سی آئی ڈی کی رپورٹ انتہائی مضحکہ خیز:مشترکہ مزاحمتی قیادت

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
پولیس تشدد، ٹارچر، ذلت آمیز سلوک اور حملے،کشمیری جوانوںکا عسکریت کی جانب مائل ہوجانے بنیادی وجہ

سرینگر21فروری سی آئی ڈی کی حالیہ رپورٹ جس میں سرینگر سینٹرل جیل میں مقید اسیروں کو عسکریت کے فروغ کےلئے ذمہ دار گردانا گیا ہے کو مضحکہ خیز، بے ہودانہ اور جھوٹ کا پلندا قرار دیتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا کہ ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں سے ایک قیدی کے فرار ہوجانے کے بعد سے حکمران،انکی فورسز،ایجنسیز اور پولیس نے سینٹرل جیل میں مقید سیاسی اور دوسرے اسیروں کو تنگ طلب کرنا شروع کردیا ہے۔

مشترکہ قیادت نے کہا کہ ایک قیدی کے فرار کے فوراً بعد کچھ اخبارات اور بھارت کی جانبدار میڈیا نے بے بنیاد اور متعصبانہ خبریں شائع کیں جس کے بعد درجنوں اسیروں کو وادی کے باہر جیلوں میں شفٹ کردیا گیا لیکن بچے کچھے اسیروں کو مذید سختی میں مبتلا کردینے کےلئے اب نام نہاد رپورٹیں گھڑنے اور اب میڈیا کے ذریعے مشتہر کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

اسی قسم کی ایک رپورٹ آج سی آئی ڈی محکمے کے حوالے سے اخبارات کی زینت بنی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سینٹرل جیل سرینگر جوانوں کو عسکریت میں بھرتی کرنے کا اڈہ بن گیا ہے جہاں کشمیری بچوں کو نہ صرف یہ کہ عسکریت کےلئے منتخب کیا جاتا ہے بلکہ انہیں اس راستے پر گامزن ہوجانے کےلئے بھی اکسایا جاتاہے۔ اس کے علاوہ اس رپورٹ میں جیلوں میں سالہاسال سے قائم امیر زندان ادارے کو بھی مورد الزام ٹھہرایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ جیلوں میں قائم ایک متوازی نظام ہے جو ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔

اس رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا کہ جیلوں میں قائم امیر زندان ادارہ محاذ رائشماری کے دور سے جاری ہے ۔آج یہ فورم جو اسیروں اور جیل حکام کے درمیان بہتر تعلقات کو بنائے رکھنے اور بسا اوقات جیل حکام کو ہی فائدہ بخشنے کا ذریعہ بنا رہا ہے بھی کشمیری دشمنی میں نشانہ بن چکا ہے جس کا واحد مقصد ان اسیروں کو مذید تکلیف میں مبتلا کرنا اور انہیں اذیت دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کہا جارہا ہے کہ سری نگر سیٹرل جیل میں مقید اسیر کشمیری جوانوں کو عسکریت کی جانب دھکیلنے ،انہیں اس جانب راغب کردینے کےلئے ذمہ دار ہیں جس سے بڑا جھوٹ کوئی ہو نہیں سکتا۔

مشترکہ قیادت نے کہا کہ یہ الزام دراصل اپنی کوتاہیوں کو دوسروں کے سر تھوپنے کا عمل ہے جس کے تحت قابض حکمران اور انکی انتظامیہ کشمیری اسیروں کو جبر کا نشانہ بنارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری جوانوں کے عسکریت کی جانب مائل ہوجانے کے پیچھے سینٹرل جیل یا کوئی اور وجہ نہیں بلکہ وہ پولیسی تشدد، ٹارچر، ذلت آمیز سلوک اور حملے ہیں جو انہوں نے جوانوںکے خلاف جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مشترکہ قیادت نے کہا کہ ایک قیدی ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سے فرار ہوا لیکن اسی کے ساتھ پانچ دوسرے قیدی بھی تھے جو فرار ہونے کے بجائے خود واپس جیل آگئے۔ایک قیدی کے فرار پر تو سارے لوگ باتیں کررہے ہیں لیکن ان پانچ اسیروں کے بارے میں کوئی بات نہیں کررہا جو خود واپس آگئے بلکہ الٹا انہیں پولیس، سی آئی ڈی اور دوسری ایجنسیز زچ اور ٹارچر کررہے ہیںاور جوانوں کو عسکریت میں بھرتی کرنے کےلئے مورد الزام ٹھہرارہے ہیں۔

مشترکہ قیادت نے کہا کہ ۸۸۹۱ءسے قبل یہ پولیس ،فورسز اور ایجنسیاں ہی تھیں جنہوں نے جوانوں کو ٹارچر کیا، تعذیب و ترہیب اور تذلیل کا نشانہ بنایا اور پشت بہ دیوار کرکے عسکری انقلاب کی جانب دھکیل دیا جس کے نتیجے میں ایک عوامی انقلاب بپا ہوا۔ ۸۰۰۲ءسے آج تک کے ہی عرصہ کو دیکھا جائے تو عالمی برادری کی ایماءپر کشمیریوں نے اپنی تحریک کو تبدیل کیا اور ایک نئے پرامن عوامی انقلاب اور مزاحمت کا سلسلہ شروع کردیا۔لیکن کشمیریوں کے اس پرامن رویے کی قدر کرنے کے بجائے بھارت نے اس کے خلاف آہنی اقدامات اُٹھائے اور اس عرصے میں نہ صرف سیکڑوں مردوزن، بچوں بزرگوں اور جوانوں کو تہہ تیغ اور مجروح و مضروب کرنے بلکہ ہزاروں جوانوں کو جیلوں،اذیت گاہوں اور تعذیبی مراکز میں قید کیا، ٹارچر کا نشانہ بنایا،تذلیل آمیز سلوک سے گزارا، ان کے والدین،بہنوںاور ماﺅں کو ہتک آمیز گالیوں سے نوزا نے کا سلسلہ دراز تر کیا ہوا ہے جو ان جوانوں کو پشت بہ دیوار کرکے عسکریت کی جانب دھکیل رہا ہے۔

مشترکہ قیادت نے کہا کہ نام نہاد حکمران اور انکی ایجنسیاں جان لیں کہ سینٹرل جیل میں مقید اسیر نہیں بلکہ پولیس تھانے جو بدترین اذیت گاہوں میں تبدیل کئے گئے ہیں اور سیاسی مکانیت کی مسدودی ہی اصلاً کشمیری جوانوں کو عسکریت کی راہ اپنانے پر مجبور کررہے ہیں اور یہی اصل اور حقیقت ہے۔ مشترکہ قیادت نے کہا کہ جیل میں قید لوگوں کو مذید سختیوں میں مبتلا کردینے کےلئے نت نئے حربے آزمانے اور من گھڑت رپورٹیں جاری کرنے کا یہ عمل بھی دراصل آپریشن آل اوٹ کا ہی سلسلہ ہے جس کاآغاز بھارت اور اسکے حواری کرچکے ہیںتاکہ بزعم خویش کشمیری مزاحمت کو کچل سکیں۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں نام نہاد وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کشمیریوں کو دھمکی دی ہے کہ ان کے ایک بندوق کے بدلے وہ ہزار بندوق لے آئیں گی اور کشمیر میں جابجا فوجی اور فورسز کے کیمپ لگائے جائیں گے ۔ ہم انہیں بتادینا چاہتے ہیں کہ وہ جو چاہیں کریں اور اپنے والد گرامی کی کاوشوں کہ جو انہوںنے ۰۹۹۱ءمیں انجام دے کو کشمیریوں کو اذیتیوں اور مصائب میں مبتلا کیا تھا کو ضرور دہرائیں لیکن یاد رکھیں کہ ان کے ظلم و جبر سے کشمیری مزاحمت مذید سخت ہوتی جائے گی اور شہداءکے لہو سے مربوط و مزین یہ تحریک آزادی و حق خودرادیت حصول منزل مقصود تک جاری رہے گی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے