سرحدوں پر مزید جانی نقصان کو ٹالنے کیلئے بات چیت ضروری: محبوبہ مفتی

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جموں، 9 فروری (یو ا ین آئی) جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ریاست میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر مزید جانی نقصان کو ٹالنے کے لئے بات چیت ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بات ضلع پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے کرشنا گاٹھی سیکٹر میں جمعرات کی شام پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون کی موت واقع ہوجانے کے واقعہ پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہی ہے۔ محترمہ مفتی نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’پونچھ میں ایل او سی پر سرحد پار فائرنگ سے ایک 45 سالہ خاتون کی موت واقع ہوجانے کے بارے میں جان کر دکھ ہوا ہے۔ ہمیں مزید ہلاکتوں کو ٹالنے کے لئے بات چیت شروع کرنی چاہیے‘۔
واضح رہے کہ پونچھ میں سرحد پار پاکستان کی فائرنگ کے نتیجے میں جمعرات کی شام 45 سالہ خاتون زینب بی ساکنہ نارہ بالنوئی جاں بحق ہوئی۔ پونچھ کے کرشنا گاٹھی سیکٹر میں ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں متعدد دیگر افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جموں وکشمیر حکومت کے مطابق پاکستان کی طرف سے گذشتہ تین برسوں کے دوران 829 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔ تین برس کے اس عرصے کے دوران ریاست بھر میں 41 عام شہری اور 55 سیکورٹی فورس اہلکار جاں بحق ہوگئے ہیں۔ یہ معلومات محترمہ مفتی نے 6 فروری کو قانون ساز کونسل میں ایم ایل سی نریش کمار گپتا کے ایک تحریری سوال کے جواب میں منکشف کیں۔ رواں برس کے40 دنوں کے دوران سرحدوں پر شدید کشیدگی دیکھی گئی جس دوران قریب 20 شہری و فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 1999 ء کے تنازعے کے بعد سنہ 2003 میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ تاہم جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود سرحدوں پر فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
یو این آئی ظ ح بٹ

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے