جموں کشمیر سمیت افغانستان، پاکستان اور بھارت میں زلزلے کے جھٹکے محسوس ،ایک لڑکی ہلاک ،کئی زخمی

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/:جموں کشمیر سمیت افغانستان، پاکستان اور بھارت کے کئی علاقوں میں بدھ کی دوپہر زلزلے کے زوردار جھٹکوں سے خوف و ہراس پھیل گیااور لوگ افراتفری کے عالم میں مکانوں اور دیگر عمارات سے باہر آئے۔زلزلے کی شدت ریکٹر پیمانے پر6.1درج کی گئی اور اس کا مرکزافغان تاجکستان سرحد پر ہندو کش پہاڑی سلسلے میں تھا۔زلزلے کے جھٹکوں کے دوران سرینگر میں اُس وقت ایک بڑا حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا جب شہر میں زیر تعمیر فلائی اوور پر نصب ایک بھاری بھرکم کنکریٹ گرڈر نیچے کھڑے ایک کرین پر آگرا جس کے نتیجے میں کرین کو شدید نقصان پہنچا۔

زلزلے سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک اسکولی عمارت گرنے کے نتیجے میں ایک طالبہ کے ہلاک اور9دیگرکے ہونے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔ وادی کے اطراف و اکناف میں بدھوار کی دوپہر12بجکر37منٹ پرزلزلے کے زوردار جھٹکے محسوس کئے گئے جس کے نتیجے میں رہائشی مکانوں اور دیگر عمارات کے درودیوار ہل گئے اور لوگ خوف وہراس کے عالم میں کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر آئے۔سرینگر میں بھی زلزلے کے جھٹکے انتہائی شدت کے ساتھ محسوس ہوئے جس کے باعث لوگوں میں اتھل پتھل مچ گئی اور وہ رہائشی مکانات، دفاتر اور دیگر عمارات سے باہر بھاگ گئے ۔

زلزلے کے جھٹکوں سے سرینگر سمیت وادی کے شمال و جنوب میں لوگوں پر خوف طاری ہوا ، جھٹکے قریب ایک منٹ تک جاری رہے ، تاہم کسی جگہ کوئی جانی یا بڑامالی نقصان نہیں ہوا۔شمالی کشمیر میں بقیہ وادی کے مقابلے میں زلزلے کے جھٹکے زیادہ شدت کے ساتھ محسوس کئے گئے ۔ زلزلے کے جھٹکوں کے نتیجے میں سرینگر میں زیر تعمیر جہانگیر چوک رام باغ فلائی اوور پر نصب ایک بڑا ” کنکریٹ گرڈر“ اچانک اپنی جگہ سے ہل گیا اور نیچے کھڑے ایک کرین پر گر گیا۔

فلائی اوور پر کام کررہے ایک ورکر نے بتایا کہ گرڈر گزشتہ شب ہی فلائی اوور کے ستونوں پر نصب کیا گیا تھا، تاہم اکنامک ری کنسٹرکشن ایجنسی کے حکام کا کہنا ہے کہ گرڈر نصب کرنے کے عمل کے دوران اُس وقت گر گیا جب زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔اس واقعہ میں اگر چہ کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم گرڈر کی زد میں آئے کرین کا اگلا حصہ دب گیا اور اسے شدید نقصان پہنچا۔زلزلے کے بعد شہر میں کچھ دیر تک بجلی کی سپلائی احتیاط کے بطور منقطع کردی گئی۔

جواہر ٹنل کے اُس پار خطہ چناب اور جموں صوبے کے دیگر کئی علاقوں میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے تاہم وادی کے مقابلے میں یہاں اس کی شدت کم تھی۔ادھرکنٹرول لائن کے دوسری طرف کے علاقوں میں بھی زلزلے کے زوردار محسوس کئے گئے جن میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے کئی شہر شامل ہیں۔پاکستان سے شائع ہونے والی میڈیا رپورٹوں کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کئی حصوںمیں محسوس کئے گئے جن میں سوار، بنو اور پشاور قابل ذکر ہیں۔

افغانستان کے بیشتر علاقوں میں بھی زلزلے کے زوردار جھٹکے محسوس کئے گئے جبکہ دلی، غازی آباد، نوئیڈ ا اور گرگاﺅں سمیت بھارت کی شمالی ریاستوں میں بھی زلزلے کے جھٹکوں سے خوف و ہراس پھیل گیا۔کے ایم این کے مطابق امریکی ارضیاتی سروے کا کہنا ہے کہ ریکٹر پیمانے پر زلزلے کی شدت6.1تھی ، اس کا مرکزافغانستان تاجکستان سرحد پر ہندو کش پہاڑیوں میں تھااور یہ زمین کے اندر قریب191کلومیٹر کی گہرائی میں آیا۔

یو ایس جیالوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز افغان دارالحکومت کابل سے 265کلومیٹر شمال مشرق اور پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے چترال علاقے سے 120کلومیٹر مغرب میں تھا۔اس علاقے میں متواتر طور زلزلے آتے ہیں۔زلزلے سے اگر چہ کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے، تاہم پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ایک اسکولی عمارت گرنے سے ایک طالبہ کی موت واقع ہوئی اور9دیگر طلباءزخمی ہوئے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے