پلوامہ میں دھماکہ ،متعدد زخمی ،علاقے میں خوف ودہشت

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File photo

سرینگر: جنوبی قصبہ پلوامہ میںاُس وقت ایک زوردار دھماکے کے بعد فورسز کی ہوائی فائرنگ سے خوف و دہشت پھیل گئی جب جنگجوﺅں نے پولیس اسٹیشن پلوامہ کو گرینیڈ دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی تاہم گرینیڈ تحصیل آفس کے نزدیک گر کر پھٹ گیا جس کے نتیجے میں 2عام شہری زخمی ہوئے اورکئی گاڑیوں کو شدیدنقصان پہنچا۔

دھماکے کے بعد نوجوانوں نے تین اطراف سے پولیس تھانے پر شدید سنگباری کی جس کے جواب میں ان پر ٹیر گیس شیلنگ اور ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔کے ایم ا ین نمائندے نے پلوامہ سے اطلاع دی ہے کہ جمعہ کی سہ پہر3بجکر40منٹ پر مسلح افراد نے پولیس اسٹیشن پلوامہ پر گرینیڈ حملہ کیا۔

جمعہ کے پیش نظر امن و قانون کو برقرار رکھنے کےلئے قصبے کے کئی علاقوں خاص طور پر پولیس اسٹیشن کے باہر پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ جنگجوﺅں نے پولیس اسٹیشن کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ہتھ گولہ داغاجو نشانہ چوک کر پولیس اسٹیشن کے متصل تحصیل آفس کے نزدیک سڑک پر گر کر زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔اس واقعہ میں دو راہگیر آہنی ریزوں کی زد میں آکرمضروب ہوئے اور انہیں فوری طور پر ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ اس کی آواز پورے قصبے میں سنی گئی اور اس کے نتیجے میں تحصیل آفس میں کھڑی کئی گاڑیوں کے شیشے بھی چکناچور ہوگئے ۔ان میں زیادہ تر نجی گاڑیاں شامل ہیں۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن کی محافظت پر مامور پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے جوابی کارروائی کے بطور ہوا میں گولیوں کے متعدد راﺅنڈ فائر کئے جس کے باعث قصبے میں خوف و ہراس پھیل گیا، دکاندار وں نے آناً فاناً اپنی دکانیں بند کیں اور راہگیروں کو محفوظ مقامات کی طرف بھاگتے دیکھاگیا۔

واقعہ کے بعد پولیس اور فورسز نے نزدیکی علاقوں کو گھیرے میں لیکر سخت ناکہ بندی کی ، تاہم پولیس کو حملہ آوروں کا کوئی سراغ نہیں ملا ۔ دھماکے کے کچھ دیر بعد نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں پر نمودار ہوئیں اور انہوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی شروع کی۔

مظاہرین نے پولیس اسٹیشن کو تین اطراف سے گھیر کر اس پر شدید پتھراﺅ شروع کیا۔ابتدائی طور پر پولیس اور فورسز نے نوجوانوں کو منتشر کرنے کےلئے اشک آور گیس کے گولے داغے، تاہم جب سنگبازی میں شدت پیدا ہوئی تو فورسز نے ایک مرتبہ پھر ہوائی فائرنگ کی۔

طرفین کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔اس صورتحال کی وجہ سے دھماکے کے بعد قصبہ کے بازار مکمل طور بند رہے اور کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔پر تناﺅ حالات کے پیش نظر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی کمک کئی مقامات پر تعینات کی گئی۔ کے ایم این

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے