سرینگر::اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب نیشنل بنک میں11400کروڑروپے کی فراڈ کے بعد اپنے بھتیجے سمیت بیرون ملک فرار ہونے والا ہیروں کا ارب پتی تاجر جموں کشمیر بنک کو بھی قریب150کروڑ روپے کا چونا لگانے میں کامیاب ہوا ہے۔جے کے بنک چیرمین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں دیگر مالیاتی اداروں کی طرح ان کا بنک بھی قانونی کارروائی عمل میں لانے جارہا ہے۔
کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے مطابق حال ہی میں پنجاب نیشنل بنک میں غیر معمولی ہیرا پھیری کا ایک سنسنی خیزاسکینڈل طشت از بام ہوا جس میں ملوث ہیروں کے ارب پتی بیوپاری نیرو مودی اور اس کے چاچا میہول چوکسی بیرون ملک فرار ہوگئے۔دونوں چاچا بھتیجا نے نہ صرف مجموعی طور 11 ہزار 400 کروڑ روپے ہڑپ کئے ہیں بلکہ بنکوں سے بھاری قرضے حاصل کرنے کےلئے فرضی اور نقلی دستاویزات کا بھی استعمال کیا۔اس سلسلے میں دونوں اِن دنوں بھارت اور اس کے باہر میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ زیورات اور ہیرے کے ان بدنام بیوپاریوں نے پنجاب نیشنل بنک کے علاوہ دیگر کئی بنکوں اور مالیاتی اداروںکو بھی بھاری رقومات کا چونا لگایا ہے جن میں جموں وکشمیر بنک بھی شامل ہے۔ ذرائع نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ میہول چوکسی نے جے کے بنک سے152کروڑ روپے کی رقم بھی غبن کرلی ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر بنک کی فورٹ برانچ ممبئی نے سال2012میں ممبئی میں ہی”Gitanjali Gems“ کے نام سے ہیرو کا ایک شوروم کھولنے کےلئے میہول چوکسی کے حق میں 121کروڑ روپے کا قرضہ منظور کیا۔
تاہم اس فرم کے چیرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر میہول چوکسی قرضہ کی ادائیگی عمل میں لانے میں ناکام رہا۔ذرائع نے کے ایم ا ین کو بتایا کہ گزشتہ چھ برس کے دوران قرضے کی رقم سود سمیت152کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے، تاہم اس دوران بنک نے نہ بھاری قرضہ منظور کرنے والے اپنے افسران کے خلاف کسی قسم کی کارروائی عمل میں لائی اور نہ ہی قرضہ کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں کوئی اقدام کیا ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ میہول اور نیرو مودی نے جموں کشمیر بنک کو دھوکہ دینے کےلئے وہی طریقہ کار اختیار کیا جو پنجاب نیشنل بنک سمیت دیگر بنکوں اور مالیاتی اداروں سے بھاری رقومات اینٹھنے کےلئے اپنایا گیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ چند روز قبل مرکزی تفتیشی ادارے ”انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ“(ای ڈی) سے وابستہ افسران کی ایک ٹیم نے ادھم پور قصبے میں قائم میہول چوکسی کے ”Gitanjali Gems“ نامی زیورات اور ہیروں کے شوروم پر چھاپہ مارا اور 2.5کروڑ روپے مالیت کے ہیروں اور سونے کے زیورات کے ساتھ ساتھ کئی اہم دستاویزات بھی اپنی تحویل میں لئے۔
اس سلسلے میں جموں کشمیر بنک کے چیرمین و چیف ایگزیکٹیو آفیسر پرویز احمد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جے کے بنک ایسے دیگر بنکوں اور مالیاتی اداروں کی طرح میہول چوکسی کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائے گا جن کے ساتھ نیرو مودی اور میہول چوکسی نے دھوکہ دہی کی ہے۔واضح رہے کہ ابھی تک دونوں کی طرف سے پنجاب نیشنل بنک کے ساتھ11400کروڑ روپے کا فراڈ سامنے آیا ہے، تاہم بتایا جاتا ہے کہ اصل رقم اس سے کئی زیادہ ہے اور تحقیقات کے دوران صحیح اعدادوشمار سامنے آئیں گے۔اس سلسلے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اب تک پنجاب نیشنل بنک کے ایک ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور ایک جنرل منیجر سمیت ایک درجن کے قریب افسران کو پوچھ تاچھ کے دائرے میں لایا گیا ہے جبکہ نیرو مودی کی ”فائر سٹار ڈائمنڈ“ نامی کمپنی کے پریذیڈنٹ (فائنانس) وپُل امبانی کو باضابطہ طور گرفتار کیا گیا ہے۔اس معاملے کی بیک وقت کئی ایجنسیاں چھان بین کررہی ہیں اور آنے والے دنوں میں مزید سنسنی خیز انکشافات متوقع ہیں۔

