نئی دہلی:فوٹوجرنلسٹ کامران یوسف کی دائرضمانتی عرضی پردہلی کی عدالت ممکنہ طورپر21فروری کواپنافیصلہ سنائی گی ۔خیال رہے منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں گرفتارکشمیری فوٹوجرنلسٹ کی ضمانتی عرضی کوعدالت نے زیرسماعت لاتے ہوئے پچھلے ہفتے اپنافیصلہ محفوظ رکھاتھا،اورسوموارکے روزپھراس معاملے کی سماعت ہوئی اورجج نے اگلی شنوائی کیلئے نئی تاریخ مقررکردی ۔کشمیر نیوزسروس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق سوموارکے روزپٹیالہ ہاﺅس کورٹ نئی دہلی میں کشمیری نوجوان فوٹوجرنلسٹ کامران یوسف کے وکیل کی جانب سے اپنے موکل کی طرف سے دائرکردہ ضمانتی درخواست کی پھرسماعت ہوئی ۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایڈیشنل سیشنزجج پٹیالہ ہاﺅس کورٹ ترون شیراوت نے ضمانتی عرضی کی سماعت کے دوران کہاکہ اب اس معاملے کی اگلی شنوائی رواں ماہ کی21تاریخ کواسی عدالت میں ہوگی۔باﺅرکیاجاتاہے کہ اُسی روزجج موصوف کامران یوسف کی دائرضمانتی عرضی پراپنافیصلہ سنادیں گے ۔خیال رہے پچھلے ہفتے عدالت نے اس معاملے میں اپنافیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے اگلی سماعت کیلئے19فروری کی تاریخ مقرر کی تھی ۔غورطلب ہے کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کی جانب سے ماہ جولائی اگست2017میں منی لانڈرنگ کیس کے سلسلے میں نصف درجن سے زیادہ کشمیری مزاحمتی لیڈران اورایک معروف تاجرکی گرفتاری عمل میں لانے کے دوران ہی این آئی اے نے جنوبی ضلع پلوامہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان فوٹوجرنلسٹ کامران یوسف اورضلع کولگام کے ایک نوجوان جاویداحمدبٹ کوبھی ستمبر2017میں گرفتارکیاتھا۔

