جب تک ان مسائل کاانصاف کی بنیاد پرحل نہیں نکلے گا تب تک دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا ہے ۔ اس دوران پاکستان نے کلبھوشن کو بھارتی جاسوس قرار دیتے ہوئے عالمی عدالت میں اپنا جواب دائر کر دیا اور کہا کہ بھارتی جاسوس کو ملکی قوانین کے عین مطابق ہی سز ا ملے گی اور بھارت کی ڈکٹیشن کو کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جائیگا ۔ پاکستانی فوجی سربراہ جنرل قمر باجوا نے آج فلسطینی سفیر کےساتھ ملاقات میں دو ٹوک الفاظ میں واضح کر دیا کہ فلسطین میں بیت المقدس کو اسرائیل کی راجدھانی قرار دینا ناقابل قبول ہے اور امریکہ کا یہ اعلان بے معنی بھی ہے اور بے وزن بھی ہے کیونکہ پوری دنیا اس اعلان کو یکطرفہ عمل سے تعبیر کررہا ہے ۔انہوںنے کہاکہ فلسطین کا تحفظ بھی لازمی ہے ۔فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر طرز پر فلسطین کا بھی موازنہ کررہا ہے کیونکہ دونو ں مسائل حل طلب ہیں اور جب تک ان کا انصاف کی بنیاد پر حل نہیں نکالاجائیگا تب تک امن قائم نہیں ہوسکتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ فلسطینی اور کشمیر اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور پاکستان دونوں کی حمایت کررہاہے کیونکہ یہ اصولی لڑائی ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس سے انحراف نہیں کرتی ہے۔انہوںنے عالمی برداری پر زور دیا کہ وہ دونوں مسائل کا انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق حل تلاش کرے تب ہی دنیا میںامن قائم ہوگا ورنہ دنیا میںامن غارت ہی ہوتا رہےگا ۔فوجی سربراہ نے کہاکہ پاکستانی فوج کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کےلئے تیار ہے اور پڑوسی ممالک سے ہم بہتر رشتوںکا تقاضا تو کرتے ہیں لیکن اگر وہ یہ رشتے پر امن طور پر رکھنا چاہئے تو پاکستان اس کی حمایت کرےگا لیکن اگر وہ اس سلسلے میں ڈکٹیشن پر اترئے گا تو پاکستان بھارت کی ایک نہیں سنے گا ۔انہوںنے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پڑوسی ممالک کےساتھ تعلقات بہتر ہوں لیکن یہ تعلقات ہم اپنی سلامتی کو یرغمال بناکر نہیں بنانا چاہتے ہیں۔فوجی سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کردار ہر جگہ سراہا جاتا ہے اور ایسے میں عالمی اتحاد بھی پاکستان فوج کی قربانیاں فراموش نہیں کی جاسکتی ہیں ۔ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کا حل چاہتا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے فلسطین کے سفیر ایچ ای ولید اے ایم ابوعلی نے ملاقات کی اور فلسطین کاز کی حمایت پرفوجی چیف کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیر ایشو کے ساتھ مسئلہ فلسطین کا بھی حل چاہتا ہے، دونوں ایشوز کو پاکستانی عوام کی ایک جیسی سیاسی و اخلاقی حمایت حاصل ہے، ہم کشمیر و فلسطین پر اپنے اصولی موقف کی حمایت جاری رکھیں گے اور نام نہاد قبضے کی حقیقت سے قطع نظر اصولی موقف پر قائم ہیںادھر پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس میں اپنا جواب جمع کرا دیا۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے عالمی عدالت میں بھارتی موقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنے جواب میں کہا کہ کمانڈر کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر ہے، وہ عام قیدی نہیں اور اس پر ویانا کنونشن کا اطلاق نہیں ہوتا، کلبھوشن کوئٹہ اور کراچی سمیت پاکستان کے دیگر شہروں میں دہشت گردی کو فروغ دیتا رہا ہے، اس کے پاکستان میں دہشت گردوں سے واضح تعلقات کے ثبوت موجود ہیں۔پاکستان کے جواب میں کہا گیا کہ کمانڈر کلبھوشن یادیو کا تعلق بھارتی خفیہ ایجنسی را سے ہے جس کا وہ خود اقرار کر چکا ہے، وہ اپنا کوڈ نام حسین مبارک پٹیل استعمال کرتا تھا، پاکستان نے اسے صفائی کا پورا موقع دیا اور اسے پاکستانی قوانین کے مطابق سزا دی گئی، حاضر سروس بھارتی آفیسر کا پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونا انتہائی خوفناک اور بھیانک ہے، اس کے باوجود پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کلبھوشن کی بیوی اور والدہ کو اس سے ملاقات کی اجازت دی۔جواب میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی ریاست کو حق پہنچتا ہے کہ اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کرے۔ پاکستان نے اپنے جواب میں عالمی عدالت انصاف کے پچھلے مقدمات کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا جن میں امریکا و دیگر ممالک کے کیسز کے حوالہ جات شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق دفتر خارجہ کی معاونت سے اٹارنی جنرل آفس نے حکومتی جواب تیار کیا ہے۔واضح رہے کہ عالمی عدالت میں بھارت نے موقف اختیار کیا تھا کہ کلبھوشن کو ویانا کنونشن کے تحت قیدیوں کے حقوق حاصل ہیں۔ حساس اداروں نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو ۳ مارچ ۶۱۰۲ کو بلوچستان سے گرفتار کیا تھا۔ بھارتی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ کلبھوشن اس کا سابق نیوی افسر ہے تاہم اس کا دعویٰ ہے کہ کلبھوشن کو ایران سے گرفتار کیا گیا۔ فوجی عدالت نے ۰۱ اپریل ۷۱۰۲کو کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی تاہم بھارت فورا یہ کیس عالمی عدالت لے گیا جس نے ۸۱ مئی ۷۱۰۲کو اس سزا پر عملدرآمد روکنے کا حکم دیا۔پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے اور ایسے میں مسئلہ فلسطین اور کشمیر کو پاکستانی عوام کی ایک جیسی سیاسی و اخلاقی حمایت حاصل ہے ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے