سرینگر: جنوبی کشمیر میں چار روز کے عرصے کے دوران سیکورٹی فورسز پر تیسرے گرینیڈ حملے میں جنگجوﺅں نے سرینگر جموں شاہراہ پرکھریو چوک پانپور کے نزدیک فورسز پر ہتھ گولہ داغا جس کے نتیجے میں ایک راہگیر زخمی ہوا اور سڑک پر کھڑی کئی گاڑیوں کو شدیدنقصان پہنچا۔
اس دوران جنگجوﺅں نے پلوامہ ضلع میں ہی پولیس چوکی لاسی پورہ کو نشانہ بناتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کی جبکہ طرفین کے مابین کچھ دیر تک گولیوں کے تبادلے کے بعد ایک وسیع علاقے کو محاصرے میں لیکر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی گئی۔ کے ایم ا ین نمائندے نے پلوامہ سے اطلاع دی ہے کہ پیر کی دوپہر سوا دوبجے کے قریب مسلح افراد نے کھریو چوک پانپور میں فورسز پر گرینیڈ حملہ کیا۔
نمائندے کے مطابق 26جنوری کے پیش نظر امن و قانون کو برقرار رکھنے کےلئے قصبے کے کئی علاقوں خاص طور پرسرینگر جموں شاہراہ پرپولیس ، فوج اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ جنگجوﺅں نے فورسز اہلکاروںکو نشانہ بناتے ہوئے ایک ہتھ گولہ داغاجو نشانہ چوک کروہاں کھڑی سومو گاڑیوں کے بیچوں بیچ گر کر ایک زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔اس واقعہ میں ایک راہگیر آہنی ریزوں کی زد میں آکرمضروب ہوا اور اسے فوری طور پر سب ضلع اسپتال پانپور میں داخل کرایا گیا۔
اس کی شناخت فیروز احمد بٹ ساکن درنگہ بل پانپور کے بطور ہوئی ہے اورپولیس کا کہنا ہے کہ اسکے پیر میں معمولی چوٹ آئی ہے۔دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ اس کی آواز پورے علاقے میں سنی گئی اور اس کے نتیجے میںسڑک پر کھڑی کئی گاڑیوں کے شیشے بھی چکناچور ہوگئے ۔ان میں زیادہ ترسومو گاڑیاں گاڑیاں شامل ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے جوابی کارروائی کے بطور ہوا میں گولیوں کے متعدد راﺅنڈ فائر کئے جس کے باعث قصبے میں خوف و ہراس پھیل گیا، دکاندار وں نے آناً فاناً اپنی دکانیں بند کیں ، راہگیروں کو محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے دیکھاگیا اور شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت روک دی گئی۔واقعہ کے بعد پولیس اور فورسز نے نزدیکی علاقوں کو گھیرے میں لیکر سخت ناکہ بندی کی ، تاہم پولیس کو حملہ آوروں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔کچھ دیربعد حالات معمول پر آگئے اور شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیاں بھی بحال ہوئیں۔ کشیدہ حالات کے پیش نظر حساس مقامات پر فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ۔
واضح رہے کہ یہ جنوبی کشمیر میں گزشتہ چار دنوں کے دوران پولیس اور سیکورٹی فورسز پر جنگجوﺅں کا تیسرا گرینیڈ حملہ تھا۔جمعہ کو پولیس اسٹیشن پلوامہ جبکہ اتوار کو پولیس اسٹیشن شوپیان پر اسی طرح کے حملے کئے گئے جن میں پولیس کے8اہلکار مضروب ہوئے۔ جنوبی کشمیر کے ہی پلوامہ سے کے ایم ا ین نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ ضلع کے لاسی پورہ علاقے میں اُس وقت افراتفری پھیل گئی جب مسلح حملہ آوروں نے پولیس چوکی لاسی پورہ پر شدید فائرنگ کی۔
یہ واقعہ پیر کی سہ پہر قریب پونے تین بجے پیش آیا اور جوابی کارروائی کے بطور پولیس اہلکاروں نے بھی گولی چلائی۔گولیوں کی گھن گرج سے پورے علاقے میں اتھل پتھل مچ گئی اور بازا ر آناً فاناً سنسان ہوگئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ کرنے والے جنگجو پولیس پوسٹ سے تھوڑی ہی دوری پر ایک نالے میں گھات لگاکر بیٹھے تھے۔تاہم اس واقعہ میں پولیس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔فائرنگ کے کچھ دیر بعد ایس او جی،55آر آر اور سی آر پی ایف سے وابستہ اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے نزدیکی علاقوں کو گھیرے میں لیکر تلاشی کارروائی کا آغاز کیا۔آخری اطلاع ملنے تک گھر گھر تلاشی جاری تھی تاہم فورسز کو حملہ آوروں کے بارے میں کوئی جانکاری حاصل نہیں ہوئی۔فائرنگ کے بعد بازار مکمل طور بند رہے اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ پر تناﺅ حالات کے پیش نظر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی کمک کئی مقامات پر تعینات کی گئی۔

