حاجن میں محاصر ے کے دوران مظاہرے ،پلوامہ میں پانچ گرفتار،ترال کے سات دیہات کا محاصرہ

File Photo

حاجن ،پلوامہ :شمالی ضلع بانڈی پورہ کے قصبہ حاجن میں ہفتہ کو ’کارڈن اینڈ سرچ آپریشن ‘ مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد بھڑک اٹھا جس دوران مشتعل مظاہرین نے فورسز پر خشت باری کی جبکہ جوابی کارروائی میں فورسز نے مشتعل مظاہرین کو تتر بتر کرنے کےلئے ٹیر گیس شلنگ کی ۔ادھر پلوامہ میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران پانچ نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سنگبازی کی پاداش میں گرفتاریاںکی گئیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق شمالی ضلع بانڈی کے قصبہ حاجن میں فوج وفورسز نے کارڈن اینڈ سرچ آپریشن عمل میں لایا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حاجن کے سید محلہ کو فوج وفورسز نے ہفتہ کی علی الصبح محاصرے میں لیکر جنگجو مخالف آپریشن عمل میں لایا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج وفورسز کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ علاقے میں جنگجوﺅں کا ایک گروہ موجود ہے ،جسکے بعد 13آر آر ،ایس او جی اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے مشترکہ طور پر اس علاقے کو صبح چار بجے گھیرے میں لیا اور جنگجو ﺅں کو ڈھونڈ نکالنے کےلئے گھر گھر تلاشی کارروائی عمل میں لائی ۔

معلوم ہوا ہے کہ جونہی علاقے میں جنگجو مخالف آپریشن کی خبر پھیلی تو نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں پر نمودار ہوئیں ،جس دوران انہوں نے جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ اندازی کرنے کےلئے احتجاجی مظاہرے کئے اور فورسز پر پتھراﺅ کیا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مشتعل مظاہرین کو تتربتر کرنے کےلئے فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کی جبکہ چار گھنٹے تک جاری رہنے والی تلاشی کارروائی کو بعد ازاں ختم کردیا گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ تلاشی کارروائی کے دوران فورسز اور جنگجو ﺅں کے درمیان کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا ۔

دریں اثناءچندر گیر حاجن بانڈی میں گزشتہ شب فوج وفورسز نے کارڈن اینڈ سرچ آپریشن عمل میں لایا تھا ۔ادھر جنوبی ضلع پلوامہ میں ہفتہ کی علی الصبح چھاپہ مارکارروائی کے دوران پانچ نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کریم آباد پلوامہ علاقے کو فوج وفورسز نے محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی عمل میں لائی ۔یہ کارروائی ہفتہ کی صبح سویرے عمل میں لائی گئی ۔لوگوں نے الزام عائد کیا کہ تلاشی کارروائی کے دوران املاک کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ مکینوں کو ہراساں کرنے کےلئے زد وکوب کیا گیا اور پانچ نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ۔

مقامی لوگوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ فورسز اہلکاروں نے تلاشی کارروائی کے دوران جاں بحق ہوئے حزب المجاہدین کے جنگجو نصیر پنڈت کے اہلخانہ کو بھی عتاب کا شکار بنایا ۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ چار گھنٹے کی تلاشی کارروائی کے دوران کئی افراد کی مار پیٹ کی گئی اور گھریلو سازوسامان کو تہس نہس کردیا گیا ۔

ایس پی پلوامہ محمد اسلم نے ایک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ تلاشی کارروائی کے دوران سنگبازوں کو حراست میں لیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں جنگجو اور سنگبازوں کو ڈھونڈ نکالنے کےلئے تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی ۔جب مذکورہ خبر رساں ادارے نے ایس پی پلوامہ سے املاک کو نقصان پہنچانے اور مکینوں کوہراساں کرنے کے الزام کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ معاملےکو دیکھا جائیگا۔

دریں اثناءجنوبی ضلع پلوامہ کے انتہائی حساس قصبہ ترال کے آر ی پل تحصیل میں سات دیہات کو فوج وفورسز نے محاصرے میں لیکر جنگجو مخالف آپریشن شروع کردیا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ فوج وفورسز کو ایک خفیہ اطلاع ملی تھی کہ علاقے میں جنگجوﺅں کا ایک گروہ موجود ہے جس کے بعد آری پل ،ہنڈورہ ،واگڑھ ،ڈار گنائی گنڈ ،ستورا ،گارڈ پورہ اور ینگ وانی دیہات کو بیک وقت فوج وفورسز کی بھاری نفری نے محاصرہ کرکے جنگجو مخالف آپریشن شروع کردیا ،جو آخری اطلاعات ملنے جاری تھا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے