بھارت کیساتھ جموں وکشمیر سمیت تمام دیرینہ تنازعات کے پرامن حل کے خواہاں /نواز شریف 

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا حامی

سرینگر/05جولائی / پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے کی بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نے ایک بار پھر اس بات کو واضح کیا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جموں وکشمیر سمیت تمام دیرینہ تنازعات کے پرامن حل کا خواہاں ہے۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے معاونین کے بغیر ملاقات کے دوران پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جموں وکشمیر سمیت تمام دیرینہ تنازعات کے پرامن حل کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے کنٹرول لائن پر کشیدگی بڑھائی اور بھارتی فوج نے بارہا جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا حامی رہ چکا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ تمام مسائل کو مذکرات کے ذریعے حل کئے جا سکتے ہیں لیکن بھارت نے ہمیشہ ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا ہے ۔ نواز شریف کا کہنا ہے کہ بھارت خطے میں اپنی بالا دستی قائم رکھنا چاہتا ہے جس کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر میں کشمیری عوام کی حق خود اردیت کو دبانے کیلئے کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ دھائے ہیں اور پاکستان نے تمام مظالم کو عالمی سطح پر اُجاگر کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں عوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور کشمیری عوام کی سیاسی و سفارتی حمایت جاری رہیگی ۔ نواز شریف نے کہا کہ کاسا1000 منصوبہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم تاجکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تاجکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات بڑھانے کے روشن امکانات موجود ہیں۔نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ تاجکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو پچاس کروڑ ڈالر سالانہ تک بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک اپنے اس ہدف کے حصول کے لئے ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سال 2015 میں دوشنبے میں تین تجارتی نمائشوں کا انعقاد کیا جبکہ رواں سال تاجکستان میں ایک کاروباری فورم کا اہتمام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ تاجکستان بھی پاکستان میں تجارتی میلوں کا اہتمام کرے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے