کریم آباد پلوامہ میں ایک مرتبہ پھر شبانہ کریک ڈاﺅن

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File Photo

سرینگر: کریم آباد پلوامہ میں ایک مرتبہ پھر شبانہ کریک ڈاﺅن کےلئے آئے فورسز اہلکاروں کو لوگوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس دوران فورسزکو شدید سنگباری کا نشانہ بنایا گیا جبکہ مظاہرین پرزوردار ٹیر گیس شیلنگ کے نتیجے میں5افراد زخمی ہوئے۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ فورسز نے مکانوں، دکانوں، دیگر تعمیرات اور سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں کی شدید توڑ پھوڑ بھی کی۔

ایس او جی ، فوج کی55آر آر اور سی آر پی ایف183بٹالین سے وابستہ اہلکاروں نے منگل کی شب10بجکر45منٹ پرکریم آباد گاﺅںکو گھیرے میں لیا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز کواپنے خفیہ ذرائع سے علاقے میں جنگجوﺅں کی موجودگی کے بارے میں مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی ۔فورسز اور پولیس نے علاقے کی طرف جانے والے تمام راستوں کی سخت ناکہ بندی کی ۔

تاہم نمائندے نے بتایا کہ جونہی فورسز اہلکاروں نے جنگجوﺅں کی تلاش میں گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا تو لوگ گھروں سے باہر آکر احتجاج کرنے لگے ،انہوں نے فورسز کو تلاشی لینے سے روک دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا ہجوم سڑکوں پر امڈ آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق بعض لوگوں نے اپنے ہاتھوں میں آہنی ہتھیار اٹھارکھے تھے۔ فورسز نے جب انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تو لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے بیک وقت کئی اطراف سے فورسز پر زبردست پتھراﺅ شروع کیا۔

جب سنگباری میں شدت پیدا ہوئی تومظاہرین کو تتر بتر کرنے کےلئے پہلے لاٹھی چارج کیا گیا اور اشک آور گیس کے گولے داغے گئے جس کے نتیجے میں علاقے میںخوف و ہراس پھیل گیا۔ٹیر گیس کے گولوں کی گھن گرج سے نزدیکی علاقوں کے لوگ بھی گھروں میں سہم کر رہ گئے۔

معلوم ہوا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کےلئے پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی کمک بھی طلب کی گئی تھی تاہم پر تشدد احتجاج میں کوئی کمی نہیں آئی۔کے ایم ا ین نمائندے کے مطابق طرفین کے مابین شدید نوعیت جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے علی الصبح4 بجے تک جاری رہا جس کے بعد فورسز اہلکار خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس طرح کی صورتحال کے دوران تشدد کی آڑ میں جنگجوﺅں کو فرار ہونے کا موقعہ فراہم کیا جاتا ہے اور کریم آباد میں آئے روز اس طرح کے حالات درپیش ہوتے ہیں۔

فورسز اور پولیس کی بھاری تعداد کئی گھنٹوںتک علاقے میں موجود رہی تاہم مزاحمت اور احتجاج کی وجہ سے ان کی تمام تر توجہ جنگجوﺅں کو ڈھونڈ نکالنے کے بجائے صرف سنگباز ی کرنے والے لوگوں پر ہی مرکوز رہی ۔مظاہرین کے خلاف کارروائی کے دوران5افراد کے معمولی طورزخمی ہونے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس موقعے پر فورسز اہلکاروں نے متعدد رہائشی مکانوں، دکانوں اور دیگر عمارات کے ساتھ ساتھ سڑکوں اور گلی کوچوں میں کھڑی گاڑیوں کی شدید توڑ پھوڑ کرنے کے بعد محاصرہ اٹھالیا۔کے ایم این

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے