داعش کے جھڈے لہرانے کے پیچھے بڑی سازش کار فرما
سرینگر 07جنوری /سی این آئی سوشل میڈیا پر اتوار کو وائرل ہوئے 20منٹ اور 26سیکنڈ کے دورانیہ پر مشتمل اس صوتی پیغام میں حزب کمانڈر ریاض احمد نائیکو کہہ رہے ہیں ’’تاریخ گوا ہ ہے کہ ہر کسی تحریک میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں ، ہم نے زخم کھائے ہیں لیکن شہادتوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں بلکہ اور بلند ہوجاتے ہیں، قربانیوں سے تحریک مضبوط ہوجاتی ہیں اور شہداء کے مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ہم اور قربانیاں دینے سے دریغ نہیں کریں گے، ہم آپ (عوام) کے جذبات کی قدر کرتے ہیں ، آپ حوصلے بلند رکھیں ہمارے جو ساتھی جاں بحق ہوئے ہیں ان کی جگہ اور ساتھیوں کو بھرتی کیا جائے گا، آپ بھارت کے بیانات پر مت جائیں کہ جنگجوئیت ختم ہورہی ہے۔بھارت 1990سے ایسے بیانات دیتا آرہا ہے، ہم آج تک قربانیاں دیتے آئے ہیں اور منزل کے حصول تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ دشمن کی طاقت اور ساتھیوں کے جاں بحق ہونے سے ہمارے حوصلے پست اور عزائم میں فرق نہیں پڑتا‘‘۔سی این آئی کے مطابق وائرل ہوئے آڈیو یا صوتی پیغام میں ریاض نائیکو کہہ رہے ہیں ’’ہم 1947سے دشمن کے ہاتھوںسے دھوکے کھاتے آرہے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہم ان سازشوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں، ہماری قوم جذباتی ہیں اور قربانیاں دیتی ہیں لیکن وقت آنے پر دشمن کی سازشوں کا شکار ہوجاتی ہیں، حال ہی میں جامع مسجد میں جو دلدوز واقعہ پیش آیا ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، قوم کے کچھ افراد اپنے ذاتی مفاد اور تحریک کو بدنام کرنے کیلئے ہماری مسجدوں کی بے حرمتی کے مرتکب ہوجاتے ہیں، یہ سب بھارت کی سازش ہے اور کشمیر میں بھارت کے کہنے پر ہی داعش کے جھنڈے لہرائے جاتے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ داعش کے جھنڈے کون لوگ اور کیوں لہرا رہے ہیں؟ ان کی جدوجہد سے کوئی ذاتی دشمنی ہیں اور بدلہ لینے کیلئے بھارت کے کہنے پر داعش کے جھنڈے لہراتے ہیں اور ایسا کرکے وہ بین الاقوامی سطح پر جدوجہد کو بدنام کرنا چاہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے کچھ لوگ جھنڈے پر کلمہ طیبہ دیکھ کر جذباتی ہوجاتے ہیں اور ان لوگوں کی حمایت کرتے ہیں‘‘۔ بیس منٹ سے زائد کے دورانیہ پر مشتمل آڈیو بیان میں ریاض نائیکو کہہ رہے ہیں ’’اب کوئی مخلص نوجوان سوال کرے گا کہ ہمارا بھارت کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں اور ہم اسلام کی بنیاد پر کلمہ طیبہ والا جھنڈا لہراتے ہیں تو ہم کیسے بھارت کے ایجنٹ ہوگئے، تو میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمیں آپ کی نیت پر کوئی شک نہیں، ہم آپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں لیکن دشمن آپ کے جذبات کا غلط طریقے سے استعمال کررہا ہے، آپ سے کہا جاتا ہے کہ صرف کلمہ طیبہ تحریک کنندہ کالا جھنڈا ہی اسلام کا جھنڈا ہے لیکن اس کے پیچھے جو وجوہات ہیں شاید آپ ان سے واقف نہیں ہے، یہ ضروری نہیں کہ ہر وہ جھنڈا جس پر کلمہ طیبہ ثبت ہو ، حق پر ہو۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بھارت آپ کو اسلام کے نام دھوکہ دینا چاہتا ہے ، داعش عالمی سطح پر ایک بدنام تنظیم ہے اور بھارت ہماری جہدوجد کو داعش کے ساتھ جوڑ کر اسے بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنا چاہتا ہے اور ایسا کرکے وہ دنیا پر یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ یہاں آزادی کی تحریک نہیں بلکہ دہشت گردی کی تحریک چل رہی ہے‘‘۔ حزب کمانڈر کو آڈیو بیان میں کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے ’’ ایک منصوبہ کے تحت کشمیر میں داعش کے جھنڈے لہرائے جاتے ہیں، ہر مکتبہ فکر کے بڑے بڑے علما نے داعش کو مسترد کیا ہے کہ ان کی سرگرمیاں غیر اسلامی ہیں۔ تو یہ کون لوگ ہیں جو اپنا چہرہ چھپا کر کشمیر میں داعش کے جھنڈے لہرا کر رواں جدوجہد کو بدنام کرنے کے درپے ہیں، ہماری آزادی کی جدوجہد ہے اور اس حوالے سے اقوام متحدہ میں قرار دادیں موجود ہیں اور ان میں درج ہے کہ کشمیر کا فیصلہ خود کشمیری عوام کریں گے، ان قرار دادوں میں کہیں بھی یہ تحریر نہیں کہ اقوام متحدہ ہمارا فیصلہ کرے گا، ان میں درج ہیں کہ کشمیری عوام خود اپنی تقدیر کا فیصلہ کریں گے، ہم نے عسکریت کا راستہ اختیار کیا کیونکہ بھارت نے ہم سے جو وعدے کئے ، اس نے وہ پورے نہیں کئے، اگر اقوام متحدہ کہے گا کہ مسئلہ کشمیر کا فیصلہ یہاں کے لوگ کریں گے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، کیونکہ لوگوں کا فیصلہ اسلام اور جدوجہد کے حق میں ہوگا‘‘۔ حزب کمانڈر آڈیو بیان میں کہہ رہے ہیں ’’2016میں پوری قوم سڑکوں پر نکل آئی تو ہندوستان پر عالمی دباؤ بڑ ھ گیا کشمیر کا مسئلہ حل کیا جائے ، بھارت قرار دادوں پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اسے پتہ ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو فیصلہ کشمیریوں کے حق میں آئے گا، اس لئے عالمی سطح پر رواں جدوجہد کو بھارت اور کوئی رنگ دینا چاہتا ہے اور اسے داعش کے ساتھ جوڑنا چاہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں داعش کے جھنڈے لہرائے جاتے ہیں‘‘۔ ریاض نائیکو کہہ رہے ہیں ’’جو لوگ داعش کے جھنڈے لہراتے ہیں، وہ بھارت کے ایجنٹ ہیں، وہ لوگوں کے دلوں میں اس بات کو بٹھانا چاہتے ہیں کہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کا فیصلہ منظور نہیں ہے، اصل میں یہ لوگ جدوجہد اور عظیم قربانیوں کے دشمن ہیں، وہ اسلام اور کشمیری قوم کے نہیں بلکہ وہ بھارت کے وفادار ہیں اور اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو ختم کرنا چاہتے ہیں، بھارت چاہتا ہے کہ کشمیری خود اعتراف کریں کہ انہیں اقوام متحدہ کا فیصلہ منظور نہیں ہے‘‘۔ ریاض نائیکو کہہ رہے ہیں ’’چونکہ بھارت کے حکمراں خود ایسے جھنڈے کشمیر میں نہیں لہراسکتے ، اس لئے ایسے لوگوں کا انتخاب کیا ہے جن کی تحریک کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی ہے ، ہم جانتے ہیں کہ ایسے لوگ کیا تھے ، کیا ہیں اور کیا چاہتے ہیں؟ یہی حال ہمارے ان مخلص ساتھیوںکا ہے جن کو مختلف تنظموں سے نکال کر الگ تنظیمیں بنانے کیلئے کہا گیا جبکہ کچھ مخلص ساتھیوں کو مسلکوں کی بنا پر ہم سے جدا کیا گیا، میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جنگجو کسی خاص مکتبہ فکر سے تعلق نہیں رکھتے، ہم اس قوم کے بیٹے ہیں ، داعش کے جھنڈے لہرانے والے سب لوگ بھارت کے ایجنٹ نہیں ہیں ان میں بیشتر معصوم اور مخلص ہیں اور جھنڈے پر کلمہ طیبہ دیکھ کر معصومیت میں داعش کے جھنڈے لہراتے ہیں۔ اگر آپ کو اسلام اور شہدائے کشمیر سے واقعی محبت ہیں تو کسی اور رنگ کا کلمہ طیبہ تحریر کنندہ جھنڈا لہرائیں، داعش کے رنگ اور FONTوالے جھنڈے لہرانا ضروری نہیں‘‘۔ آڈیو پیغام میں ریاض نائیکو کہہ رہے ہیں ’’ جن لوگوں نے جامع مسجد کی بے حرمتی کی، میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ایسا کرکے خلافت کی تائیدنہیں ہوتی اور نہ ہی مسجدوں میں کالے جھنڈے لہرانے سے باطل حکومت کا خاتمہ ہوگا، اگر آپ واقعی بہادر ہیں تو آپ سیکریٹریٹ پر جھنڈا لہرا کر دکھائیں یا فوجی کیمپ میں غنڈہ گردی کرکے دکھائیں، مسجد میں غنڈہ گردی کرکے آپ قوم کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، یہ لوگ آڈیو گرافی اور ویڈیو گرافی کیلئے ایسا کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ایسے آڈیو اور ویڈیو اپ لوڈ کرکے جدوجہد کو بدنام کریں ، یہی لوگ جنگجوؤں کے جنازوں میں نمودار ہوتے ہیں اور بعد میں سوشل میڈیا پر کالے جھنڈے والے ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ کون ہیں اور لوگوں اور جنگجوؤں کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں، میری جنگجوؤں اور قوم سے گزارش ہے کہ وہ اس طرح کی سازشوں اور چالوں کو سمجھیں ‘‘۔ آڈیو بیان میں حزب کمانڈر کہہ رہے ہیں ’’جو لوگ چہرہ چھپا مسجدوں میں فتنہ بپا کرتے ہیں ، وہ چہروں سے نقاب ہٹا کر عسکری صفوں میں شامل ہوجائیں اور ثابت کریں کہ وہ قوم اور جدوجہد کے ہمدرد ہیں، ایک طرف میر واعظ عمر فاروق جدوجہد کو مضبوط کرنے کیلئے لوگوں کو اکٹھا کررہے ہیں اور دوسری طرف آپ اسی مسجد میں جدوجہد کو بدنام کرنا چاہتے ہیں، ہم آپ کے کرتوتوں سے واقف ہیں‘‘۔ آڈیو بیان کے آخری لمحات میں ریاض احمد نائیکو کہہ رہے ہیں ’’ محبوبہ مفتی نے نیا ڈرامہ شروع کیا ہے اور حکومت سے ہاتھ دھونے کے بعد وہ مگر مچھ کے آنسو بہارہی ہیں، آج وہ جنگجوؤں کے گھروں میں جاکر ہمدردی جتاتی ہیں اور کہہ رہی ہیں پولیس کو کہیں سے ہدایات آتی ہیں کہ جنگجوؤں کے اہل خانہ کو ہراساں کیا جائے، جب ان کی حکومت تھی تو اس دور میں بھی جنگجوؤں کے اہل خانہ کو ہراساں کیا جاتا تھا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان دنوں پولیس کو کہاں سے ہدایات ملتی تھیں‘‘۔ محبوبہ مفتی آج شہری اور جنگجوؤں کی ہلاکتوں پر مگر مچھ کے آنسو بہارہی ہیں، ان کی حکومت میں بھی شہری ہلاکتیں ہوئیں اور دلی و بی جے پی کو خوش کرنے کیلئے شہری ہلاکتوں پر انہوں نے جو بیانات دئے ، ان سے کشمیری قوم بخوبی واقف ہیں، محبوبہ مفتی نے اپنے دور حکومت میں شہری ہلاکتوں کے بعد کہا تھا کہ کیا نوجوان مٹھائیاں لینے کیلئے فوجی کیمپوں کے نزدیک آتے ہیں، ان دنوں وہ کہہ رہی تھیں کہ کیا پولیس اور فوج نے اسلحہ صرف دکھانے کیلئے رکھا ہے ، آج جب اقتدار ان کے پاس نہیں ہے تو وہ نت نئے بیانات دے رہی ہیں اور لوگوں کی ہمدردیاں بٹورنے کی کوشش کررہی ہیں، انہیں اس بات کا احساس نہیں ہے کہ ان کے ہاتھ معصوم کشمیریوں کے خون سے رنگے ہیں تو آج وہ کس منہ سے ان کے گھر جاکر ہمدردی کررہی ہیں، میری جنگجوؤں کے اہل خانہ سے اپیل ہے کہ موصوفہ کو اپنے گھر میں آنے کی اجازت نہ دیں، یہ لوگ جب حکومت میں ہوتے ہیں تو ان کا لب ولہجہ اور ہوتا ہے اور جب یہ اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو ان کے طرز بیانات میں یکایک تبدیلی آجاتی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ محبوبہ مفتی کیلئے مگر مچھ کے آنسو بہانے کیلئے کون راستہ ہموار کررہا ہے ، یہ لوگ اس کے اور پی ڈی پی کے ایجنٹ ہیں۔ یہ لوگ اقتدار کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں اسلئے قوم ایسے لوگوں سے ہوشیار رہیں‘‘۔

