کشمیری اسکالر کا جنگجوبننا باعث تشویش :ایس پی وید

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر :علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں کشمیری اسکالر کی جنگجووں کی صف میں شمولیت اور پولیس اہلکار کے بیٹے کا فدائین بننا گھمبیر اور باعث تشویش قرار دیتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پولیس نے آج کہا کہ کشمیرمیں نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں ڈالنا فورسز کےلئے چلینج ہے لہذا اس چلینج سے نمٹنے کےلئے کےلئے کثیر جہتی پالیسی مرتب کی گئی ہے ۔

دلی میں ایک مباحثے کے دوران ڈائریکٹر جنرل پولیس نے کشمیر کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ کشمیر میںصورتحال آہستہ ااہستہ بہتری کی جانب بڑھ رہی ہے لیکن کبھی کبھی ایسے واقعات رونما ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے امن کے ماحول کو خراب ہوتے دیر نہیں لگتی ہے ۔

ڈائریکٹر جنرل پولیس نے علی گڑھ یونیورسٹی میں زیر تعلیم کشمیری اسکالر کی جنگجووں کی صف میںشمولیت کو گھمبیر قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ واقعات ہمارے لئے چلینج ہیں کیونکہ یہ صورتحال بدلنے کی ضرورت ہے اور اس کےلئے ہمہ جہت پالیسی پر کار بند رہنا ہوگا ۔

انہوںنے کہاکہ کشمیری نوجوانوںکو صحیح راستے پر ڈالنا فورسز کےلئے ایک چلینج ہے کیونکہ کشمیر میں نوجوانوں کےلئے تفریح کا کوئی سامان نہیںہے اور اب اس ریاست میں سیاحت ہی وہ واحد شعبہ تھا جو نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا تھا لیکن پچھلے کئی برس سے حالات کی خرابی کے باعث یہ شعبہ اور صنعت بھی بری طرح سے متاثرہوگئی ہے لہذ ااب نوجوانوں کو مثبت راستوںپر ڈالنے کےلئے کئی ایک چلینج سامنے ہیں لیکن پولیس نے اس سلسلے میں ایک پالیسی تیار کر لی ہے جس میں نوجوانوں کو کھیل کود کی سرگرمیوںمیں جھونکنے کی کوشش کی جارہی ہے جس میں وہ اپنا ٹیلنٹ اور توانائی بہتر طور پرظاہر کر سکتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ یہ خوشی کی بات ہے کہ پولیس نے 85نوجوانوںکو جنگجوئیت کے راستے پر سے واپس لانے میں کامیاب حاصل کر لی ہے اور ان نوجوانوںنے جنگجوئیت کا راستہ چھوڑ دیا ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ اقدامات حالات کو امن کی جانب لانے میں مددگار بن رہے ہیں ۔انہوںنے مزید کہا کہ کشمیر کی صورتحال مجموعی طور پر اطمینان بخش ہے اور ایسے میں سنگبازی کے واقعات میں بھی کافی ساری کمی آئی ہے اوراس کا گراف کافی حد تک گر گیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پچھلے جمعہ کو پہلی مرتبہ سنگبازی کا ایک بھی واقعہ رونما نہیں ہوا یہی حالات کے بہتری کے آثار ہیں ۔ایسے میں ڈائریکٹر جنرل پولیس کا کہنا تھا کہ بہت سارے اقدامات اٹھائے جارہے ہیںجس میں مصیبت کے مارے نوجوانوں کو اچھے راستے پر ڈالا جارہا ہے ۔

انہوںنے کہا کہ فورسز کو بھی اس بات کےلئے جوابدہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ انسان دوست چہرہ لیکر سامنے آئے جس سے حالات کی بہتری میں کافی مدد ملی ہے ۔ انہوںنے مزید کہا کہ فورسز ،پولیس اور فوج مقامی نوجوانوں کو اس بات کا احساس دلا رہے ہیں کہ وہ ان کے اپنے ہیں اور پولیس اس پالیسی پر گامزن ہے جس میں نوجوانوں کو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ وہ بھی ان کے اپنے بچے ہیں اور مقامی جنگجووں کو کم از کم ایک بارسرنڈر کرنے کی مہلت بھی دی جارہی ہے کے نتیجے مین دس بچوں نے تشدد کا راستہ ترک کرکے گھروں کو آنے کو ترجیح دی اور ان کےخلاف کوئی کیس درج نہین کیاجارہا ہے ۔

انہوںنے کہاکہ اس کے علاوہ 75نوجوانوں کو بھی واپس لایا گیا اور ان کی گھر واپسی ہوئی ہے ۔تاہم انہوںنے کہاکہ اس سب کے باوجود بھی نوجوان اسکالر کی جنگجووں کی صف میںشمولیت اور پولیس اہلکار کے بیٹے کے فدائین حملہ کرنے جیسے دو اقدام پولیس کےلئے گھبیرصورتحال کا پتہ دیتی ہے ۔انہوںنے مزید کہاکہ یہ دونوں اقدامات حقیقی معنوں میں بڑی گھمبیر صورتحال کا مظہر ہیں اور باعث تشویش ہے لیکن اس کے باوجود بھی پولیس کسی بھی چلینج کا مقابلہ کرنے کےلئے تیار ۔انہوںنے کہاکہ ہمیں ایک طویل مدتی پالیسی لیکر آنا ہے تاہم اس ساری صورتحال کو اپنے حق میں کیاجاسکے ۔

انہوںنے کہاکہ کشمیر میں کسی بھی طرح سے نوجوانوںکو تشدد سے واپس لانے کی ضرورت ہے اور ایسے میںوالدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوںکوتشدد کا راستہ ترک کرنے پر آمادہ کریں کیونکہ فوج ،فورسز اور پولیس نے پہلے ہی مقامی جنگجونوجوانوں کےلئے عام معافی کا فیصلہ لیا ہے اور یہ عمل جاری رہےگا تاہم انہوںنے نوجوانوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ امن کے راستے پر گامزن ہوں کیونکہ تشدد کے راستے پر چل کر انہیں کچھ نہیں ملے گا ۔انہوںنے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ والدین کی اپیلوں اور فریادوںپر بہت سارے نوجوانوںنے بندوق کاراستہ ترک کرکے گھر واپسی کی ہے اور امید ہے کہ آئندہ بھی اس طرح کا سلسلہ برقرار رہےگا ۔الفا نیوز سروس

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے