Blog

  • موسمی پیشگوئی: اسکولوں میں گرمائی تعطیلات میں26جولائی تک توسیع / سکینہ ایتو

    موسمی پیشگوئی: اسکولوں میں گرمائی تعطیلات میں26جولائی تک توسیع / سکینہ ایتو

    حکومت جموں و کشمیر نے خراب موسمی صورتحال اور طلبہ و اساتذہ کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے کشمیر اور جموں کے سرمائی زون کے تمام سرکاری اور تسلیم شدہ نجی اسکولوں کی گرمیوں کی تعطیلات میں 26 جولائی 2026 تک توسیع کر دی ہے۔

    وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ، اساتذہ اور ان کے اہل خانہ کی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اسی لیے تعطیلات میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ کشمیر اور جموں کے سرمائی زون کے تمام سرکاری و نجی تسلیم شدہ اسکول اب پیر، 27 جولائی 2026 سے دوبارہ کھلیں گے۔

    وزیرِ تعلیم نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خراب موسم کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، محفوظ رہیں اور متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات اور موسمی مشوروں پر عمل کریں۔

  • نیٹ پیپر لیک معاملہ : ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہو گی /وزیر اعظم مودی

    نیٹ پیپر لیک معاملہ : ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہو گی /وزیر اعظم مودی

    وزیر اعظم نریندر مودی نے اعلان کیا ہے کہ نیٹ پیپر لیک معاملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہو گی تاکہ کوئی بھی نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے کی جرات نہ کرے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مستقبل میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات روکنے کے لیے تمام ریاستی حکومتوں کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ یہ قومی مفاد کا معاملہ ہے۔

    نئی دہلی میں این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ مستقبل میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات روکنے کے لیے تمام ریاستی حکومتوں کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ یہ قومی مفاد کا معاملہ ہے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رججو نے بتایا کہ وزیر اعظم نے کہا کہ جیسے ہی نیٹ پیپر لیک کی اطلاعات سامنے آئیں، حکومت نے فوری کارروائی کی اور 13 ملزمان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔

  • ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے دہلی احتجاج کسی مہم کا اختتام نہیں بلکہ نئی جدوجہد کا آغاز/ عمر عبد اللہ

    ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے دہلی احتجاج کسی مہم کا اختتام نہیں بلکہ نئی جدوجہد کا آغاز/ عمر عبد اللہ

    دہلی میں جموں کشمیر کے ریاستی درجہ کے مطالبہ کے حق میں کیا گیا احتجاج صرف ایک آغاز ہے، اختتام نہیں کی بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ نیشنل کانفرنس مرکز کو اس کے وعدے مسلسل یاد دلاتی رہے گی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو خوش کرنے کے لیے اپنے سیاسی ایجنڈے پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

    سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا احتجاج صرف آغاز ہے ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر اسمبلی نے خودمختاری کی بحالی کے حق میں ایک قرارداد منظور کی تھی، لیکن اس قرارداد کو جان بوجھ کر غلط انداز میں پیش کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جب اسمبلی میں خودمختاری کی قرارداد منظور ہوئی تو یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کو بھارت سے الگ کرنا یا پاکستان کے ساتھ ملانا چاہتی ہے، حالانکہ یہ الزامات صرف ان کی سیاسی جدوجہد کو بدنام کرنے کیلئے لگائے گئے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اس طرح کے تمام پروپیگنڈے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ اسمبلی کی قرارداد سے مرکزی حکومت ناخوش تھی، جس کے بعد جموں و کشمیر کی عوامی آواز کو کمزور کرنے کیلئے نئی سیاسی جماعتوں اور گروہوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی اسی حکمت عملی کے تحت عوام کی آواز کو تقسیم اور کمزور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ دہلی احتجاج کا بنیادی مقصد مرکز کو ان وعدوں کی یاد دہانی کرانا تھا جو اس نے جموں و کشمیر کے عوام سے کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت تمام سیاسی جماعتوں کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دی گئی، کیونکہ ریاستی درجے کی بحالی صرف نیشنل کانفرنس کا نہیں بلکہ پورے جموں و کشمیر کے عوام کا مسئلہ ہے۔

    انہوں نے ان علاقائی سیاسی جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے احتجاج میں شرکت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض جماعتیں نہ صرف خود شریک نہیں ہوئیں بلکہ انہوں نے اس مہم کا مذاق بھی اڑایا۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ انہیں اس بات کی فکر نہیں کہ مرکز ان کے احتجاج پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے، لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جو لوگ خود کو جموں و کشمیر کا خیرخواہ کہتے ہیں، وہ ایسے اہم مواقع پر اپنی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔دفعہ 370 اور خصوصی حیثیت کے حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے کبھی بھی اپنے بنیادی سیاسی ایجنڈے سے دستبرداری اختیار نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ پارٹی دفعہ 370 یا خصوصی حیثیت کی بات کیوں نہیں کرتی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیشنل کانفرنس نے کبھی اپنا مو¿قف تبدیل نہیں کیا، جبکہ دیگر جماعتوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے ساتھ سیاسی مفاہمت کیلئے اپنے نظریاتی ایجنڈے ترک کر دیے۔

    انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ریاستی درجے کی بحالی اور جموں و کشمیر اور مرکز کے درمیان آئینی اختیارات کی تقسیم ہے۔ ان کے مطابق اگر ریاستی درجہ ہی موجود نہ ہو تو دفعہ 370 یا دفعہ 371جیسی آئینی دفعات کی عملی اہمیت بھی باقی نہیں رہتی۔ انہوں نے کہا کہ خواہ اس کا نام دفعہ 370 ہو یا کچھ اور، اصل مسئلہ یہ ہے کہ جموں و کشمیر کو آئینی طور پر وہ اختیارات واپس ملیں جو ایک ریاست کو حاصل ہوتے ہیں، اور یہ صرف ریاستی درجے کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔

  • امن اور بھائی چارے کا پیغام : ہند پاک دوستی میلہ 14 اور 15 اگست کو امرتسر میں ہوگا

    امن اور بھائی چارے کا پیغام : ہند پاک دوستی میلہ 14 اور 15 اگست کو امرتسر میں ہوگا

    گزشتہ تین دہائیوں سے ہند پاک دوستی کے فروغ کے لیے سرگرم تنظیموں ہند پاک دوستی منچ اور فولکلور ریسرچ اکیڈمی نے اعلان کیا ہے کہ اس سال بھی 14 اور 15 اگست کو ہند پاک دوستی میلہ منعقد کیا جائے گا۔

    اس سلسلے میں آج ورسہ وہار، امرتسر میں ایک اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت ہند پاک دوستی منچ کے جنرل سیکریٹری ستنام مانک اور فولکلور ریسرچ اکیڈمی کے صدر رمیش یادو نے کی۔ اجلاس میں کسان رہنماو¿ں، ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی اور میلے کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ستنام مانک نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے 95 فیصد عوام دونوں ممالک کے درمیان امن، دوستی اور بھائی چارہ چاہتے ہیں، تاہم حکومتی پالیسیوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حالات اسی طرح رہے تو یہ کشیدگی کسی بڑے اور خطرناک تصادم، حتیٰ کہ ایٹمی جنگ کی صورت بھی اختیار کر سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہند پاک دوستی منچ، کیرتی کسان یونین، قومی کسان سبھا، پنجاب کسان یونین (رلدو) اور ان کی اتحادی تنظیمیں گزشتہ 30 برسوں سے ہر سال 14 اور 15 اگست کو ہند پاک دوستی میلہ منعقد کرتی آ رہی ہیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات اور امن کے پیغام کو فروغ دیا جا سکے۔

    انہوں نے بتایا کہ 14 اگست کی دوپہر ایک سیمینار منعقد کیا جائے گا، جبکہ اسی روز شام اور رات کو بھارت-پاکستان سرحد پر شمعیں روشن کر کے دونوں ممالک کے درمیان امن، دوستی اور بہتر تعلقات کے لیے دعائیں کی جائیں گی۔

    فولکلور ریسرچ اکیڈمی کے صدر رمیش یادو نے اجلاس میں شریک تمام شخصیات کا خیرمقدم کیا اور 14 اگست کو منعقد ہونے والے پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں مختلف کسان رہنماو¿ں، ادیبوں اور دانشوروں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، جبکہ آخر میں کمرجیت کور جسّال نے تمام شرکائ کا شکریہ ادا کیا۔

  • کشمیر میں جاری خراب موسمی حالات کے پیش نظر پوری انتظامیہ ہائی الرٹ /صوبائی کمشنر کشمیر

    کشمیر میں جاری خراب موسمی حالات کے پیش نظر پوری انتظامیہ ہائی الرٹ /صوبائی کمشنر کشمیر

    صوبائی کمشنر کشمیر انشول گرگ نے کہا کہ شدید بارشوں اور موسمی پیشگوئی کے چلتے وادی بھر میں تمام اضلاع میں 24 گھنٹے فعال کنٹرول رومز قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ موسم کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا سکے اور کسی بھی ایمرجنسی میں فوری کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، ایمرجنسی سروسز اور دیگر متعلقہ محکموں کو باہمی رابطہ مضبوط رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ خراب موسم کے ممکنہ اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے اور عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ تمام سرکاری محکموں کو ہر قسم کی موسمی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ فیلڈ افسران کو حساس اور خطرناک مقامات پر مسلسل نگرانی کرنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    صوبائی کمشنر نے امرناتھ یاترا یاترا کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ یاترا سے متعلق تمام فیصلے صرف اور صرف محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ موسمی پیش گوئیوں اور سرکاری ایڈوائزریز کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا ”یاتریوں کی جان و سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔ یاترا کی نقل و حرکت یا دیگر انتظامات سے متعلق ہر فیصلہ موجودہ موسمی حالات اور آئی ایم ڈی کی سرکاری پیش گوئی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا“۔

  • شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ ، سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک معطل

    شدید بارشوں کے باعث لینڈ سلائیڈنگ ، سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک معطل

    مسلسل موسلا دار بارش کے باعث جموںسرینگر قومی شاہراہ پر کئی مقامات پر تازہ لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے سے ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہوئی، جبکہ متعلقہ اداروں نے شاہراہ کی بحالی کے لیے مختلف مقامات پر کام تیز کر دیا ہے۔

    حکام کے مطابق ادھم پور اور رام بن اضلاع میں شدید بارش کے نتیجے میں خاص طور پر شاردہ ماتا مندر اور تھارا کے قریب مٹی کے تودے اور پتھر گرنے کے واقعات پیش آئے، جس سے مسافروں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا اور شاہراہ کی بحالی کا عمل بھی متاثر ہوا۔

    حکام نے بتایا کہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا ، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ ایجنسیاں مشترکہ طور پر شاہراہ سے ملبہ ہٹانے اور ٹریفک بحال کرنے میں مصروف ہیں۔ مسافروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ سفر سے قبل تازہ ترین ٹریفک ایڈوائزری ضرور چیک کریں۔

  • منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم کے پہلے 100 دن کامیابی سے مکمل، آگے مزید سخت کارروائی ہوگی/لیفٹنٹ گورنر

    منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم کے پہلے 100 دن کامیابی سے مکمل، آگے مزید سخت کارروائی ہوگی/لیفٹنٹ گورنر

    جموں و کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ ڈرگ فری جموں و کشمیر مہم کے پہلے 100 دنوں کی کامیاب تکمیل نے آئندہ منشیات اور نارکو دہشت گردی کے خلاف مزید مو¿ثر اور سخت جدوجہد کی مضبوط بنیاد رکھ دی ہے۔

    منگل کو محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ اگرچہ پہلے سو دنوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، تاہم یہ مہم ابھی اپنے اختتام کو نہیں پہنچی بلکہ اصل مقصد منشیات کے مکمل خاتمے تک اس جدوجہد کو جاری رکھا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت منشیات فروش گروہوں اور نوجوانوں کو نشانہ بنانے والے نارکو دہشت گردی کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پ±رعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی منشیات کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے، عوامی بیداری میں اضافہ کرنے اور متاثرہ افراد کی مو¿ثر بازآبادکاری کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل رکھا گیا ہے تاکہ وہ دوبارہ ایک باوقار زندگی گزار سکیں۔

  • سرینگر  کے تجارتی مراکز زیر آب آنے کا مسئلہ فوری حل کیا جائے:کشمیر ٹریڈ الائنس

    سرینگر کے تجارتی مراکز زیر آب آنے کا مسئلہ فوری حل کیا جائے:کشمیر ٹریڈ الائنس

    سرینگر//20 جولائی//کشمیر ٹریڈ الائنس نے حالیہ موسلا دھار بارشوں کے بعد سرینگر کے مختلف بازاروں اور تجارتی مراکز میں بار بار پانی جمع ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے اس دیرینہ مسئلے کے مستقل اور مؤثر حل کے لیے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کے ٹی اے کے صدراعجازشہدار نے ایک بیان میں کہا کہ بارش کے بعد شہر کے متعدد بازاروں اور تجارتی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، خریداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور شہر کے نکاسیٔ آب کے نظام کی خامیاں ایک بار پھر کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پانی جمع ہونے کے مسئلے کو عارضی اقدامات کے بجائے ایک جامع، سائنسی اور طویل مدتی حکمت عملی کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ہر بار شدید بارش کے دوران بازاروں اور سڑکوں کے زیرِ آب آنے سے تاجروں کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے، دکانوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچتا ہے جبکہ عام شہریوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    اعجاز شہدار نے کہا کہ شہر میں موجود متعدد چھوٹے سیوریج نالے یا تو بند پڑے ہیں، یا خستہ حال ہیں، یا فوری مرمت کے متقاضی ہیں، جس کے باعث بارش کے پانی کی نکاسی کی صلاحیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے متعلقہ محکموں سے مطالبہ کیا کہ تمام نالوں کی بروقت صفائی (ڈی سلٹنگ)، مرمت اور سائنسی بنیادوں پر استعمال کو یقینی بنایا جائے تاکہ بارش کا پانی تیزی سے خارج ہو سکے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ڈرینیج نیٹ ورک کی باقاعدہ دیکھ بھال، پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بننے والی تجاوزات کا خاتمہ اور بارش کے پانی کے انتظام کے نظام (اسٹورم واٹر مینجمنٹ) کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں شدید بارشوں کے دوران اس طرح کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔

    کشمیر ٹریڈ الائنس نے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ سرینگر کے ڈرینیج انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے، بازاروں کو پانی جمع ہونے کے مسئلے سے نجات دلانے اور تاجروں، شہریوں اور سیاحوں کو مستقل راحت فراہم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ بار بار بازاروں زیر آب آنے سے تاجروں کو کافی مالی نقصانات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔

  • ایڈوکیٹ فیاض احمد قوئل کو صدمہ ، بار ایسوسی ایشن پلوامہ کی جانب سے تعزیت پرسی

    ایڈوکیٹ فیاض احمد قوئل کو صدمہ ، بار ایسوسی ایشن پلوامہ کی جانب سے تعزیت پرسی

    بار ایسوسی ایشن پلوامہ نے ایڈووکیٹ فیاض احمد ساکنہ قوئل پلوامہ کے چچا کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

    بار ایسوسی ایشن پلوامہ کے ایگزیکٹو باڈی اور تمام اراکین کی جانب سے جاری ایک تعزیتی پیغام میں ایڈووکیٹ فیاض احمد قوئل اور ان کے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس ناقابلِ تلافی نقصان پر گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا۔

    تعزیتی پیغام میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں جگہ عطا کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، اور پسماندگان کو اس عظیم صدمے کو صبر، حوصلے اور استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    بار ایسوسی ایشن پلوامہ نے اس غم کی گھڑی میں ایڈووکیٹ فیاض احمد قوئل اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی اور تمام لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

  • رات بھر کی موسلادھار بارش نے سرینگر کو زیر آب کردیا، کئی علاقے زیر آب

    رات بھر کی موسلادھار بارش نے سرینگر کو زیر آب کردیا، کئی علاقے زیر آب

    کشمیر میں رات بھر ہونے والی موسلا دھار بارش نے پیر کو سری نگر کے کئی حصے پانی میں ڈوب گئے ، محکمہ موسمیات نے 23 جولائی تک جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے ۔

    بارش کے اعداد و شمار کے مطابق گاندربل میں 46.0 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جب کہ سری نگر میں 45.6 ملی میٹر بارش ہوئی، جس سے شہر کے کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا اور صبح کے وقت مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔دیگر بڑے مراکز میں سوپور میں 55.4 ملی میٹر، گلمرگ میں 8.2 ملی میٹر، پہلگام میں 3.2 ملی میٹر، کپواڑہ میں 0.8 ملی میٹر، اننت ناگ میں 1.0 ملی میٹر، پلوامہ میں 2.0 ملی میٹر، بانڈی پورہ میں 10.5 ملی میٹر، بڈگام میں 15.0 ملی میٹر اورقاضی گنڈ میں 0.1 بارش ریکارڈ کی گئی۔ ۔فی الحال کشمیر میں پانی کی سطح مکمل طور پر نارمل ہے ۔

    محکمہ موسمیات نے جمعرات تک جموں و کشمیر میں ہلکی سے درمیانی بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے ۔محکمہ نے وسیع پیمانے پر درمیانے درجے سے بھاری بارش اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے ، جس سے مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے کئی حصوں میں بارش کی سرگرمیوں میں اضافہ کا اشارہ ملتا ہے ۔حکام نے لوگوں کو چوکس رہنے کا مشورہ دیا ہے ، خاص طور پر نشیبی اور پانی بھرے علاقوں میں کیوں کہ وقفے وقفے سے بارش جاری رہنے کی توقع ہے ۔