شہری ہلاکت :نمازِ جمعہ کے بعد احتجاج کی اپیل :مزاحمتی قیادت

سرینگر:مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے شوپیان معرکے میں جاں بحق ہوئے عسکریت پسندوں کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے، جبکہ 17سالہ معصوم نوجوان شاکر احمد میر کو راست فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق اور متعدد کو پیلٹ اور بُلٹ کے ذریعے زخمی کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز نے ریاست کی نوجوان نسل کو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ہلاک کرنے کا سلسلہ دراز کیا ہوا ہے۔

موصولہ بیان کے مطابق مزاحتمی قیادت نے اس قتل عام کو بھارت کی جمہوریت کی جانب سے ہندنواز سیاست دانوں کے لیے تحفہ قرار دیا جو ریاست میں بھارت کے یومِ جمہوریہ کے موقعے میں ریاست میں ظلم وجبر کی بنیاد پرقوم کو یرغمال رکھ کر جشن منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور اس جشن کو کامیاب بنانے کے لیے ملازموں اور اسکولی بچوں کو زبردستی شامل کرکے بھارت کے تئیں اپنی غلامی کی سند حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

قائدین نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس قتل عام اور ظلم وجبر کے خلاف جمعتہ المبارک کو نماز جمعہ کے بعد ریاست کے طول وعرض پُرامن اور پروقار احتجاج کریں، جبکہ انہوں نے ائمہ مساجد سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے جمعہ خطابات میں لوگوں کو اس ظلم وجبر اور بربریت سے باخبر کرائیں اور اس حوالے سے اپنا احتجاج درج کریں۔

اپنے ایک مشترکہ بیان میں مزاحمتی قیادت نے شہدائے شوپیان کو شاندار الفاظ میں خرج عقیدت پیش کیا اور کہا” ہمارے یہ نوجوان عالمی ضمیر کو جگانے اور اپنی قوم کو جبری فوجی قبضے سے آزاد کرنے کے لیے اپنی معصوم زندگیوں کو قربان کررہے ہیں، تاکہ اقوامِ عالم ان قربانیوں کا نوٹس لے کر جموں کشمیر کے مظلوم عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے حوالے سے اپنا منصبی فریضہ انجام دے، جبکہ ساتھ ہی ہماری قوم پر بھی یہ اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان عظیم اور بے مثال قربانیوں کی حفاظت کریں اور کسی بھی سطح پر ظالم اور ان کے مقامی مددگاروں کا ساتھ نہ دے جو ہمارے ان اَدھ کھلے پھولوں کو مسل کر ہمارے باغ کو لالہ زار بنارہے ہیں“۔

مزاحمتی قیادت نے پُرامن احتجاج کررہے مظاہرین پر اندھی طاقت کے استعمال کے نتیجے میں معصوم نوجوان کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی کرنے کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورت حال کسی بھی انسان کے لیے قابل برداشت نہیں ہوسکتی ہے۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور انسان دوست تنظیموں سے اپیل کی وہ ان انسانیت سوز اور وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرکے مظلوم قوم کے تئیں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

قائدین نے جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال کو انتہائی گھمبیر اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی فورسز نے ریاست کے اطراف واکناف میں ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم کررکھا ہے اور وہ یہاں منصوبہ بند طریقے پر ہمارے نوجوانوں، بچوں اور یہاں تک کہ خواتین کو اپنی درندگی کا نشانہ بناکر انہیں دن دھاڑے قتل کررہا ہے۔

اس دوران سید علی گیلانی نے شوپیان کے معرکے میں جاں بحق ہوئے فردوس احمد کے نماز جنازہ سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرفروش اپنی قوم کو بھارت کی بدترین غلامی سے آزادی کرنے کے لیے اپنی اٹھتی جوانیاں قربان کررہے ہیں اور قوم پر یہ ذمہ داری ڈالتے ہیں کہ وہ ان قربانیوں کی حفاظت کریں۔ انہوں نے کہا” بھارت کی غلامی میں ہماری کوئی بھی چیز محفوظ نہیں ہے، چاہے ہمارا دین،ایمان، جان، کلچر، تعلیم، وسائل، جائیداد، عزت، رہن سہن، وقار، شناخت ہو، سب کچھ داو¿ پر لگا ہوا ہے، اس لیے ہمیں اس غلامی کی لعنت سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اپنی جدوجہد کو جاری رکھنا چاہیے“۔

گیلانی نے لوگوں سے مجوزہ پنچائتی الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ رروزانہ اپنے معصوموں کے جنازے اُٹھا رہے ہوں وہ کسی بھی طوران کی قربانیوں کو مراعات کے عوض بھیج کھانے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے تائید حاصل کی کہ وہ ان نام نہاد انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرکے شہداءکے تئیں اپنی محبت کا اظہار کریں ۔ ادھر 25جنوری 90ءکے ہندواڑہ قتل عام کی یاد میں قصبے میں مشترکہ آزادی پسند قیادت کی اپیل پر ایک ہڑتال کی گئی، جبکہ تحریک حریت کے اہتمام سے ہندواڑہ میں شہداءکی بلندی¿ درجات کے لےے دعائیہ مجلس کا اہتمام عمل میں لایا گیا ۔

مزاحمتی قائدین نے شہداءکی یاد میں ہڑتال کرنے پر قصبہ ہندواڑہ کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ باضمیر قوم کبھی بھی اپنے شہداءکے مقدس خون کو کبھی فراموش نہیں کرتے، جنہوں نے ان کے کل کے لیے اپنا آج قربان کیا ہوتا ہے۔ مزاحمتی قائدین نے 25جنوری 1998ءوندہامہ قتلِ عام کے واقعہ جس میں 23معصوم کشمیری پنڈتوں کو ہلاک کردیا گیاکو یاد کرتے ہوئے ہوئے پنڈت برادری سے اپنی اظہار یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا ۔ قائدین نے ان جیسے تمام واقعات کی کسی غیر جانبدار ادارے کے ذریعے سے تحقیقات کرانے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں پچھلے 30سال کے دوران میں بھارتی فورسز نے ہزاروں بے گناہ شہریوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ہے، البتہ قتل عام کے ان واقعات کی تحقیقات کرانے میں بھارت کسی قسم کی دلچسپی نہیں دکھا رہا ہے، لہٰذا عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں آگے آئے اور نہتے شہریوں کو انصاف دلانے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے