سرینگر:مشترکہ مزاحمتی قیادت سے وابستہ قائدین و اراکین جمعرات کو زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ہمراہ جے کے ایل ایف کے دفتر واقع آبی گزر کے باہر جمع ہوگئے اور وہاں سے لالچوک کی جانب ایک پرامن احتجاجی جلوس نکالا۔
موصولہ بیان کے مطابق حریت (گ)،حریت(ع) اور لبریشن فرنٹ سے وابستہ قائدین و اراکین جن میں حکیم عبدالرشید، غلام نبی ذکی، نور محمد کلوال،بشیر احمد بٹ ایڈوکیٹ،غلام رسول ڈار ایدھی،فیروز احمد خان،رفیق احمد اویسی،ایڈوکیٹ شیخ یاسر دلال، میر سراج الدین،شیخ عبدالرشید،بلال احمد صدیقی ،فاروق احمد سوداگر، محمد یاسین عطائی، مولوی بشیر احمد، بشیر احمد کشمیری، محمد صدیق شاہ، مشتاق احمد خان، پروفیسر جاوید، ساحل احمد وار، فاروق احمد شیخ، محمد صدیق، خواجہ فردوس وانی، سید محمد شفیع،امتیاز احمد شاہ، گلشن عباس، محمد شفیع لون ،محمد صدیق، محمد یوسف ، بشیر احمد درباری ، بشیر احمد بویا، گلزار احمد پہلوان، جاوید احمد بٹ،محمد اسحاق گنائی، نثار احمد جیلانی،عبدالرشید مغلو، عبدالستار اوررفیق احمد واروغیرہ شامل تھے، نے کشمیری اسیروں پر مظالم اور کشمیر میں جاری نسل کشی کے خلاف آج آبی گزر لال چوک پر ایک منظم احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا ۔
ہاتھوں میں اسیروں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور جبر وتشدد نیز جاری و ساری نسل کشی کے خلاف پلے کارڈ اُٹھائے اور آزادی اور مزاحمت کے حق میں فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے شرکائے جلوس نے آبی گزر سے لال چوک مرکز کی جانب مارچ کیاجہاں اس جلوس نے پرامن دھرنے کی شکل اختیار کی جس سے جے آر ایل قائدین غلام نبی ذکی، حکیم عبدالرشید اور نور محمد کلوال نے خطاب کیا۔
درایں اثناءمشترکہ قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کالے قوانین اور نام نہاد و من گھڑت الزامات لگاکر ہزاروں بزرگ و جوان جیلوں اور دوسرے حراستی مراکز میں قید رکھے جارہے ہیں جہاں انہیں تعذیب و ترہیب کا نشانہ بنایا جارہا ہے، بھارتی حکمران یہ سب کچھ محض ان اسیروں کے ایام اسیری کو طول بخشنے کےلئے کررہے ہیں تاکہ ان اسیروں کو زیادہ سے زیادہ تکلیف و اذیت سے گزارا جاسکے۔قائدین نے کہا کہ سینکڑوں بزرگ و جوان ہیں جو بھارت کی جیلوں سے لیکر جموں کشمیر کی جیلوں میں کئی دہائیوں سے قید میں پڑے ہوئے ہیں،ہزاروں ہیں جن کو فرضی کیسوں میں ٹرائل پر رکھا جارہا ہے اور سالہاسال سے ضمانت بھی نہیں دی جارہی، بیسیوں ایسے ہیں جو عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور ہزاروں ایسے ہیں جو کالے قوانین کے تحت بند پڑے ہیں۔
قائدین نے کہا کہ پچھلے ایک برس سے بھارتی حکام اپنی ایجنسیوں این آئی اے اور ای ڈی کو کام میں لاکر مذید کشمیریوں جن میں سید شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، شاہد الاسلام،ایاز اکبر،پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان،فاروق احمد ڈار،ظہور احمد وٹالی،کامران یوسف، جاوید احمد اور شاہد یوسف شاہ وغیرہ کو فرضی کیسوں اور ٹریرر فنڈنگ جیسے بے ابنیاد الزام کے تحت نہ صرف یہ کہ قید میں ڈال چکے ہیںبلکہ کئی ایک کو دہلی بلا کر زچ اور تنگ طلب کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
قائدین نے کہا کہ یہ سب کچھ محض سیاسی انتقام گیری کےلئے ہورہا ہے اور اس کا مقصد کشمیریوں کی مزاحمت کو کچل کر بھارتی تسلط کو مضبوط بنانا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ مشترکہ مزاحمتی قائدین نے کہا کہ کچھ عرصے سے کشمیر کو ایک بدترین قتل گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے اور یہاں کسی کی بھی جان و مال یا عزت آبرو محفوظ و مامون نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میںکھڈونی اِسلام آباد میں پولیس و فورسز نے عوام الناس پر جس وحشیانہ انداز میں گولیاں‘ پیلٹ اور شیل داغے اور سیکڑوں لوگوں کو مجروح و مضروب کرنے کے ساتھ ساتھ ایک معصوم جوان خالد احمد ڈارکو شہید کیا‘ وہ اس جاری سرکاری دہشت گردی کا ایک نمونہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی قاتل فورسز اور افواج کشمیری معصومین کو سفاکانہ طور پر قتل کرنے کا کام کرتے ہیں، ان کے کشمیری گماشتے نام نہاد حکمران اور اسمبلی ممبر بن کر مگرمچھ کے ٹسوے بہانا اور ان واقعات کی تحقیقات کروانے کا اعلان کرنے کا دڑامہ رچتے ہیں تاکہ لوگوں کی توجہ قتل عام کے ان واقعات سے ہٹائی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر جاری یہ قتل عام دراصل کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ ہے جسے بھارتی افواج ، فورسز اور پولیس مواخذے کے کسی خوف کے بغیر انجام دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خون کے خوگر بھارتی افواج ہوں یا سفاک فورسز اہلکار یا ظلم کی کلہاڑی کا دستہ بنی ہوئی پولیس ‘ سبھی کا واحد کام کشمیریوں کو قتل کرنا بن چکا ہے کیونکہ ان فورسز اور افواج کو نہ ہی مواخذے کا کوئی خوف ہے اور نہ کسی اخلاقی حد کی کوئی فکر لاحق ہے۔
مشترکہ قیادت نے کہا کہ کشمیرمیں جتنے بھی لوگ 1947ءسے ابتک بھارتی فوجیوں، فورسز، پولیس اور ایجنسیوں کے ہاتھوں تہہ تیغ ہوئے ہیں یا ہورہے ہیں اُن کے قتل میں جہاں بھارتی افواج و فورسز کا ہاتھ ہونا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہوتی وہیں پر اس کی ذمہ داری براہ راست جموں کشمیر میں موجود بھارت نوازوں ، اسمبلی ممبران اور حکمرانوں کے سر عائد ہوتی ہے کیونکہ یہی لوگ اس قتل عام کو قانونی جواز اور قتل عام میں ملوث درندوں کو قانونی تحفظ فراہم کرکے شریک جرم ہوتے رہتے ہیں ۔ سنیچر وار‘مورخہ 13جنوری 2018ئ‘ کو مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی اپیل کو دہراتے ہوئے مشترکہ قیادت نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ اپنے منظم و مربوط احتجاج سے بھارت کے ساتھ ساتھ دنیا پر بھی واضح کردیں کہ کشمیری اس ظلم و جبر اور قتل عام کے باوجود اپنی تحریک مزاحمت سے باز نہیں آئیں گے اور یہ تحریک حصول منزل مقصود تک جاری رہے گی ۔a

