کولگام:: وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے”بندوق کوتباہی کی علامت اورامن کوخوشحالی کی ضمانت“قراردیتے ہوئے خبردارکیاکہ جنگجوﺅں کی تعدادمیں اضافہ ہونے سے کشمیرمیں سیکورٹی اہلکاروں کی تعیناتی بھی بڑھ جائیگی۔انہوں نے بندوق نہیں مذاکرات کومسائل کے حل کاموثرذریعہ قراردیتے ہوئے کہاکہ بھارت اورپاکستان کی مخاصمت کے باعث جموں وکشمیرتباہی وبربادی کامرکزبن گیاہے ۔محبوبہ مفتی نے جذباتی لہجے میں مردوزن سے اپیل کی کہ مساجد، آستانوں اوردرگاہوں میں جاکرکشمیرمیں امن اورخوشحالی کیلئے دعائیں کیاکریں ۔اسے قبل وزیراعلیٰ نے کئی سینئروزراءاورلیڈران کے ہمراہ ضلع کولگام میں جاری ترقیاتی،تعمیراتی اورفلاحی پروجیکٹوں پرجاری کاموںکی رفتار کاجائزہ لینے اورکولگام میں کانفرنس ہال کاسنگ بنیادرکھنے کے دوران اعلیٰ حکام اورانجینئروں کوہدایت دی کہ جاری کاموں کی معیادبندمدت میں تکمیل کویقینی بنایاجائے۔اُدھروزیراعلیٰ کی آمدکے پیش نظرپورے ضلع کولگام اورنزدیکی ضلع اسلام آبادمیں سیکورٹی کاکڑابندوبست کیاگیاتھا۔کشمیر نیوزسروس نمائندے کے مطابق ریاست کی خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اتوارکے روزجنوبی ضلع کولگام کادورہ کرکے یہاں جاری مختلف ترقیاتی،تعمیراتی اورفلاحی پروجیکٹوں واسکیموں پرجاری کاموں کی رفتارکے بارے میں اعلیٰ انجینئروں اورحکام سے جانکاری طلب کی ۔سخت سیکورٹی بندوبست کے بیچ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اتوارکے روزوزیرتعمیرات نعیم اختراندرابی ،وزیربرائے امورصارفین وقبائلی امورات چودھری ذوالفقارعلی ،پی ڈی پی کے نائب صدرسرتاج مدنی اورراجیہ سبھاممبرنذیراحمدلاﺅے کے ہمراہ خصوصی دورے پرکولگام پہنچیں ۔انہوں نے اعلیٰ حکام سے ضلع کولگام کے مختلف علاقوں میں جاری تعمیراتی اورترقیاتی پروجیکٹوں واسکیموں کے بارے میں جانکاری لیتے ہوئے انجینئروں اوراعلیٰ افسروں پریہ واضح کیاکہ ان پروجیکٹوں کی معیادبندمدت میں عدم تکمیل کوکسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیاجائیگا۔وزیراعلیٰ نے اعلیٰ حکام کوہدایت دی کہ جاری کاموں کی معیادبندمدت میں تکمیل کویقینی بنایاجائے۔وزیراعلیٰ نے ضلع کولگام کے ایک اوپری علاقہ واری پورہ کنڈمیں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بندوق اورملی ٹنسی نے نہ صرف کشمیرکوتباہی دی ہے بلکہ اسی بندوق کی وجہ سے ہماری نوجوانوں کامستقبل بھی تباہ ہورہاہے ۔محبوبہ مفتی نے کہا”بندوق کشمیرسے جڑے مسائل کاحل فراہم نہیں کرسکتابلکہ اس طرزعمل کی وجہ سے ہمارے نوجوانوں کی زندگیاں خراب اورمستقبل تباہ ہوتارہاہے جوکہ انتہائی افسوسناک بات ہے ۔وزیراعلیٰ کاکہناتھاکہ ہمیں یہ سمجھناپڑے گاکہ بندوق سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہونے والاہے بلکہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات ہی موثرذریعہ ہے ۔انہوں نے نوجوانوں سے ملی ٹنسی کی راہ اختیارنہ کرنے اپیل کرتے ہوئے خبردارکیاکہ جسقدرملی ٹنسی اورسرگرم ملی ٹنٹوں کی تعدادمیں اضافہ ہوگا،اُسی قدرکشمیرمیں سیکورٹی اہلکاروں کی تعداداورتعیناتی بھی بڑھ جائیگی ۔وزیراعلیٰ نے نوجوانوں سے براہ راست مخاطب ہوتے ہوئے دوٹوک الفاظ کہا’بندوق سے کچھ حاصل نہیں ہوگا“۔اس جلسہ عام میں شرکت کیلئے آئے لوگوں نے پی ڈی پی کے جھنڈے والالباس زیب تن کیاتھا،اوریہاں پورامنظرہراہی ہرایعنی سبزہی سبزنظرآرہاتھا۔جلسے میں موجودمردوزن سے مخاطب ہوتے ہوئے خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ میری ماﺅﺅ،بہنواوربیٹیو!میں آپ سے اپیل کرتی ہوں کہ آستانوں اوردرگاہوں میں جاکرکشمیرمیں امن اورخوشحالی کیلئے دعائیں کیاکریں کیونکہ اس بندوق کی وجہ سے ہمارے نوجوان اوربچے تباہ ہورہے ہیں ،اُنکی زندگیاں تباہ ہورہی ہیں اوراُنکامستقبل بھی خراب ہورہاہے ۔انہوں نے جلسے میں موجودمردحضرات سے جذباتی لہجے میں مخاطب ہوکرکہاکہ آپ مساجدمیں نمازاداکرنے کے بعداللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خصوصی دعائیں کیاکریں کہ کشمیرمیں مکمل امن لوٹ آئے تاکہ ہمارے بچے اورنوجوان اپنے مستقبل کوبہتراورشانداربنانے پرہی توجہ مرکوزکرسکیں ۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کشمیرکی اندرونی اورسرحدی صورتحال پرسخت فکرمندی ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ بھارت اورپاکستان کی دشمنی اورٹکراﺅکاخمیازہ ریاست اورریاستی عوام کوبھگتناپڑرہاہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمسایہ ممالک کی مخاصمت کے نتیجے میں کشمیرتباہی وبربادی کاایک مرکزبن گیاہے ۔انہوں نے کہاکہ امن وامان کے ماحول میں ہی تعمیراتی ،ترقیاتی اورفلاحی کاموں کی عمل آوری کومقررہ وقت کے اندریقینی بنایاجاسکتاہے اورامن کے ماحول میں ہی ہمارے بچے بچیاں اورنوجوان اپنی تعلیم اوراپنے مستقبل پرتوجہ مبذول کرسکتے ہیں ۔

