سری نگر:سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹرفاروق نے کشمیرکوملک قراردیتے ہوئے یہ واضح کیاکہ بحالی اٹانومی تک نیشنل کانفرنس چین سے نہیں بیٹھے گی ۔انہوں نے حکمران جماعت پی ڈی پی پر جی ایس ٹی اور نفسا سمیت 3مرکزی قوانین کو ریاست میں لاگو کرنے کاالزام عائدکرتے ہوئے خبردارکیاکہ دفعہ370اور دفعہ35اے کیخلاف سازشیں جاری ہیں ۔ اپنی رہائش گاہ واقع گپکارروڑ پر پارٹی لیڈران، عہدیداران اور عوامی وفود کےساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ نیشنل کانفرنس ملک کشمیر کے عوام کے اعتبار،رفاقت اور اشتراک سے ہر امتحان میں سرخرو ہو کر سامنے آئی ہے اور ریاستی عوامی نے اپنی اس آبائی جماعت کو ہر وقت اپنے دلوں میں سمائے رکھا اور ہر حال میں شیر کشمیر کی اس تنظیم کو بھر پور اعتماد دیا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے بھی ریاستی عوام کی جدوجہد، خوشحالی اور فارغ البالی کیلئے بے بہا قربانیاں دیں اور ہر وقت عوام کو ہی طاقت کا سرچشمہ مانا۔ڈاکٹرفاروق کاکہناتھاکہ نیشنل کانفرنس کی قربانیوں کی بدولت ہی ریاست کی بچی کچھی خصوصی پوزیشن قائم و دائم ہے لیکن پی ڈی پی کی سربراہی والی حکومت اپنے آقاﺅں کے اشاروں پر چل کر جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی اختیارات کو مکمل طور پر سلب کرنے پر تلی ہوئی ہے۔انہوں نے الزام لگایاکہ گذشتہ3سالہ دورِ حکومت میں جی ایس ٹی اور نفسا سمیت 3مرکزی قوانین کو ریاست پر لاگو کیا اور دفعہ370اور دفعہ35اے کیخلاف سازشیں جاری رکھی گئیں ہیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مجھے یہ بات کہنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ نیشنل کانفرنس ریاست جموں و کشمیر کی واحد ایسی سیاسی اور عوامی نمائندہ جماعت ہے جس کی جڑیں اسی ریاست میں پیوست ہے اور یہی وہ جماعت ہے جو موجودہ حکومت اور کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال جس طرح سے ہمارے دشمنوں نے عدلیہ کا سہارا لیکر دفعہ35اے کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، اُس وقت نیشنل کانفرنس نے اس دفعہ کو بچانے اور اس کی اہمیت و افادیت کیلئے خصوصی مہم چھیڑ کر جو رول نبھایا وہ تاریخ میں سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کا ہل والا جھنڈا اونچا رہے گا تب تک یہاں کے تینوں خطوں کی وحدت، انفرادیت ، اجتماعیت اور دفعہ370کو کوئی بھی زک نہیں پہنچا سکتا۔ڈاکٹرفاروق نے کہا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کی ضامن صرف اور صرف نیشنل کانفرنس ہی ہوسکتی ہے اس لئے عوام کو اپنی اس آبائی جماعت کو بھر پور اشتراک دیکر دفعہ 370کی رکھوالی میں اپنا رول نبھانا ہوگا۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ اس جماعت کیخلاف ہر سمت سے سازشیں جاری ہیں اور اسے مرعوب کرنے کیلئے ہر ہتھکنڈا اپنایا گیا ، جس کے انکشافات وقت وقت پر ہوئے اور آج بھی ہورہے ہیں۔ لیکن لوگوں کے بھر پور تعاون اور اشتراک سے ہر بار دشمنوں کی چالیں اور سازشیں ریت کی دیوار ثابت ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نیشنل کانفرنس آج بھی عوام کے دلوں میں بستی ہے ، جو وقت نے بار بار ثابت کر کے دکھایا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس آج بھی اپنے شہدا ءکے خوشحال، خودکفیل، خودمختار اور خوشحال کشمیر کے مشن پر گامزن ہے۔ڈاکٹرفاروق نے کہا کہ نیشنل کانفرنس سے وابستہ لوگ ریاست جموں کشمیر کیلئے اٹانومی بحال ہوجانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر میںکوئی دوسری جماعت نیشنل کانفرنس کی ثانی نہیں ہوسکتی ہے کیونکہ اسی تنظیم کے قائدین نے عوام کو شخصی نظام سے نجات دلانے اور بنیادی حقوق دلانے کیلئے زبردست جنگ لڑی ہے اور سالہا سال تک قید خانوں میں صعوبتیں جھیل کر ایک تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے کارکنوں اور عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ عوام کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں اور لوگوں کے ہر دکھ سکھ میں پیش پیش رہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ عوام کیساتھ قریبی رابطہ ہی پارٹی کی مضبوطی کی علامت ہے ۔ اس موقعے پر پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، سینئر لیڈر کفیل الرحمن، صوبائی سکریٹری شوکت احمد میر اور نائب صدرِ صوبہ مشتاق احمد گوروبھی موجو دتھے۔
