17/جنوری/ سرینگر//گاﺅ کدل ،ہندوارہ اور کپوارہ قتل عام بھارتی جابرانہ تسلط اور ظلم کے آئینہ دار ہیں۔ ناجائز فوجی تسلط کو دوام بخشنے کےلئے رچے گئے یہ قتل عام جمہوریت کی آڑ میں سفاکیت کا واضح پتہ دیتے ہیں۔ کشمیری قوم و ملت اپنے شہداءکہ جنہوں نے آزادی کےلئے اپنی جانیں نچھاور کیں کی قربانیوں کےلئے ان کی مقروض ہے اور مزاحمتی قیادت اپنے اس عہد کا اعادہ کرتی ہے کہ مقدس مشن کی تکمیل تک جدوجہد کو جاری رکھا جائے گا۔شہدائے گاﺅکدل، شہدائے ہندوارہ اور شہدائے کپوارہ کی برسیوں کے موقع پر ۱۲ ۵۲ اور ۷۲ جنوری کو گاﺅ کدل اور ملحقہ علاقہ جات، ہندوراہ اور کپوراہ قصبوں میں مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی جائے گی جبکہ ۱۲ جنوری کے روز گاﺅکدل میں ایک عوامی مجلس بھی منعقد ہوگی۔ان باتوں کا اظہار مشترکہ مزاحمتی قیادت بشمول سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے آج میڈیا کےلئے جاری اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔ افواج اور فورسز کے ہاتھوں۰۹۹۱ءمیںانجام دئے گئے گاﺅکدل، ہندوراہ اور کپوراہ قتل عام واقعات کو بھارتی ناجائز تسلط او ر ظلم و جبر کا آئینہ دار قرار دیتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا کہ بھارتی کے فوجی قبضے نے ۱۲ جنوری ۰۹۹۱ءمیں اسوقت کشمیریوں کا قتل عام شروع کیا جب ۱۲ جنوری ۰۹۹۱ءکے روز عام شہریوں پر جو مظالم اور ناجائز تسلط کے خلاف احتجاج کررہے تھے پر بندوقوں کے دہانے کھول دئے گئے اور ۰۵ سے زائد انسانوں کو پلک جھپکتے میں تہہ تیغ کیا گیا ۔ قتل عام کے اس سلسلے کو ۵۲ اور ۷۲ جنوری کے روز‘ہندوارہ اور کپوارہ میں بھی جاری رکھا گیا جہاں بھارتی قابضوں نے سفاک طریقے پر سیکڑوں افراد کو گولیوں سے بھون ڈالا اور مرتبہ شہادت پر پہنچادیا۔انہوں نے کہا کہ تحریک آزادی¿ ہند کے دوران‘متحدہ بھارت کی تاریخ میں انگریزوں نے ایک جلیانوالہ باغ قتل عام کو انجام دیا لیکن جموں کشمیر جیسی چھوٹی قوم کے خلاف بھارت نے بیسیوں ایسے ہی جلیانوالہ باغ جیسے ظالمانہ واقعات دہراکر ظلم و جبر کی نئی داستانیں رقم کی ہیں اور یہ قتل و غارت آج بھی شرم ناک طریقے پر جاری و ساری ہے۔ مشترکہ قائدین نے کہا کہ قتل عام اور ظلم و جبر کے یہ سلسلے صرف اسلئے انجام دئے جارہے ہیں کیونکہ بھارت یہاں کے لوگوں کو خوف زدہ کرکے انہیں تحریک مزاحمت سے باز رکھنا چاہتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت آج تک ایسا کرنے میں ناکام و نامراد ہوا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی ہونا طے شدہ بات ہے۔انہوں نے کہا کہ ۰۹۹۱ ءمیں کشمیریوں نے بھارت کے ناجائز تسلط اور ظلم و جبر کے خلاف ایک عوامی انقلاب کا آغاز کیا تو بھارتی سیاسی قیادت کے احکامات پر اسکی افواج اور فورسز نے اپنی قاتلانہ مہم کو شروع کیا اور ہزاروں لوگوں کو سفاک طریقے پر تہہ تیغ کرنے کا سلسلہ شروع کردیا۔قائدین نے کہا کہ ۱۲جنوری ۰۹۹۱ءکا دن جموں کشمیر کی ۵ ہزار سالہ تاریخ کا وہ اہم ترین دن ہے جس دن کشمیریوں نے اپنی آزادی کےلئے ایک عظیم عوامی انقلاب کی شروعات کی اور پہلے ہی دن سے سینہ سپر ہوکر ظلم و جبر کا سامنا کیا اور اسی سلسلے کو ہندوراہ اور کپوارہ کے لوگوں نے بھی جاری رکھا اور یہی تحریک آج تک شدومد کے ساتھ جاری و ساری ہے۔مشترکہ قیادت نے کہا کہ کشمیری قوم و ملت اپنے عظیم شہداءکہ جنہوں نے اپنا لہو بہا کو مقدس مشن کی آبیاری کی پر انکی مرہون منت ہے۔ ہم ان شہداءکے مقروض و مامون ہیں اور مشترکہ قیادت ان شہداءکے تئیں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے اس عہد کا اعادہ کرتی ہے کہ تحریک آزادی کو اس کی مطلوبہ منزل تک لےجانے کےلئے جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور اس راہ میں آنے والے شدائد و مصائب کا ڈت کر مقابلہ کیا جائے گا۔ (ان شاءاللہ)۔انہوں نے کہا کہ شہدائے گاﺅکدل، شہدائے ہندوراہ اور شہدائے کپوارہ کی یاد جو ۱۲ ۵۲ اور ۷۲ جنوری کو منائی جارہی ہے ‘ دراصل ہمارے لئے تجدید عہد کے ایام ہیں اور آج جب ہم ان شہداءکی یاد منارہے ہیں ہم اپنے اس عہد کا اعادہ کرتے ہیں کہ شہداءکے مشن کی تکمیل کےلئے جدوجہد کو جاری رکھےں گے۔ ۱۲ جنوری ۸۱۰۲ء(یوم شہدائے گاﺅکدل) پر لال چوک، گاﺅکدل، بڈشاہ چوک، مائسمہ،بسنت باغ،بربرشاہ،ریڈ کراس روڑ اور کوکر بازار علاقوں جبکہ( شہدائے ہندوارہ ) ۵۲ جنوری کے روز ہندوارہ قصبے اور( شہدائے کپوارہ) پر ۷۲ جنوری ۸۱۰۲ءکو کپوارہ قصبے میں مکمل ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا کہ ان ایام پر اپنے احتجاج سے ہم نہ صرف یہ کہ اپنے شہداءکی یاد کو تازہ کریں گے بلکہ ناجائز تسلط اور ظلم و جبر کے خلاف اپنی نفرت اور احتجاج کو بھی درج کریں گے۔ ان شاءاللہ۔ اس کے علاوہ یوم شہدائے گاﺅکدل کے حوالے ۱۲ جنوری ۸۱۰۲ءکو گاﺅ کدل کے مقام پر ایک عوامی جلسہ منعقد ہوگا جس میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ مشترکہ مزاحمتی قائدین و اراکین شرکت کریں گے اور شہدائے جموں کشمیر کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کریں گے۔
