حکومت ریاست میں مستقل امن بحال کرنے کیلئے کوشاں: نعیم اختر

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
 کئی ٹی وی نیوز چینلوںکی طرف سے شروع کئے گئے پروپیگنڈہ ے جلتے پر تیل کا کام کیا
جموں /29 جنوریتعمیرات عامہ کے وزیر نعیم اختر نے کہا ہے کہ حکومت جموں وکشمیرمیں دیر پا امن لانے کے لئے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے ۔انہوں نے شوپیاں میں فوج کی فائرنگ کے دوران عام شہریوں کی ہلاکت پر دُکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے ۔شوپیاں فائرنگ اور وہاں ہوئی ہلاکتوں کے حوالے سے ایوان بالا میں ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے شہری ہلاکتوں کا معاملہ مرکزی وزیر دفاع کے ساتھ اُٹھایا ہے اور اس بد قسمت واقعے کی تحقیقات کے احکامات بھی صادر کئے گئے ہیں۔نعیم اختر نے کہا کہ کئی مفاد خصوصی رکھنے والے عناصر کی طرف سے امن کوششوں کو زک پہنچانے کے لئے ماحول قائم کیا جارہا ہے اور تشدد دار ملی ٹنسی واقعات سے بھی امن کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہمیں سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر ایک اتفاق رائے پیدا کر کے مسئلے کا دائمی حل نکالنے کے لئے کام کرنا چاہیئے تاکہ تشدد کے اس دورکا خاتمہ ہو سکے ۔انہوں نے کہا کہ تشدد سے ہماری زندگیاں ، ہماری اقتصادیات ، ہماری تعلیم اور ہمارے سماجی اقدار بھی تباہ ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے مسائل کا حل نکالنے کے لئے بات چیت ہی واحد ذریعے ہے ۔نعیم اختر نے الزام لگایا کہ کچھ ٹی وی چینل کشمیر اور کشمیریوں کے خلاف ایک منفی مہم چلارہے ہیں جو بقول ان کے جلتے پر تیل چھڑکنے کا کام کرتا ہے ۔اس سے قبل کئی ارکان نے شوپیاں میں حالیہ فائرنگ اور ہلاکتوں پر قانون ساز کونسل میں ہوئی بحث میں حصہ لیا ۔بحث کی شروعات قیصر جمشید لون کی ۔انہوں نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کے عمل میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا۔ سریندر کمار امباردار نے شہریوں کی ہلاکتوں پر دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے دلدوز واقعات کو روکا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے تشدد کے خاتمے کے لئے ایک مذاکراتی عمل شروع کرنے کی وکالت کی۔یاسر ریشی نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسئلے کو ایک ہی مرتبہ حل کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کئے جانے چاہیئے ۔ انہوں نے ریاست میں امن کی بحالی کے لئے مرحوم مفتی محمد سعید کے نقش راہ پر عمل پیرا ہونے کی بھی وکالت کی۔ انہوں نے واجپائی کے دور کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان دنوں دونوں ممالک کے درمیان رشتوں کو مستحکم کرنے کےلئے کئی اقدامات کئے گئے جن سے ریاستی عوام کو بھی راحت کی سانس نصیب ہوئی ۔غلام نبی مونگا نے شوپیاں میں فائرنگ کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہیں آنے چاہیئے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر معاملے کے حل کے لئے کام کرنا چاہیئے۔انہوں نے مجسٹریل تحقیقات کرنے اور ایف آئی آر درج کرنے کاخیرمقد م کیا۔رومیش اروڑہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سیاسی لیڈروں کو ریاست کے حالات سدھارنے کے لئے مل جل کر کام کرنا چاہیئے اور امن عمل کو تقویت بخشی جانی چاہیئے۔شوکت احمد گنائی نے اس طرح کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے سوگوار کنبوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہاکہ ریاست میں تمام سٹیٹ ہولڈروں کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کیا جانا چاہیے۔فردوس احمد ٹاک نے اس واقعہ کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات روکنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کئے جانے چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس معاملے پر سیاست نہیں کھیلنی چاہیئے بلکہ پارٹی وابستگیوں سے آگے بڑھ کر ایک اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیئے تاکہ مسئلے کا مستقل حل نکالا جاسکے ۔انہوں نے شوپیاں میں پیش آئے واقعہ کی مجسٹریل تحقیقات اور ایف آئی آر درج کرنے کا خیرمقدم کیا۔
Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے