ویڈیو: مزاحمتی قیادت کی کال ،وادی میں ہمہ گیر ہڑتال

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر:حریت لیڈر کے قتل ،مقامی قیدیوں کی بیرون جیلوں میں منتقلی اور انسانی حقوق کی پا مالیوں کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے دی گئی احتجاجی ہڑتال کال کے نتیجے میں وادی بھر میں ہفتہ کو معمولات ِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ۔

ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر شہر سرینگر کے 6پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندیاں اور بندشیں عائد کی گئیں ،جبکہ سیکورٹی وجوہات کی بنا ءپر ریل سروس کو بھی معطل رکھا گیا ۔

اس سلسلے میں ملی تفصیلات کے مطابق وادی بھر میں ہفتہ کو مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر احتجاجی ہڑتال رہی ۔کشمیر کے تمام دس اضلاع میں ہڑتال کے دوران جہاں کاروباری سرگرمیاں ٹھپ رہیں، وہیں سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہیں جبکہ سرکاری دفاتر میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔

مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے حریت لیڈر کے قتل ،مقامی قیدیوں کی بیرون جیلوں میں منتقلی اور انسانی حقوق کی پا مالیوں کے خلاف یک روزہ احتجاجی ہڑتال کی کال دی تھی ۔نمائندے کے مطابق دارالحکومت سرینگر کے تجارتی مرکز لالچوک سمیت وادی بھر میں ہر طرح کی دکانیں ،کاروباری ادارے اور تجارت مراکز بند رہے ۔ہڑتال کے نتیجے میں بازار ویران اور سڑکیں سنسان نظر آرہی تھیں ۔

سرینگر کے علاوہ بڈگام ،گاندر بل ،اننت ناگ ،پلوامہ ،کولگام ،شوپیان ،بانڈی پورہ ،کپوارہ اور بارہمولہ میں اسی طرح کی صورتحال دیکھنے کو ملی ۔یاد رہے کہ 12فروری کو45سالہ حریت (گ) لیڈر محمد یوسف کو نامعلوم بندوق برداروں نے گولی مار کر قتل کیا تھا ۔

حریت ’گ‘ چیئرمین سید علی گیلانی نے حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ کے ر±کن اور تحریک وحدت اسلامی کے سیکریٹری جنرل محمد یوسف ندیم کی ہلاکت کو بھارتی ایجنسیوں کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست جموں کشمیر میں بدنامِ زمانہ اخوانی دور کوپھر سے دہرانے کی سعی کی جارہی ہے جوکہ قابل مذمت ہے۔

ادھر انتظامیہ نے ہڑتال کے دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر سری نگر کے 6 پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیوں کا نفاذ عمل میں لایا۔ خانیار، نوہٹہ، صفا کدل، ایم آر گنج ، رعناواری اور کرالہ کھڈ میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں اور بندشیںنافذ کی گئی تھیں۔

اِن علاقوں میں پابندیوں کو سختی کے ساتھ نافذ کرانے کےلئے بھاری تعداد میں پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کوتعینات کیا گیا ۔پابندی والے علاقوں میں تمام راستوں بشمول نالہ مار روڑ کو خانیار سے لیکر سکہ ڈافر تک خاردار تاروں سے سیل کیا گیا تھا۔ تاہم صفا کدل اور عیدگاہ کے راستے انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو جانے والی سڑک کو بیماروں اور تیمارداروں کی نقل وحرکت کے لئے کھلا رکھا گیا تھا۔

سری نگر کے جن علاقوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا۔ تاہم سیول لائنز میں اکادکا گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ سرکاری دفاتراور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔

اس دوران ہڑتال کال کے پیش نظر بانہال سے بارہمولہ چلنے والی ریل سروس کو بھی جمعہ کے روز معطل کرنے کا فیصلہ لیا گیا،جس کے نتیجے میں کوئی بھی ریل پٹری پر نہیں دوڑی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے