اوڑی :حد متارکہ پر شدید ترین اور خوفناک گولہ باری

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

تین رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا، لوگوں میںخوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی

سرینگر:کنٹرول لائن کے اوڑی سیکٹر میں ہند پاک افواج کے درمیان اپنی نوعیت کی شدید ترین اور خوفناک گولہ باری میں3رہائشی مکانات کو نقصان پہنچاجبکہ درجنوں گولیاںمکانوں کے اندر دیواروں پر جالگیں جس کے نتیجے میں حد متارکہ کے متصل دیہات میں رہنے والے لوگوں میںخوف و دہشت پھیل گئی۔زوردار شیلنگ اورفائرنگ کی گھن گرج کے دوران سرحدی بستیوں کے لوگ اپنے گھروں میں سہم کر رہ گئے اور فائرنگ تھم جانے کے ساتھ ہی کئی علاقوں سے بچوں اور خواتین سمیت لوگوںکی ایک بڑی تعداد محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوگئی۔

تاہم کشیدہ صورتحال کے باوجود کمان پل کے راستے تجارتی ٹرکوں کی آواجاہی معمول کے مطابق جاری رہی۔کشمیر میڈےا نےٹ ورک کے مطابق لائن آف کنٹرول کے مختلف علاقوں میں بھارت اور پاکستان کی افواج ایک دوسرے کے ساتھ عملی محاذ آرائی میں مصروف ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ گولہ باری کے واقعات میں تشویشناک حد تک شدت پیدا ہورہی ہے۔

شمالی کشمیر کے سرحدی قصبہ اوڑی سے موصولہ اطلاع کے مطابق قصبہ میں کنٹرول لائن پر واقع کئی دیہات میں آر پارفوجیوں کے درمیان شدید نوعےت کی گولی باری ہوئی۔دفاعی ذرائع کے مطابق جمعرات کی صبح8بجکر15منٹ پرحاجی پیر سیکٹرمیں پاکستانی فوج نے بغیر کسی اشتعال کے بیک وقت کئی مقامات پر فائرنگ اورگولہ باری شروع کی ۔ذرائع نے کے ا یم ا ین کومزید بتایا کہ ابتدائی طور پر سرحد پار سے صرف ایک جگہ پر زوردار شیلنگ کی گئی جس کے بعد یہ سلسلہ چرونڈا، بٹگراں، تلہ واڑی، سلی کوٹ، ہتھ لنگہ، موٹھل ،صورہ اور ملحقہ علاقوں تک پھیل کر انتہائی شدت کے ساتھ جاری رہا۔دفاعی ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج نے اِس پار فوجی چوکیوں کے ساتھ ساتھ آبادی والے علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ بھارتی فوج کی طرف سے اس گولی باری کا بھرپور جواب دیا گیا۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ بیشتر مقامات پر ہلکے ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ ساتھ مارٹر شیلنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔اس دوران ایک مارٹر شیل تلہ واڑی میں لسہ نجار ولد محمد سبحان نجار کے دو منزلہ رہائشی مکان کی چھت پر جالگا اور زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں مکان کی اوپری منزل مکمل طور تباہ ہوگئی جبکہ پہلی منزل کو شدید نقصان پہنچا، تاہم مکینوں کو کوئی گزند نہیں پہنچی۔

اسی علاقے میں گولی باری سے منیر احمد میر ولد غلام احمد اور زویرہ بیگم زوجہ محمد سبحان گنائی کے رہائشی مکانوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔سلی کوٹ نامی گاﺅں میں بھی گولیاں رہائشی مکانوں اور دیگر تعمیرات کی دیواروں میں جالگیں جبکہ نامبلہ میں ایک مکان کی دیوار پرایک گولی لگی۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ اس قدر زوردار تھا کہ کئی علاقوں میں سرحد پار سے داغی گئیں گولیاں رہائشی مکانوں کے اندر کمروں کی دیواروں تک پر لگیں ، البتہ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ سال2003کے سیز فائر کے بعد یہ اپنی نوعیت کی شدید ترین گولی باری تھی جس کے باعث کئی کئی گھروں کے لوگ کسی ایک مکان کے اندر زیر زمین کمروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

صبح11بجے اگر چہ فائرنگ اور شیلنگ کا سلسلہ تھم گیا ، تاہم حد متارکہ کے نزدیک واقع دیہات کے لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول ہے ، لوگ سہمے ہوئے ہیں اور ان علاقوں میں مجموعی طور سناٹا چھا گیا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد انہیں کنٹرول لائن کے قریبی علاقوں میں بلاوجہ جانے سے منع کردیا گیا ہے جبکہ اندرون دیہات بھی فوجی گشت میں اضافہ ہوا ہے۔اس صورتحال کے بیچ اوڑی میں حد متارکہ پر واقع قریب16دیہات کے لوگوں کی ایک مرتبہ پھر نیندیں حرام ہوگئی ہیں ۔

کے ایم ا ین نمائندے نے بتایا کہ گولی باری کا سلسلہ رُک جانے کے بعد کئی دیہات سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اوڑی قصبہ اور دیگر علاقہ جات میں اپنے رشتہ داروں کے یہاں منتقل ہوگئے جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔ایس ڈی پی او اوڑی جاوید احمد شاہ نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کےلئے گاڑیاں دستیاب رکھی گئی ہیں جبکہ ہنگامی حالات کےلئے ایمبولینس گاڑیوں کو بھی تیار رکھا گیا ہے۔ نمائندے کے مطابق چرونڈا کے ساتھ ساتھ نامبلہ،گھر کوٹ، سید پورہ، بلکوٹ، تھاجل اور دیگر دیہات کے لوگ اس بات کی فکر میں ہیں کہ گولی باری کے واقعات کے نتیجے میں انہیں ایک مرتبہ پھر ہجرت کرنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ سال2003سے قبل انہوں نے گولی باری کے واقعات کے پیش نظر اپنی حفاظت کےلئے جو زیر زمین بنکر تعمیر کئے تھے، ان کو سیز فائرمعاہدے کے بعد یاتو منہدم کردیا گیا یا وہ 2005کے قیامت خیز زلزلے میں تباہ ہوگئے اور اب اس طرح کے حالات میں ان کے لئے بچاﺅکی کوئی تدبیر نہیں۔قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل حاجی پیر سیکٹر میں ہی گولی باری کی زد میں آکر4عام شہری مضروب ہوئے جبکہ گزشتہ روز کپوارہ کے ٹنگڈار سیکٹر میں بھی شدید گولی باری ہوئی ۔دریں اثناءگولی باری سے پیدا شدہ تناﺅکے باوجود کمان پل اوڑی کے راستے آر پار تجارت معمول کے مطابق جاری رہی۔اوڑی سے35ٹرک مختلف اشیاءلیکر مظفر آباد روانہ ہوئے جبکہ وہاں سے تجارتی سامان سے لدے11ٹرک کنٹرول لائن عبور کرکے اوڑی پہنچ گئے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے