کپواڑہ قتل عام سے متعلق تفصیلی رپورٹ منظر عام  

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

عالمی ادارے ملوثین کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے /محمد احسن انتو

سرینگر /27جنوری /کے پی ایس
انٹر نیشنل فورم فار جسٹس، ہومین رائٹس نے سنیچروار کو سرینگر میں کپواڑہ قتل عام سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ منظر عام پر لائی ۔ خیال رہے کہ 27جنوری 1994میں پیش آئے اس واقعہ میں 27عام شہریوں کو فوج نے جاں بحق کیا تھا ۔ کے پی ایس کے مطابق سرینگر کی پرتاب پارک میں سنیچروار کو انٹر نیشنل فورم فار جسٹس ،ہومین رائٹس کے چیرمین محمد احسن انتو نے شکیل کلندر ، عبد المجید زرگر ،شبیر احمد ڈار ، محمد اقبال میر ، سجاد گل او ر سجاد شہداد،نثار شداد کے ہمراہ کپواڑہ قتل عام سے متعلق25ویں برسی کے موقعہ پر ایک تحریری رپورٹ پیش کی۔اس موقعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے محمد احسن انتو نے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے وہ اس قتل عام میں ملوث اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں اپنا رول ادا کرے ۔انہوں نے بتایا کہ اس قتل میں جو ملوث ہے ان کو مرکزی سرکار نے ڈیفنس ایکسپرٹ کے بطور اپنے مباحثے میں جگہ دی ہے ۔ اس موقعہ پر احتجاج میں شامل افراد نے ہاتھوں میں بینر اٹھا یا تھا جس پر جموں کشمیر کے سابق گورنر جگموہن اور سابق فوجی افسر جنرل جے ڈی بخشی کی تصاویر چسپاں تھی ۔اس موقعہ پرمحمد احسن انتو نے بتایا کہ عام شہریوں کو 26جنوری کے موقعہ پر ہڑتال کرنے کے پاداش میں موت کی گھاٹ اتار دیا گیا تاہم اس میں ملوث کسی بھی اہلکار کو آج تک نہ ہی گرفتار کیا گیا اور نہ کسی کو سزا دی گئی ۔انہوں نے بتایا کہ حد تو یہ ہے کہ اس معاملے میں اس وقت ضلع ترقیاتی کمشنر کو فوج نے اپنے ہیڈ کواٹر میں بُلا کر اس پر دباؤ ڈالا گیا ۔جاری کردہ رپورٹ کے مطابق محمد احسن انتو نے اس وقعے سے متعلق انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن سے رجوع کرتے ہوئے درخواست دی تھی جبکہ عرضی میں یہ استداء کی کہ کمیشن 27جنوری 1994کو کپواڑہ چوک میں پیش آئے خونین قتل عام سے کیس کے سر نو تحقیقات کیلئے ہدایت جاری کریں ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے