شہری ہلاکت :ہڑتال اور سرکاری بندشوں سے زندگی مفلوج

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سری نگر: شہری ہلاکت کیخلاف مزاحمتی لیڈشپ کی کال پرمکمل ہڑتال کے بیچ شہرسری نگرمیں نصف درجن پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں بندشیں عائدرہیں جبکہ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر جنوبی کشمیر کے حساس علاقوں میں پابندیاں عائد رہنے کیساتھ ہی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پولیس وفورسزدستوں کوسریع الحرکت رکھاگیا۔

اُدھر سیدعلی گیلانی کی متواترخانہ نظربندی اورجمعہ کی شام میرواعظ کشمیرمولوی محمدعمرفاروق،میرواعظ جنوبی کشمیرقاضی یاسراوردختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کوخانہ وتھانہ نظربندکئے جانے کے بعدسنیچرکی صبح پولیس نے محمدیاسین ملک کی گرفتاری بھی عمل میں لائی جبکہ مختلف مزاحمتی جماعتوں کے بیشترلیڈروں اورکارکنوں کوپہلے ہی خانہ وتھانہ نظربند رکھا گیا ہے۔

گزشتہ دنوں جنوبی ضلع کولگام کے کھڈونی علاقہ میں ایک مظاہرے کے دوران خالدڈارنامی 22سالہ نوجوان کی ہلاکت کیخلاف احتجاجی ہڑتال رہی ۔احتجاجی ہڑتال کی کال متحدہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمدیاسین ملک دی تھی ۔ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر شہر سرینگر اور جنوبی کشمیر کے حساس علاقوں میں پابندیاں اور بندشیں عائد رہیں ۔

مزاحمتی قیادت کی خانہ ونظر بندی عمل میں لائی گئی ۔سنیچر کو وادی بھر میں شہری ہلاکت کے خلاف مکمل ہڑتال رہی ۔وادی بھر میں دکانیں، تجارتی مراکز اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا ۔سول لائنز کے لال چوک ،ریگل چوک ،کوکر بازار ،آبی گذر ،کورٹ روڈ ،بڈشاہ چوک ،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ ،مہاراجہ بازار ،بٹہ مالو اور دیگر اہم بازاروں میں تمام دکانیں اور کاروباری ادارے مقفل رہے اور ٹرانسپورٹ سروس معطل رہی۔ہڑتال کی وجہ سے شہرمیں ہر قسم کی سرگر میاں متاثر رہی اور لوگوں نے زیادہ ترگھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دی جس کی وجہ سے شہر میں خاموشی چھائی رہی ۔ تجا رتی مرکز اور شہر کے دیگر سیول لائنز علاقوں میں اس صورتحا ل کا کافی اثر دیکھنے کو ملا۔بیشترعلاقوں میں تعلیمی ادارے ،بینک اور دیگر نجی مراکز پر بھی تالا ہی دیکھنے کو ملا جبکہ سرکاری دفاترمیں ملازمین کی حاضری بھی معمول سے کافی کم رہی۔

ہڑتال اور سرکاری بندشوں کے نتیجے میں وادی بھر میں معمو لاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ۔شہر سرینگر میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر کئی پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں حکم امتناعی کے تحت بندشیں عائد رہیں ۔ رعناواری ،خانیار ،نوہٹہ ،ایم آر گنج اور صفاکدل کے علاوہ مائسمہ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں لوگوں کی نقل وحر کت پر پابندیاں عائد کی گئیں۔کے این ایس سٹی رپورٹر کے مطابق اِن پولیس تھانوں کے تحت آنے والے درجنوں علاقوں کو خار دار تاروں سے بھی سیل کیا گیا تھا ۔حکام کا کہنا ہے کہ امن وقانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے یہ اقدامات اٹھائے گئے ۔

ادھر جنوبی کشمیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہاں بھی حساس علاقوں میں اسی طرح کی صورتحال دیکھنے کو ملی ۔پائین شہر میں صبح سے ہی پولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی اور سڑکوں پر جگہ جگہ خاردار تار بچھائی گئی ،اس صورتحال کی وجہ سے پورے پائین شہر میں سناٹا اور ہوکا عالم چھایا رہا ۔کرفیو جیسی پابندیوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پائین شہر کے چپے چپے پر پولیس اورسی آر پی ایف اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔پائین شہر کے دیگر علاقوں میں بندشوں کے نتیجے میں ہو کا عالم تھا اور سڑکوں پرصرف فورسز اور پولیس اہلکار گشت کرتے نظر آ رہے تھے۔

ادھر سیول لائنز کے 2پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں بھی جزوی طور پر بندشیں عائد کی گئی تھی۔کولگام میں مکمل ہڑتال کے بیچ ہواور کشیدگی کا ماحول رہا۔ قصبہ کے علاوہ حساس مقامات پر فورسز اور پولیس اہلکاروں کی اضافی کمک کو تعینات کیا گیا تھا،اور انہیں کسی بھی طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہنے کی تاکید کی گئی تھی۔ مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ضلع کے اخراجی اور داخلی راستوں پر فورسز کے پہرے بٹھا دئیے گئے تھے۔اسلام آباد ضلع کے بجبہاڑہ،آرونی،سنگم، کھنہ بل،دیلگام،مٹن،سیر ہمدان،کوکر ناگ،وائل سمیت دیگر علاقوں میں مثالی ہڑتال دیکھنے کو ملی۔ڈورو ،ویری ناگ ،قاضی گنڈ اورکوکر ناگ میں مکمل ہڑتال رہی جس دوران تمام دکانیں بند رہی جبکہ سڑکوں سے ٹریفک غائب رہا۔اس دوران انتظامیہ نے قصبہ میں کسی بھی امکانی گڑھ بڑھ کو روکنے کیلئے حساس مقامات پر فورسزکو تعینات کیا تھا ۔وسطی کشمیر میں بڈگام اور گاندربل میں بھی مکمل ہڑتال کا سماں نظر آیا جس کے دوران معروف و مصروف بازار صحرائی منظر پیش کر رہے تھے۔

بارہمولہ اور کپوارہ میں ہڑتال کی وجہ سے نظام زندگی پوری طرح سے مفلوج رہا جس کے دوران تمام کاروباری اور عوامی سرگرمیاں مفلوج ہوکر رہ گئیں۔ اس دوران ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظرشہرسری نگراور جنوبی کشمیر کے حساس علاقوں میں پابندیاں عائد رہنے کیساتھ ہی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پولیس وفورسزدستوں کوسریع الحرکت رکھاگیا۔ یونیورسٹی سطح کے امتحانات کو ملتوی کیا گیا جبکہ ریل سروس بھی وادی میں معطل رہی ۔ریلوے حکام کے مطابق سیکورٹی ایڈوائزی پر وادی میں ریل سروس معطل رکھی گئی ۔سٹی رپورٹر کے مطابق لبریشن فر نٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو ہفتہ کی صبح اپنی رہائش گاہ واقع مائسمہ سے حراست میں لیا گیا ۔فرنٹ ترجمان نے ملک یاسین کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہفتہ کی صبح پولیس کی ایک پارٹی نے محمد یاسین ملک کی رہائش گاہ واقع مائسمہ سری نگر پر چھاپہ ڈالا اور ملک یاسین کو حراست میں لیا ۔

انہوں نے کہا کہ ملک یاسین کے علاوہ تنظیم کے سینئر لیڈر بشیر احمد کشمیری کو بھی حراست میں لیا گیا ۔اس کے علاوہ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی سمیت کئی مزاحمتی لیڈران کو خانہ نظر بند رکھا گیا ہے ۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری محمد یاسین ملک کو ممکنہ احتجاجی مظاہروں کی قیادت سے روکنے کیلئے عمل میں لائی گئی ۔ادھر حریت(گ) چیئرمین سید علی گیلانی کی طویل خانہ نظر بند ی برقرار ہے جبکہ جمعہ کی شب کو ہی میر واعظ عمر فاروق کو اپنی رہائش گاہ واقع نگین سری نگر پر خانہ نظر بند رکھا گیاجبکہ جنوبی کشمیرکے میرواعظ اوراُمت اسلامیہ کے سربراہ قاضی یاسرکوجمعہ کی شام حراست میں لیاگیا ۔یاد رہے کہ چار روز قبل کھڈ ونی کولگام میں فورسز کی فائرنگ سے22سالہ نوجوان خالد احمد ڈار جاں بحق ہوا تھا جبکہ کئی زخمی ہوئے تھے ۔اِس ہلاکت پر وادی بھر میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی جبکہ قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں میں بھی ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی تھی ۔ریاستی حکومت نے اس واقعہ کی تحقیقات کے احکامات صادر کئے ہیں

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے