Blog

  • محکمہ اطلاعات میں تبادلے و تقرریاں ،شبیراحمد بٹ فیلڈ پبلسٹی آفیسر کشمیر تعینات

    محکمہ اطلاعات میں تبادلے و تقرریاں ،شبیراحمد بٹ فیلڈ پبلسٹی آفیسر کشمیر تعینات

    جموں و کشمیر حکومت نے محکمہ اطلاعات و رابطہ عامہ میں بڑے پیمانے پر رد و بدل کرتے ہوئے 17 افسران کے تبادلوں اور نئی تعیناتیوں کے احکامات جاری کیے ۔

    اس ضمن میں جاری ایک حکمنامہ کے مطابق شوکت حسین گنائی ( جے کے اے ایس ) ضلع انفارمیشن آفیسر شوپیان کو تبادلہ کرکے ضلع انفارمیشن آفیسر کولگام تعینات کیا گیا ہے۔

    اسی طرح سے ایرم عزیز (جے کے اے ایس جونیئر اسکیل)، ضلع انفارمیشن آفیسر بڈگام کو ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز میں انفارمیشن آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔

    حکمنامہ کے مطابق راجندر کمار ڈنگرا (JKAS جونیئر اسکیل)، ضلع انفارمیشن آفیسر کٹھوعہ کو کلچرل آفیسر جموں تعینات کیا گیا ہے، جبکہ ابھمنیو سنگھ (JKAS جونیئر اسکیل)، ضلع انفارمیشن آفیسر ڈوڈہ، جو اضافی طور پر ضلع انفارمیشن آفیسر کشتواڑ کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے تھے، انہیں آئندہ احکامات تک ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز (جموں و کشمیر)، نئی دہلی کے دفتر کے سپرد کیا گیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے جاری کردہ حکمنامہ کے مطابق شبیراحمد بٹ کو فیلڈ پبلسٹی آفیسر کشمیر تعینات کیا گیا ۔ شبیر احمد کو حالیہ میں پرموشن دی گئی تھی ۔ اسی طرح سے گرپریت سنگھ کو ضلع انفارمیشن آفیسر کٹھوعہ، لیاقت علی میر کو ضلع انفارمیشن آفیسر بڈگام، محمد اوئیس گورکو کو ضلع انفارمیشن آفیسر بانڈی پورہ، جبکہ نتیہ پال سنگھ کو ضلع انفارمیشن آفیسر رام بن تعینات کیا گیا ہے۔

    اسی طرح سے عادل منظور وانی (JKAS جونیئر اسکیل)، ضلع انفارمیشن آفیسر کپواڑہ کو ضلع انفارمیشن آفیسر بانڈی پورہ مقرر کیا گیا ہے۔دیگر تقرریوں میں راجندر پال سنگھ کو ڈی آئی پی آر میں ایڈیٹر تعینات کیا گیا ہے، جبکہ گلشن سمبریا نئی دہلی میں نائب ڈائریکٹر اطلاعات (جموں و کشمیر) کے دفتر میں بطور ایڈیٹر اپنی ڈیپوٹیشن پر خدمات جاری رکھیں گے۔اسی طرح مجیب احمد گنائی اور گلشن آراءکو ڈی آئی پی آر میں ایڈیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ گلشن آراءکو اس کے ساتھ ساتھ جوائنٹ ڈائریکٹر اطلاعات کشمیر کے دفتر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اطلاعات (اشتہارات) کا اضافی چارج بھی سونپا گیا ہے۔اس کے علاوہ پرویز احمد لون کو انفارمیشن آفیسر (یوتھ) کشمیر، سجاد احمد شاہ کو ضلع انفارمیشن آفیسر شوپیان، جبکہ ہردیپ سنگھ چودھری کو ضلع انفارمیشن آفیسر پونچھ مقرر کیا گیا ہے۔ انہیں آئندہ احکامات تک ضلع انفارمیشن آفیسر راجوری کا اضافی چارج بھی دیا گیا ہے۔حکومت نے اپنے حکم نامے میں واضح کیا ہے کہ تمام متعلقہ افسران کو ان کی موجودہ تعیناتیوں سے فوری طور پر فارغ تصور کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی نئی ذمہ داریاں بلا تاخیر سنبھال سکیں۔

  • سالانہ امرناتھ یاترا : 4,640 یاتریوں کا نیا قافلہ جموں سے وادی روانہ

    سالانہ امرناتھ یاترا : 4,640 یاتریوں کا نیا قافلہ جموں سے وادی روانہ

    سالانہ امرناتھ یاترا 2026 کے سلسلے میں جمعہ کی صبح جموں کے بھگوتی نگر یاتری نواس بیس کیمپ سے 4,640 یاتریوں پر مشتمل ایک تازہ قافلہ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان مقدس امرناتھ گھپا کی جانب روانہ ہوا۔

    سرکاری حکام کے مطابق یاتریوں کو 171 گاڑیوں کے قافلے کے ذریعے روانہ کیا گیا، جن میں ہلکی اور بھاری مسافر گاڑیاں شامل تھیں۔ روانہ ہونے والے یاتریوں میں 1,626 زائرین کو بالتل روٹ جبکہ 3,014 یاتریوں کو پہلگام روٹ کے لیے روانہ کیا گیا۔

    انتظامیہ کے مطابق پورے قافلے کی حفاظت کے لیے کثیر سطحی سیکورٹی گرڈ قائم کیا گیا ہے، جس کے تحت جموں و کشمیر پولیس، سیکورٹی فورسز، سول انتظامیہ اور شری امرناتھ شرائن بورڈ باہمی اشتراک سے یاترا کے پرامن، محفوظ اور منظم انعقاد کو یقینی بنا رہے ہیں۔

  • بھدرواہ فائرنگ واقعہ: نوجوان جاں بحق ، ایس او جی کے تین اہلکار زخمی

    بھدرواہ فائرنگ واقعہ: نوجوان جاں بحق ، ایس او جی کے تین اہلکار زخمی

    ضلع ڈوڈہ کے بھدرواہ علاقے میں جمعرات کی دیر رات پیش آئے ایک فائرنگ کے واقعے میں نوجوان جاں بحق جبکہ اسپیشل آپریشنز گروپ کے تین اہلکار زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ ایک مذہبی مبلغ کو بھی پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لیا گیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق ایس او جی کی ایک ٹیم نے خفیہ اطلاع ملنے پر بھدرواہ قصبے سے تقریباً 35 کلومیٹر دور جائی-گنڈوہ روڈ پر ایک اونچائی والے علاقے میں مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع کے بعد گھات لگا رکھی تھی۔

    حکام کے مطابق رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ایک نوجوان کو روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم الزام ہے کہ اس نے اہلکاروں پر حملہ کرتے ہوئے ایک سرکاری سروس رائفل چھیننے کی کوشش کی۔ اس دوران ہاتھا پائی شروع ہوگئی، جس کے دوران ایس او جی کے ایک اہلکار نے گولی چلائی۔

    فائرنگ کے نتیجے میں نوجوان شدید زخمی ہوگیا جبکہ تین پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر سب ڈسٹرکٹ اسپتال بھدرواہ منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں بہتر علاج کے لیے گورئمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ ریفر کیا گیا۔

    حکام نے بتایا کہ زخمی نوجوان کی شناخت 30سال عارف حسین ولد ساکنہ چیکہ گاو¿ں کے طور پر ہوئی ہے، جو دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

    پولیس نے اس واقعے کے سلسلے میں ایک مذہبی مبلغ کو بھی حراست میں لیا ہے۔ تاہم حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اس کا واقعے سے تعلق یا کردار واضح نہیں ہو سکا ہے اور اس سے تفتیش جاری ہے۔

  • وادی کتابوں کی خوشبو سے معطر: چنار بک فیسٹیول 18 سے 26 جولائی سرینگر میں سجنے کو تیار

    وادی کتابوں کی خوشبو سے معطر: چنار بک فیسٹیول 18 سے 26 جولائی سرینگر میں سجنے کو تیار

    رپورٹ : اعجاز ڈار

    کشمیر ایک بار پھر علم، ادب اور ثقافت کے رنگوں میں رنگنے جا رہا ہے۔ دلکش ڈل جھیل کے حسین پس منظر میں چنار بک فیسٹیول 2026 کا تیسرا ایڈیشن 18 سے 26 جولائی تک شیر کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر میں منعقد ہوگا، جہاں ملک بھر کے معروف ادیب، مصنفین، شاعر، ناشرین، فنکار، طلبہ اور کتاب دوست افراد ایک ہی چھت تلے جمع ہوں گے۔

    نو روزہ اس عظیم الشان ادبی و ثقافتی میلے کا انعقاد نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا، وزارت تعلیم، حکومت ہند، ضلعی انتظامیہ سرینگر اور نیشنل کونسل فار پروموشن آف اردو لینگویج کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔ فیسٹیول کا مقصد مطالعے کے فروغ، ادبی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی اور نوجوان نسل کو کتابوں سے جوڑنا ہے۔

    فیسٹیول میں ملک بھر کے 200 سے زائد پبلشراپنے اسٹال لگائیں گے جہاں اردو، کشمیری، ہندی، انگریزی اور دیگر ہندوستانی زبانوں کی ہزاروں کتابیں رعایتی قیمتوں پر دستیاب ہوں گی۔ یہ میلہ قارئین، طلبہ، محققین اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے ایک منفرد موقع ثابت ہوگا۔

    چنار بک فیسٹیول کا باقاعدہ افتتاح 18 جولائی کو جموں و کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کریں گے۔ افتتاحی تقریب میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ اسکولی تعلیم، محکمہ اعلیٰ تعلیم، این سی پی یو ایل اور نیشنل بک ٹرسٹ کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوں گے۔

    فیسٹیول سے قبل ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لابرو نے ڈل جھیل میں مشہور شکاراو¿ں پر مبنی منفرد ادبی مہم ”شکاراتھون “کا افتتاح کیا، جس کا مقصد مطالعے کو ایک عوامی تحریک میں تبدیل کرنا ہے۔ اسی موقع پر فیسٹیول کا نعرہ ”مل کر پڑھیں گے، مل کر بڑھیں گے “بھی جاری کیا گیا، جو تعلیم اور اجتماعی ترقی کے عزم کی علامت ہے۔

    ڈپٹی کمشنر اکشے لابرو نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ چنار بک فیسٹیول صرف کتابوں کی نمائش نہیں بلکہ سیکھنے، تخلیقی اظہار اور نئی سوچ کو فروغ دینے کا ایک منفرد پلیٹ فارم ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو ممتاز ادیبوں، سائنس دانوں، فلمی شخصیات، فنکاروں اور مختلف شعبوں کے ماہرین سے براہ راست ملاقات اور تبادلہ خیال کا نادر موقع حاصل ہوگا۔

    نیشنل بک ٹرسٹ، انڈیا کے ڈائریکٹر یوراج ملک نے بتایا کہ اس سال فیسٹیول میں 800 سے زائد ادیب، شاعر، فنکار، کیوریٹر اور ثقافتی شخصیات شرکت کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقریب جموں و کشمیر کے سب سے بڑے ادبی و ثقافتی میلوں میں شمار ہوگی۔

    چنار بک فیسٹیول کے چیف کنوینر ڈاکٹر امت وانچو نے بتایا کہ اس سال خصوصی ”انوویٹرز میٹ “کا بھی انعقاد کیا جائے گا، جس میں شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور یونیورسٹی آف کشمیر کے نوجوان موجد اپنی ایجادات، اسٹارٹ اپس اور اختراعی منصوبے پیش کریں گے۔

    اس دوران این سی پی یو ایل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ اس سال فیسٹیول میں اردو زبان و ادب کو خصوصی مقام دیا گیا ہے۔ مشاعروں، ادبی نشستوں اور مختلف پروگراموں کے ذریعے اردو کے فروغ کے لیے بھرپور سرگرمیاں منعقد ہوں گی۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اردو کے اس ادبی جشن میں بھرپور شرکت کریں۔

    فیسٹیول کے دوران کتابوں کی رونمائی، ادبی مذاکرے، مصنفین سے ملاقاتیں، تخلیقی ورکشاپس، کہانی گوئی، بچوں کی سرگرمیاں، صوفیانہ موسیقی، ثقافتی شامیں اور متعدد علمی نشستیں منعقد ہوں گی۔

    اس سال گوجری ترجمہ ورکشاپ کے تحت تیار کی گئی 24 دو لسانی کتابوں کی رونمائی بھی ہوگی، جبکہ راج ترنگنی سمواد منصوبے کے تحت کشمیر کی تاریخی شخصیات پر مبنی ناولوں کی پہلی سیریز بھی قارئین کے سامنے پیش کی جائے گی۔

    فیسٹیول میں صحافت، کہانی نویسی، اردو اور کشمیریت، قومی تعلیمی پالیسی، خواتین کی قیادت، نوجوانوں کا کردار، ہندوستانی سنیما، دستکاری، ماحولیات، عوامی پالیسی اور کشمیر کی ادبی تاریخ سمیت کئی اہم موضوعات پر ممتاز ماہرین اظہارِ خیال کریں گے۔

    چلڈرنز کارنر میں بچوں کے لیے کہانی گوئی، تخلیقی ورکشاپس، مطالعاتی سرگرمیاں اور دلچسپ پروگرام منعقد کیے جائیں گے تاکہ نئی نسل میں کتاب بینی کا شوق پروان چڑھے۔ اس کے علاوہ شرکا راشٹریہ ای-پستکالیہ کے ذریعے ہزاروں مفت ای کتابوں سے بھی استفادہ کر سکیں گے۔

    فیسٹیول کی ایک نئی اور منفرد سرگرمی فائیو کے ریڈنگ رن ہوگی، جو شکشا سپتاہ 2026 کا حصہ ہے۔ اس میں ہزاروں طلبہ شرکت کریں گے اور مطالعے، صحت مند طرزِ زندگی اور مسلسل سیکھنے کے پیغام کو فروغ دیا جائے گا۔

    18 سے 26 جولائی تک جاری رہنے والا چنار بک فیسٹیول نہ صرف کتابوں کی نمائش بلکہ علم، ادب، ثقافت، تخلیقی صلاحیتوں اور نوجوانوں کی فکری تربیت کا ایک جامع پلیٹ فارم ہوگا۔ منتظمین نے طلبہ، اساتذہ، ادیبوں، محققین، اہلِ خانہ اور کتابوں سے محبت رکھنے والے تمام افراد کو دعوت دی ہے کہ وہ اس عظیم الشان ادبی جشن میں شریک ہو کر کشمیر کی علمی و تہذیبی روایت کو مزید مضبوط بنائیں۔

  • گرمی کی تپش :34.2ڈگری کے ساتھ سرینگر میں گرم ترین دن درج

    گرمی کی تپش :34.2ڈگری کے ساتھ سرینگر میں گرم ترین دن درج

    وادی کشمیر میں گرمی کی تپش جاری ہے اور جمعرات کو ایک بار پھر گرم ترین دن درج ہوا ۔محکمہ موسمیات کے مطابق وادی کشمیر میں جاری ریکارڈ گرمی کے بیچ سرینگر میں ایک بار پھر گرم ترین درج ہوا جس دوران دن کا درجہ حرارت 34.2ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا جبکہ جموں میں 36.4ڈگری سیلشس کے ساتھ گرم ترین دن درج ہوا ۔ادھر سرینگر کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر میں بھی دن انتہائی گرم ہو رہے ہیں اور محکمہ موسمیات نے 18جولائی تک گرمیاں مزید بڑھنے کی پیشگوئی کی ہے ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کو ایک بار پھر دن میں شدید گرمی ریکارڈ ہوئی اور دن کا درجہ حرارت 34.2ڈگری کو چھو گیا ۔

    محکمہ موسمیات نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ سرینگر میں دن کا درجہ حرارت 34.2ڈگری سیلشس ، جموں میں 36.5، قاضی گنڈ میں 32.5سیلشس ،پہلگام میں28ڈگری سیلشس ، کوکرناگ میں 32.4سیلشس درج کیا ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ شہرہ آفاق گلمرگ میں دن کا درجہ حرارت 24ڈگری سیلشس ریکارڈ کیا گیا ۔ سرینگر میں موسمیاتی مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مختیار احمد نے کہا کہ یاترا کے محور سمیت جموں و کشمیر بھر میں موسم 18جولائی تک گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے۔

  • انجینئر رشید کو حراستی پیرول پر پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں شرکت کی اجازت مل گئی

    انجینئر رشید کو حراستی پیرول پر پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں شرکت کی اجازت مل گئی

    دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے جیل میں بند ممبر پارلیمنٹ انجینئر رشید کو پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس میں حراست کے دوران شرکت کی اجازت دے دی ہے۔

    خصوصی این آئی اے جج پرشانت شرما نے انجینئر رشید کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے انہیں 20 جولائی سے 13 اگست تک جاری رہنے والے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے تمام دنوں میں حراستی پیرول پر شرکت کی اجازت دی۔ عدالت نے اس سلسلے میں حکم جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ انجینئر رشید کو سخت حفاظتی انتظامات کے تحت پولیس کی نگرانی میں پارلیمنٹ لایا اور واپس جیل منتقل کیا جائے گا۔

    عدالتی کارروائی اِن کیمرا (بند کمرہ) میں انجام دی گئی، جس میں عوام یا میڈیا کو شرکت کی اجازت نہیں تھی۔

  • لیفٹنٹ گورنر کی ماتا ویشنو دیوی مندر میں حاضری

    لیفٹنٹ گورنر کی ماتا ویشنو دیوی مندر میں حاضری

    لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے ماتا ویشنو دیوی مندر میں حاضری دی اور امن، صحت اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعاکی ۔ لیفٹنٹ گورنر نے حاضری کے دوران عوام کی فلاح و بہبود، بھائی چارے، خوشحالی اور دیرپا امن کے لیے دعا کرتے ہوئے اس مقدس مقام کی روحانی اہمیت کو اجاگر کیا۔

    انہوں نے دعا کی کہ ماتا ویشنو دیوی جی کی کرپا سے ہر گھر میں خوشیاں، سکون اور خوشحالی آئے اور ملک مزید ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔واضح رہے کہ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا مختلف مذہبی مواقع پر مقدس مقامات کی زیارت کرتے رہتے ہیں اور عوام کی سلامتی، خوشحالی اور جموں و کشمیر میں امن و استحکام کیلئے دعائیں کرتے ہیں۔ ان کی آج کی ماتا ویشنو دیوی کے دربار میں حاضری بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی قرار دی جا رہی ہے۔

  • سرکاری تقریبات اور حساس مقامات تک رسائی کیلئے ڈی آئی او کا میڈیا شناختی کارڈ لازمی/بارہمولہ پولیس کا اہم قدم

    سرکاری تقریبات اور حساس مقامات تک رسائی کیلئے ڈی آئی او کا میڈیا شناختی کارڈ لازمی/بارہمولہ پولیس کا اہم قدم

    رپورٹ : مجید شیری

    سرکاری تقریبات کے دوران سیکورٹی انتظامات کو مزید مو¿ثر بنانے، رسائی کو منظم رکھنے اور غیر مجاز افراد کے داخلے کو روکنے کے مقصد سے بارہمولہ پولیس نے ہم حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ داخلے کیلئے ضلع انفارمیشن افسر بارہمولہ کی جانب سے جاری کردہ دست اور قابل عمل میڈیا شناختی کارڈ کا ہونا لازمی ہوگا۔

    تفصیلات کے مطابق ضلع پولیس ہیڈکوارٹر بارہمولہ نے میڈیا نمائندوں کیلئے ایک اہم ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب سرکاری تقریبات، وی وی آئی پی اور وی آئی پی دوروں، مذہبی اجتماعات، عوامی پروگراموں، پولیس تعیناتی والے علاقوں اور دیگر حساس یا محدود رسائی والے مقامات پر داخلے کے لیے ضلع افارمیشن افسر بارہمولہ کی جانب سے جاری کردہ درست اور قابلِ عمل میڈیا شناختی کارڈ کا ہونا لازمی ہوگا۔

    یہ حکم سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بارہمولہ گ±ریندر پال سنگھ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ سرکاری تقریبات کے دوران سیکورٹی انتظامات کو مزید مو¿ثر بنانے، رسائی کو منظم رکھنے اور غیر مجاز افراد کے داخلے کو روکنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔

    حکم نامے کے مطابق صرف وہی صحافی سرکاری پروگراموں، میڈیا انکلوڑرز، تعیناتی والے علاقوں اور دیگر محدود مقامات تک رسائی حاصل کر سکیں گے جو ڈی آئی او بارہمولہ کی جانب سے جاری کردہ درست شناختی کارڈ پیش کریں گے۔

    پولیس نے تمام ڈیوٹی پر مامور افسران اور اہلکاروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام داخلی راستوں، ناکوں اور چیکنگ پوائنٹس پر میڈیا نمائندوں کی شناخت اور اسناد کی مکمل جانچ کریں۔ بغیر مجاز شناختی کارڈ کے کسی بھی شخص کو، خواہ وہ خود کو پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل یا سوشل میڈیا سے وابستہ ظاہر کرے، کسی بھی سرکاری یا محدود رسائی والے مقام میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    ایس ایس پی بارہمولہ نے تمام نگران افسران کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ اس حکم پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی یا غیر مجاز رسائی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور متعلقہ افراد کے خلاف مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔یہ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے اور آئندہ احکامات جاری ہونے تک مو¿ثر رہے گا۔

    پولیس کی جانب سے جاری حکم کی نقول ضلع مجسٹریٹ بارہمولہ، ضلع اطلاعاتی افسر، سینئر پولیس افسران اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ اس پر مو¿ثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے اور میڈیا برادری کو بھی اس نئی ہدایت سے بروقت آگاہ کیا جا سکے

  • وزیر اعلیٰ کی پوری توجہ صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود/ آغا روح اللہ

    وزیر اعلیٰ کی پوری توجہ صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود/ آغا روح اللہ

    اپنی ہی جماعت کی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمان سید آغا روح اللہ مہدی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے اسمبلی انتخابات سے قبل جموں و کشمیر کے عوام سے کیے گئے وعدوں کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اب ان کی پوری توجہ صرف ریاستی درجے کی بحالی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

    اننت ناگ میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمنٹ آغا روح اللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے انتخابات سے قبل عوام سے وعدہ کیا تھا کہ 5 اگست 2019 کے بعد جموں و کشمیر سے جو آئینی اور سیاسی حقوق چھینے گئے، انہیں بحال کرنے کے لیے بھرپور جدوجہد کی جائے گی۔ تاہم، ان کے بقول حکومت بننے کے بعد وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس وسیع تر ایجنڈے کو ترک کر دیا ہے اور اب صرف ریاستی درجے کی بحالی کی بات کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا ”عمر عبداللہ اب صرف اس لیے ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ وہ اپنی طاقت واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں، نہ کہ عوام کی خواہشات یا انتخابات سے پہلے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے ہیں “ آغا روح اللہ نے مزید کہا کہ ریاستی درجے کی بحالی تو پہلے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اپنے روڈ میپ کا حصہ قرار دی جا چکی ہے، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیشنل کانفرنس نے اپنی سیاسی جدوجہد کو صرف اسی ایک مطالبے تک کیوں محدود کر دیا ہے۔

  • پولیس سربراہ کا سرینگر کے کارگو کمپلیکس کا دورہ،اہلکاروں اور افسران سے ملاقات کی

    پولیس سربراہ کا سرینگر کے کارگو کمپلیکس کا دورہ،اہلکاروں اور افسران سے ملاقات کی

    جموں کشمیر پولیس سربراہ نلین پربھات نے سرینگر کے کارگو کمپلیکس کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اسپیشل آپریشنز گروپ کے اہلکاروں اور افسران سے ملاقات کی، ان کی پیشہ ورانہ کارکردگی کا جائزہ لیا اور وادی کشمیر میں امن و امان کے قیام، انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور عوامی تحفظ کے لیے ان کی گرانقدر خدمات کو سراہا۔

    ڈی جی پی کے ہمراہ انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون وی کے بردی، سینئر پولیس افسران اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران انہیں کارگو کمپلیکس میں تعینات ایس او جی یونٹ کی مجموعی کارکردگی، آپریشنل تیاری، حفاظتی انتظامات اور موجودہ سکیورٹی صورتحال سے متعلق بریفنگ دی گئی۔اس موقع پر ڈی جی پی نلین پربھات نے ایس او جی اہلکاروں سے فرداً فرداً ملاقات کی، ان کے مسائل دریافت کیے اور ان کے بلند حوصلے، پیشہ ورانہ مہارت، فرض شناسی اور جذبہ خدمت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس کے جوان انتہائی مشکل اور حساس حالات میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں، جس کے باعث خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔