پلوامہ حملے کے بعد ہندپاک کے مابین کشیدگی میں اضافہ ،کرتارپور کو لیکر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات خطرے میں

By
1 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر: پلوامہ حملے کے بعد کرتارپورکوریڈورکے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والے پہلے باضابطہ مذاکرات کا انعقادخطرے میں پڑگیا ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پلوامہ حملے کے بعد بھارت کی پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی اور دھمکیوں کے بعد کرتارپورکوریڈورکے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے مابین ہونے والے پہلے باضابطہ مذاکرات کا انعقادخطرے میں پڑگیا ہے، جبکہ بھارتی ایجنسیوں نے سکھوں کومذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے پاکستان آنے سے روکنے کی مہم بھی شروع کردی، بھارت پہلے دن سے ہی کرتارپورکوریڈورکی تعمیرکے حوالے سے زیادہ گرم جوشی نہیں دکھا رہا۔پاکستان کرتارپورکوریڈورکی تعمیرکا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل کرچکا ہے جبکہ بھارت نے ابھی تک صرف ڈیرہ بابانانک پرچیک پوسٹ کے لیے جگہ حاصل کی ہے۔بھارت یہ الزام تراشی کرتا رہا ہے کہ پاکستان کرتارپورکوریڈورکے ذریعے خالصتان تحریک کودوبارہ متحرک کررہا ہے تاہم پاکستان نے ہمیشہ ان الزامات کی تردیدکی ہے۔کرتارپورکوریڈورکے حوالے سے سب سے فعال کرداراداکرنے والے بھارتی وزیرنوجوت سنگھ سدھوکو بھی تنقیدکا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

Share This Article