کشمیری نژاد خاتون برطانیہ کی پہلی مسلمان وزیر بن گئیں

کشمیر :برطانوی پارلیمانی رکن کشمیری نژاد نصرت غنی نے برطانیہ کی تاریخ میں پہلی مسلمان خاتون وزیر ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا۔اس سے قبل بھی برطانیہ میں کئی مسلمان سیاستدان برطانیہ کے کئی اہم سرکاری عہدوں پر تعینات ہونے کے اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔

نصرت غنی سے قبل نومبر 2017میں پاکستانی نژاد شبنم چوہدری اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس کی نہ صرف پہلی پاکستانی بلکہ پہلی ایشیائی و خاتون سپرنڈنٹ بنی تھیں۔اسی طرح میئر لندن صادق خان بھی وہ پہلے پاکستانی نڑاد اور مسلمان ہیں، جو دنیا کے اہم ترین شہروں میں سے ایک کے میئر منتخب ہوئے۔

اعزاز حاصل کرنے کے بعد نصرت غنی نے ٹوئیٹ کی کہ وہ پہلی مسلم خاتون وزیر بننے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔انہوں نے پہلی بار مسلمان خاتون وزیر کی حیثیت سے کامن آف ہاو¿س ڈسپیچ باکس میں اپنی تقریر کی ویڈیو بھی شیئرکی۔نصرت غنی کو ٹرانسپورٹ وزارت کا قلمدان دیا گیا ہے، جو وہاں کی اہم ترین وزارتوں میں سے ایک ہے۔

اگرچہ اس سے قبل بھی نصرت غنی حکومت کی مختلف معاملات پر بنی خصوصی کمیٹیوں میں بطور رکن کام کرچکی ہیں، تاہم انہیں پہلی بار وزارت کا قلمدان سونپا گیا ہے۔کشمیری نژاد نصرت غنی گزشتہ برس جون میں ہونے والے انتخابات میں ویلڈن حلقے سے کامیاب ہونے کے بعد نصرت غنی نے ملکہ ایلزبیتھ دوم کی موجودگی میں اردو میں حلف لے کر تاریخ رقم کی تھی۔

برطانوی پارلیمانی رکن کشمیری نژاد نصرت غنی پہلی مسلم خاتون بنی جنہوں نے ہاوس آف کامنز میں خطاب کیا۔رواں برس برطانوی کابینہ میں ہونے والے ردو بدل کے بعد وزیر اعظم تھریسا نے شعبہ ٹرا نسپورٹ میں انڈر سکریٹری کے عہدے پراپنی خدمات انجام دینے والی نصرت غنی کو نئی ذمہ داری تفویض کی گئی۔

نصرت غنی نے بحیثیت ٹرانسپورٹ وزیر ہاوس آف کامنز میں خطاب کیا۔نصرت غنی نے اپنے ٹویٹ میں کہا ”ہاوس آف کامنز میں خطاب کر کے انہوں نے تاریخ رقم کی کیوں کہ وہ پہلی مسلم خاتون وزیر ہیں جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا“۔انہوں نے مزید کہا کہ نئی ذمہ داری خوشی اور ذمہ داریوں سے پر ہے۔ رکن پالرلیمان بننے کے بعد سے ہی میں نے اپنی خدمات انجام دی ہیں۔

نصرت غنی کے ساتھ کام کرنے والے انچارج منسٹر کرش گریلنگ نے انہیں مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ میں انہیں نصرت غنی پر فخر ہے ، ان کے ساتھ کام کرنے کاتجربہ نہایت خوشگوار رہا۔ گزشتہ برس جون میں ہونے والے فوری انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد انہوں نے ملکہ ایلزبیتھ دوم کی موجودگی میں اردو میں حلف لے کر تاریخ رقم کی تھی۔

خیال رہے کہ 46 سالہ نصرت غنی کے والدین کا تعلق پاکستانی زیر انتظامکشمیر سے تھا، جو کئی دہائیاں قبل برطانیہ منتقل ہوگئے تھے۔نصرت غنی ستمبر 1972میں برطانیہ کی ریاست انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں پیدا ہوئیں، جہاں سے انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد برمنگھم سٹی یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

نصرت غنی نے سیاست میں آنے سے قبل مختلف فلاحی تنظیموں کے ساتھ بھی کام کیا، وہ بریسٹ کینسر سمیت مختلف شعبوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ منسلک رہیں۔نصرت غنی نے سیاست میں انٹری دینے سے قبل برطانیہ کے نشریاتی ادارے ’بی بی سی ورلڈ‘ کے ساتھ بھی کام کیا۔

نصرت غنی نے2013 میں سیاست میں انٹری دی، اور انہوں نے2015 کے عام انتخابات میں مشرقی سسیکس کے انتخابی حلقے ولیڈن سے کامیابی حاصل کی، وہ اس حلقے سے منتخب ہونے والی پہلی خاتون بھی بنیں۔

نصرت غنی کا تعلق برطانوی حکمران جماعت ’کنزرویٹو‘ سے ہے، ان کی بطور پہلی مسلم خاتون وزیر کی تقرری کو کئی برطانوی پارلیمنٹ ارکان نے خوش آئندہ قرار دیا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے