پہلگام :جنوبی کشمیر میں واقع مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں ہفتہ کے روز 2 روز تک جاری رہنے والے سرمائی میلے کا شاندار آغاز ہوگیا۔ محکمہ سیاحت کی طرف سے منعقد کئے جارہے اس سرمائی میلے میں کشمیر کی مجموعی ثقافت کو بالعموم اور کشمیری دیہات کی ثقافت کو بالخصوص اجاگر کیا جا رہا ہے۔
میلے کے لئے پہلگام کے مین مارکیٹ کے علاوہ چند نذدیکی دیہات کو برقی قمقموں سے چراغاں کیا گیا ہے جبکہ کشمیر میں بننے والے ہر ایک چیز بشمول کشمیری شال، ہینڈی کرافٹ و پیپر ماشی مصنوعات اور نمدوں کے سٹال لگائے گئے ہیں۔ میلے میں شرکت کے لئے مقامی اور ملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد پہلگام پہنچ گئی ہے جن کو اسٹالوں کا دورہ کرنے کے علاوہ تانگہ سواری سے لطف اندوزہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ سرمائی میلے کے دوران مقامی ثقافت کو اجاگر کرنے کے علاوہ مختلف نوعیت کے ایونٹ جیسے شیڈو آرٹ شو، ولیج واک اور میوزک ایونٹ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔
پیپر ماشی مصنوعات کی خریداری میں مصروف پرینکا نامی خاتون سیاح نے یو این آئی کو بتایا کہ کشمیر بغیر کسی شک کے زمین پر جنت ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ کشمیر بغیر کسی شک کے زمین پر جنت ہے۔ ہم اس کی خوبصورتی کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے ہیں۔ یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں۔ مہمان نواز ہیں۔ لوگوں کو یہاں آکر یہاں کی خوبصورت مقامات کی سیر کرنی چاہیے‘۔ پرینکا نے بتایا کہ انہوں نے کشمیر کے بارے میں بہت من
فی باتیں سنی تھیں لیکن وہ سب باتیں یہاں آکر جھوٹی ثابت ہوئیں۔
انہوں نے بتایا ’ہم نے کشمیر کے بارے میں بہت ساری منفی باتیں سنی تھیں لیکن وہ سبھی جھوٹی ثابت ہوئیں۔ یہاں تک میری ماں نے م
جھے یہاں آنے کی اجازت ہی نہیں دی تھی۔ لیکن یہاں آکر مجھے محسوس ہوا کہ کشمیر سب سے زیادہ محفوظ جگہ ہے‘۔ راہل نامی سیاح نے بتایا کہ وہ اپنے آپ کو خوشی قسمت محسوس کررہے ہیں کہ ان کا سرمائی میلے کے وقت کشمیر آنا ہوا۔ انہوں نے بتایا ’ایسے میلوں کا انعقاد کیا جانا چاہیے کیونکہ آپ کو ایک ہی جگہ پر پوری ثقافت سے روبرو ہونے کا موقع ملتا ہے۔ یہاں کشمیر میں بننے والی ہر ایک چیز بشمول شال، ہینڈی کرافٹس ، پیپر ماشی مصنوعات اور کھان پان کی چیزیں دستیاب ہیں۔ ہم اپنے آپ کو خوش قسمت محسوس کررہے ہیں کہ ہمارا یہاں میلے کے وقت آنا ہوا‘۔ راہل نے موسم گرما میں بھی کشمیر آنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا ’لوگوں کو کشمیر آنا چاہیے۔ یہ زمین پر جنت ہے۔ ہم سری نگر، گلمرگ اور سونہ مرگ بھی گئے۔ ہمارا یہ دورہ انتہائی یادگار رہا۔ ہم ایک بار پھر آئیں گے۔ اب ہم گرما کے موسم میں آئیں گے۔ ہر ایک جگہ برف ہی برف۔ ہم اس کو سفید خوبصورتی کہہ سکتے ہیں۔ ہم نے اپنے دورے کو کیمرے میں عکس بند کیا ہے۔ ہم اس کو ضرور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں گے‘۔
ناظم سیاحت کشمیر محمود احمد شاہ نے یو این آئی کو بتایا کہ پہل گام میں اس طرح کے میلوں کے انعقاد کا مقصد اس کو سرمائی سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دینا ہے۔ انہوں نے بتایا ’بیرون دنیا میں سبھی لوگ پہلگام کو ایک گرمائی سیاحتی مقام کے طور پر جانتے ہیں۔ لیکن ہم اس نظریہ اور بیانہ کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ گذشتہ کچھ برسوں سے ہم پہلگام کو ایک سرمائی سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دینے کے مشن پر کام کررہے ہیں۔ تین سال پہلے ہم نے یہاں آئس کلائمنگ کا انعقاد کیا۔ ہم اس وقت سرما کے وسط میں ہیں۔
اس میلے کا خالص مقصد باہر یہ پیغام بھیجنا ہے کہ پہلگام نہ صرف گرمائی بلکہ سرمائی سیاحتی مقام بھی ہے‘۔ ناظم سیاحت کشمیر نے مزید بتایا کہ ہم نے اس پروگرام کے کامیاب انعقاد کے لئے مقامی لوگوں کو شامل کیا ہے۔ انہوں نے کہا ’گذشتہ دو برسوں کے دوران جنوبی کشمیر کے تعلق سے بہت ساری منفی باتوں نے جنم لیا۔ اس کا اثر پہلگام میں سیاحوں کی آمد پر بھی پڑا۔ اس میلے کے انعقاد سے ہم باہر ایک پیغام بھیجنا چاہتے ہیں کہ پہلگام ایک پرامن اور انتہائی خوبصورت جگہ ہے‘۔ مسٹر شاہ نے کہا کہ فیسٹول کے انعقاد کا مقصد پہلگام کے چھوٹے ہوٹلوں کو پراموٹ اور فائدہ پہنچانا بھی ہے۔

انہوں نے کہا ’کشمیر میں سری نگر کے بعد سب سے زیادہ ہوٹل پہلگام میں ہیں۔
نامساعد حالات کا زیادہ اثر چھوٹے ہوٹلوں پر پڑا ہے۔ بڑے ہوٹل اپنی مارکیٹنگ خود کرتے ہیں۔ ان کی اپنی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پیج ہوتے ہیں۔ ان چھوٹے ہوٹلوں کو فروغ اور فائدہ پہنچانے کے لئے بھی ہم یہ دو روزہ ونٹر فیسٹول کا انعقاد کررہے ہیں‘۔ ناظم سیاحت نے کہا کہ پہلگام ونٹر میلے کو ایک مختلف انداز میں منعقد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا ’ہر ایک فیسٹول میں وی آئی پیز کو بلایا جاتا ہے، لیکن اس فیسٹول میں وی آئی پیز پر مقامی لوگوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ میلے کے دوران ولیج اور فارسٹ واک کا اہتمام بھی کیا جارہا ہے‘۔
ناظم سیاحت نے کہا کہ اس سال کا آغاز مثبت انداز میں ہوا ہے اور گلمرگ کے ہوٹل کرسمس اور نئے سال کے موقع پر بھرے پڑے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام میلے کے لئے ہوٹل مالکان نے خصوصی پیکیجز بنائے تھے۔ اس کے علاوہ ٹریول ایجنٹس نے بھی پیکیجز بنائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بننے والی ہر ایک چیز کو فیسٹول میں دستیاب رکھاگیا ہے۔ انہوں نے کہا ’ پہلگام کلب ہے میں ہم شیڈو آرٹ پروگرام کا انعقاد کررہے ہیں۔ یہ پہلی دفعہ ہے کہ جب وادی میں شیڈو آرٹ کے پروگرام کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اس کے لئے کلکتہ سے لوگ آئے ہیں۔ ہم ان پروگراموں کو ریکارڈ بھی کررہے ہیں اور ان کو بعدازاں پراموشنل کے لئے استعمال کریں گے‘۔

