جموں :کٹھوعہ جموں میں معصوم بچی کے مبینہ اغوا اور بہیمانہ قتل کے واقعہ پر قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صوبہ جموں میں اقلیتوں کو ہراساں کیا جارہا ہے ۔نیشنل کانفرنس اور کانگریس اراکین اسمبلی نے کہا کہ ایک طرف حکومت’‘بیٹی پڑھاﺅ ،بیٹی بچاﺅ ‘ کا نعرہ دی رہی ہے ،دوسری جانب معصوم بچی کا قتل کیا جاتا ہے جبکہ بچوں کو جنسی تشدد سے محفوظ رکھنے کےلئے حکومت ناکام ہوگئی ہے ۔ادھر پارلیمانی امورات کے ریاستی وزیر عبدالرحما ن ویری نے ایوان کو بتایا کہ واقعے کی نسبت خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔
تعمیل ارشاد نامہ نگار نے جموں سے اطلاع دی ہے کہ جمعرات کو جونہی قانون ساز اسمبلی میں ٹھیک10بجے بجٹ اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی ،اپوزیشن کے ممبران اسمبلی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور انہوں نے کٹھوعہ جموں میں آٹھ سالہ معصوم بچی آصفہ بانو کے ایک ہفتہ قبل اغوا اور پھر موت کے گھاٹ اُتارنے کا معاملہ اٹھایا ۔
اپوزیشن کی جانب سے معصوم بچی کے اغوا اور بہیمانہ قتل کا معاملہ ایوان ِ اسمبلی میں اٹھانے کے دوران یہاں زبردست ہنگامہ آرائی کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے ۔اپوزیشن ممبران نے کہا ہے کہ ایک طرف حکومت ’بیٹی پڑھاﺅ ،بیٹی بچاﺅ ‘کا نعرہ بلند کررہی ہے ،لیکن دوسری جانب معصوم بچی کا قتل کیا جاتا ہے ۔
اپوزیشن ممبران نے معصوم بچی کے قتل کی مذمت کر تے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت صوبہ جموں میں بچوں کو جنسی زیادتیوں سے محفوظ رکھنے میں پوری طرح سے ناکام ہوگئی ہے ۔نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی علی محمد ساگر نے کہا کہ حکومت معصوم بچی کو تحفظ فراہم کرنے اور بچانے میں ناکام ہوگئی ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے میں ملوث درندہ صفت ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے ۔
کانگریس کے ممبر اسمبلی بانہال وقار رسول نے کہا کہ حکومت آٹھ روز تک بچی کو ڈھونڈ نے میں ناکام رہی اور انہوں نے پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ۔انہوں نے ایک ہفتے تک پولیس معصوم بچوں کو ڈھونڈ نکالنے میں ناکام رہی ،لہٰذا متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی جائے ۔
کانگریس کے ایک اور ممبر اسمبلی جی ایم سروری نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو فوری طور پر متعلقہ پولیس تھانے کے ’ایس ایچ او‘ کو معطل کرنا چاہئے ۔اپوزیشن ممبران نے الزام عائد کیا کہ صوبہ جموں میں اقلیتوں کو ہراساں کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے معاملے کی نسبت ایف آئی درج کرنے میں بھی تاخیر کی ۔
اس موقع پر ایوان میں موجود پارلیمانی امورات کے ریاستی وزیر عبدالرحمان ویری نے بتایا کہ حکومت نے واقعہ کی نسبت ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے ۔تاہم اپوزیشن ممبران اس جواب سے مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے بطور احتجاجاً ایوان اسمبلی سے واک آﺅٹ کیا اور پانچ منٹ بعد وہ دوبارہ ایوان میں داخل ہوئے ۔

