سرینگر:شوپیان تصادم میں جاں بحق ہوئے دو مقامی حزب جنگجوﺅں سمیت3نوجوانوں کی یاد میں پیر کو پلوامہ اور شوپیان اضلاع میں مکمل ہڑتال اور سخت پابندیوں کے بیچ تینوں کی تجہیز و تکفین میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ اس دوران کاکہ پورہ میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان پر تشدد جھڑپیں بھی ہوئیں جبکہ کشیدہ صورتحال کے باعث دونوں اضلاع میں موبائیل انٹرنیٹ سروس کے ساتھ ساتھ سرینگر اور بانہال کے درمیان ریل سروس بھی معطل کردی گئی۔ کے ایم این نمائندے کے مطابق بدھ کی شام 4بجے جب سیکورٹی فورسز نے کیگام شوپیان کے چھئے گنڈ امی گاﺅں کو گھیرے میں لیا تو وہاں موجود جنگجوﺅں کے ساتھ ان کی شدید جھڑپ ہوئی جس دوران اُس رہائشی مکان کوبارودی دھماکے سے تباہ کردیا گیا جس میں جنگجو مورچہ زن تھے۔بعد میں مکان کے ملبے سے دو جنگجوﺅں کی لاشیں برآمد کی گئیں جن کی شناخت فردوس احمدلون ساکن گنو پورہ اورسمیر احمد وانی ساکن اڈو چھئے گنڈکے بطور کی گئی ۔پولیس کا کہنا ہے کہ سمیرچار ماہ قبل لاپتہ ہونے کے بعد حزب المجاہدین میں شامل ہوا تھا جبکہ فردوس نے سال2016کی ایجی ٹیشن کے دوران عسکری جدوجہد کا راستہ اختیار کیا تھا ۔جھڑپ کے دوران شاکر احمد میر ساکن قلم پورہ نامی 17سالہ نوجوان گولیوں کی زد میں آکر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا جبکہ دو لڑکیاں زخمی ہوئیں۔کے ایم ا ین نمائندے کے مطابق دونوں جنگجوﺅں اور 17سالہ شاکر احمد کے جاں بحق ہونے پرجمعرات کو پلوامہ اور شوپیان اضلاع کے بیشتر قصبہ جات ،پانپور، سامبورہ ،پلوامہ اونتی پورہ ،کاکہ پورہ،شوپیان اور دیگر متعدد علاقوں میں تعزیتی ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔دکانیں، کاروباری ادارے اور دفاتر وغیرہ مکمل طور بند جبکہ گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔نمائندے نے بتایا کہ تینوں کی لاشیں بدھ کی شب ہی ان کے لواحقین کے سپرد کرکے اپنے اپنے آبائی علاقوں کو پہنچائی گئیں ۔ان علاقوں میں غم و الم کے ماحول ہے بیچ نعرے بازی رات بھر جاری رہی اور صبح ہوتے ہی نزدیکی علاقوں سے لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔ حالانکہ لوگوں کو ان علاقوں تک پہنچنے سے روکنے کےلئے اہم سڑکوں کی سخت ناکہ بندی کی گئی تھی ، تاہم اس کے باوجودجمعرات کی دوپہر انجام دی گئی تینوںکی تجہیز و تکفین میںمزاحتمی لیڈران ، کارکنوں، خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں لوگ شریک ہوئے ۔انہیں اسلام و آزادی کے حق میں فلک شگاف نعروں کے بیچ سپرد لحد کردیا گیا۔کے ایم ا ین نمائندے نے بتایا کہ سمیر احمد کی نماز جنازہ میں لوگوں کی اس قدر بھاری تعداد نے شرکت کی کہ اس کی نماز جنازہ پانچ مرتبہ ادا کی گئی ۔شاکر احمد کی نماز جنازہ بھی کئی بار ادا کی گئی۔نمائندے کے مطابق اگر چہ امن و قانون کو برقرار رکھنے کےلئے پلوامہ، کاکہ پورہ اور سامبورہ سمیت کئی علاقوں میں فورسز کی بھاری تعداد تعینات کی گئی تھی، تاہم اس کے باوجودکاکہ پورہ میں صبح کے وقت نوجوانوں کی ٹولیاں نمودار اور احتجاجی مظاہرے شروع کئے ۔ صورتحال پرقابو پانے کےلئے پولیس اور سی آر پی ایف کے مزید دستے طلب کئے گئے لیکن مشتعل مظاہرین نے شدید پتھراﺅ کیا۔جواب میں مظاہرین پر لاٹھی چارج اور ٹیر گیس شیلنگ کرکے صورتحال پر قابو پالیا گیا۔ادھرشوپیان جھڑپ کے تناظر میںبدھ کی شام حکام نے پلوامہ اور شوپیان اضلاع میں احتیاط کے بطور2G، 3Gاور4Gموبائیل انٹرنیٹ خدمات معطل رکھنے کی مواصلاتی کمپنیوں کو ہدایت دی جس پر عمل کرتے ہوئے انٹرنیٹ سروس بند رکھی گئی اور یہ سلسلہ جمعرات کو بھی جاری رہا۔ پولیس نے بتایا کہ یہ اقدام بے بنیاد افواہ بازی سے بچنے کےلئے اٹھایا گیا۔دریں اثناءپر تناﺅ حالات کے پیش نظر جمعرات کو سرینگر اوربانہال کے درمیان ریل سروس ٹھپ رہی۔ ریلوے حکام کے مطابق یہ اقدام حفاظتی وجوہات کی بناءپر احتیاط کے بطور اٹھایا گیا۔

