سری نگر:: نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کٹھوعہ کی معصوم 8سالہ آصفہ کے درندہ صفت مجرم کے حق میں ترنگے کیساتھ احتجاجی ریلی کو افسوسناک اور شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھاجپا لیڈر کی قیادت میں نکالی گئی اس ریلی سے ریاست میں فرقہ پرستی کے رجحان کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔
مو صولہ بےان کے مطابق انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کے ساجھیدار اس بدترین فعل کو بھی مذہبی رنگت دینے پر تُلے ہوئے ہیں ، فرقہ پرستی اور تعصب سے کچھ لوگوں کے دل مردہ ہوگئے ہیں اور ایسے ہی لوگ انسانیت کو شرمسار کرنے والے کٹھوعہ میں پیش آئے اس بدترین واقعہ کے ملزم کو بچانے کیلئے ترنگے کا سہارا لے کر احتجاج کررہے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ عصمت دری اور قتل کے مجرم کے حق میں احتجاجی ریلی میں ترنگا لہرانا قومی پرچم کی توہین ہے، ترنگے کا سہارا لیکر معصوم آصفہ کے مجرم کو بچایا نہیں جاسکتا ہے۔
انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ اس کیس کی سرعت رفتاری کیساتھ شنوائی ہوگی اور ملزم کو قانون کے مطابق عبرتناک سزا دی جائے گی۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ آج اپنی رہائش گاہ پر مختلف علاقوں سے آئے ہوئے وفود اور پارٹی عہدیداران کے ساتھ تبادلہ خیالات کررہے تھے۔ گاندربل سے آئے ہوئے وفد نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو آگاہ کیا کہ موجودہ حکومت سنٹرل یونیورسٹی کو گاندربل سے منتقل کرکے کسی اور جگہ لیجانے کی مذموم کوشش کررہی ہے۔ وفد نے بتایا کہ حکومت ہیلے بہانے تراش کر یونیورسٹی کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
وفد نے بتایا کہ اس سے قبل اسلامک یونیورسٹی کو ضلع گاندربل سے منتقل کرکے اونتی پورہ لیا گیا اوراب سنٹرل یونیورسٹی کو بھی منتقل کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں جو ضلع گاندربل کے عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہوگی۔ وفد نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کی منتقلی کا فیصلہ کیا گیا تو گاندربل کے لوگ کسی بھی حدتک جانے کیلئے تیار ہیں۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ متعلقہ مرکزی وزارت کیساتھ یہ معاملہ اُٹھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی نے 8سال قبل یونیورسٹی کے قیام کیلئے 6ہزار کنال اراضی بشمول 2ہزار آبی اراضی سستے داموں فراہم کی تاکہ ضلع کے نوجوانوں کو روزگار فراہم ہوگا اور ضلع کی ترقی بھی رفتار پکڑے گی۔ صدرِ نیشنل کانفرنس نے ریاستی حکومت پر بھی زور دیا کہ اگر یونیورسٹی کی منتقلی کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے تو اسے فوری طور پر رد کردیا جائے اور ضلع گاندربل کیساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی سے گریز کیا جائے۔

