ڈورو اننت ناگ میں ایک ریچھ کو زندہ پکڑا گیا

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File Picture / Tameel Irshad

سرینگر/18فروری: محکمہ وائلڈ لائف نے ڈورو اننت ناگ میں ایک ریچھ کو زندہ پکڑا لیا ہے جبکہ محکمہ کی ٹیم نے گذشتہ 15روز میں کم سے کم تین درجن کے قریب تیندوں اور ریچھوں کو زندہ پکڑنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق محکمہ وائلڈ لائف جنوبی کشمیر نے آج اُجرو ڈوروں کے مقامی پر ایک ریچھ کو زندہ پکڑا لیا ہے ۔ چیف وائلڈ لائف وارڈن ساتھ کشمیر روف احمد زرگر نے اس ضمن میں بتایا ہے کہ جنگلات میں بھاری برف جمعہ ہونے کے نتیجے میں جنگلی جانور خوراک کی تلاش میں بستیوں میں گھس آتے ہیں جہاں پر اکثر انسانوں اور جنگلی جانوروںکے درمیان آمنا سامنا ہوتا ہے نتیجتاجنگلی جانور انسانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں یا انسان جنگلی جانوروں کو ہلاک کرتے ہیں ۔ انہوںنے اس سلسلے میں روکنے کیلئے محکمہ نے پیر پنچال رینج کے دامن میں واقع جنگلی علاقوں میں محکمہ کی ٹیم ہمیشہ تعینات رہتی ہے تاکہ اس طرح کے واقعات کو روکا جائے اس کے علاوہ بستیوں میں جہاں سے جنگلی جانوروں کے آنے کی امید ہوتی ہے میں پھندے لگائے جاتے ہیں جن میں جنگل جانور پھنس جاتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ گذشتہ پندرہ روز میں محکمہ نے 36سے زائد تیندوں اور ریچھوں کو زندہ پکڑنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جنہیں ڈیکم وائلڈ لائف سنچری میں چھوڑا گیا ہے ۔ انہوںنے اس موقعے پر کہا کہ ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اگر کہیں پر کسی جنگلی جانور کو دیکھیں تو وہ از خود کوئی کارروائی نہ کریں بلکہ محکمہ کو مطلع کریں تاکہ لوگ بھی محفوظ رہ سکیں اور جنگلی جانوروں کو بھی بچایا جاسکے جو ہمارے جنگلات کی شان ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جنگلی جانور جنگلات کا اثاثہ ہے اور یہ قدرت کی جانب سے لوگوں کیلئے تحفہ ہوتا ہے جس کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جس طرح ہر انسان کو آزادی کے ساتھ زندہ رہنے کا حق حاصل ہے اسی طرح جنگلی جانوروں کو بھی جینا کا حق ہے اور ہم اس حق کو ان سے چھین نہیں سکتے ۔( سی این آئی )

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے