سرینگر:پی ڈی پی بھاجپا مشترکہ اجلاس میں اسپیکر کی شمولیت کو لیکر اپوزیشن پارٹیوں کے ہنگامے اورتابڑ توڑ حملوں کے بعد اسپیکر کویندر گپتا نے مستقبل میں اس طرح کی میٹنگوں میں شرکت نہ کرنے کا عہد کیا۔ادھر قانون سازکونسل کے چیرمین حاجی عنایت علی کو بھی ایوان میں اسی میٹنگ کے معاملے پر حزب اختلاف کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑا جس پر انہوں نے وضاحت کی کہ وہ میٹنگ میں نہیں بلکہ کسی کام کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ سے ملنے گئے تھے۔
جب اسمبلی میں معمول کی کارروائی شروع ہوئی تو حزب اختلاف نیشنل کانفرنس کے سینئرلیڈر علی محمد ساگر اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور حکمران پی ڈی پی و بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی اجلاس میں شرکت کرنے پراسپیکر کویندر کو آڑے ہاتھوں لیا۔واضح رہے کہ چند روز قبل جموں میں دونوں پارٹیوں کے ارکان قانون سازیہ کےلئے مشترکہ طور عشائیہ کا اہتمام کیا گیا جس کا مقصد جاری بجٹ اجلاس کے دوران اپوزیشن کا مقابلہ کرنے کےلئے حکمت عملی مرتب کرنا تھا۔اس اجلاس میں اسمبلی کے اسپیکر کویندر گپتا بھی شریک ہوئے۔
علی محمد ساگر نے کویندر گپتا سے مخاطب ہوکر کہا”آپ کا رول غیر جانبدارانہ ہونا چاہئے اور ایوان اسمبلی کا قائد ہونے کے ناطے آپ کو اس میٹنگ میں نہیں جانا چاہئے تھا“۔انہوں نے اسپیکر پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا”آپ پہلے اسپیکر ہیں جو سیاسی پارٹی کی میٹنگ میں شریک ہوا، یہ ایوان کی روایت کے مطابق نہیں ہے، اگر میں غلط ثابت ہوا تو کبھی یہ مسئلہ نہیں اٹھاﺅں گا“۔ساگر نے اسپیکر پر روایت توڑ نے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا”ممبران قانون سازیہ نے بار ہا اس بات پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے کہ اسپیکر اپنے آپ کو غیر جانبدار ثابت کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اور اس کے برعکس وہ خود بھاجپا ممبر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں“۔
انہوں نے کویندر گپتا سے مخاطب ہوکر مزید کہا”آپ کو اُس میٹنگ میں نہیں جانا چاہئے تھا جہاں اپوزیشن کا مقابلہ کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا“۔نیشنل کانفرنس کے ہی ایم ایل اے عید گاہ اور اسمبلی کے سابق اسپیکر مبارک گل نے ساگر کی تائید کی اور کہا کہ جب وہ اسمبلی کے اسپیکرمقرر ہوئے تو انہوں نے کسی سیاسی پارٹی کی میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔کے ایم ا ین نمائندے کے مطابق اپوزیشن کی دوسری سب سے بڑی پارٹی کانگریس نے بھی اس معاملے کو لیکراسپیکر پر زوردار حملے کئے۔ایوان میں پارٹی کے لیڈر نوانگ رگزن جورا نے اسپیکر سے مخاطب ہوکر کہا”آپ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ آپ حکمران اتحاد کے ممبر ہیں، ایوان کے اسپیکر نہیں، آپ ایسا پہلے بھی کرچکے ہیں“۔
پی ڈی ایف چیرمین حکیم محمد یاسین نے بھی اپوزیشن ممبران کو اپنے خدشات پربولنے کی اجازت دینے کے حق میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی میٹنگ تھی جس میں شامل ہوکر اسپیکر نے یہ ثبوت پیش کیا کہ وہ غیر جانبدار نہیں ہیں۔سی پی آئی ایم کے ریاستی سیکریٹری اور ایم ایل اے کولگام محمد یوسف تاریگامی بھی اسپیکر کو تنقید کا نشانہ بنائے بغیر نہ رہ سکے۔وہ اپنے مخصوص انداز میں کویندر گپتا سے مخاطب ہوئے اور کہا”آپ ایک پارٹی کے ممبر ہیں اور آپ کا اپنا نظریہ ہے، لیکن ساتھ ہی آپ ایک ایسے عہدے پر ہیں جو اعلیٰ تر ہے، ایوان کے قائد کو غیر جانبدار ہونا چاہئے“۔
ان کا مزید کہنا تھا” پارٹی اور حکومت جیسے ادارے اسپیکر کے عہدے کے سامنے بہت چھوٹے ہیں ، اسپیکر ایوان کا کسٹوڈین ہوتا ہے جہاں مختلف الخیال سیاسی پارٹیاں موجود ہوتی ہیں اور کام کرتی ہیں“۔تاریگامی نے اسپیکر پر تابڑ توڑ حملوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا”ہم اپنی طرف سے بہتر تجویز دے سکتے ہیں لیکن تسلیم کرنا یا نہ کرنا آپ پر منحصر ہے ، میں یہ بات زور دیکر کہوں گا کہ آپ کی اس میٹنگ میں شرکت روایات کے برعکس ہے“۔انہوں نے یہاں تک کہا کہ ”یہ ایوان کسی کی جاگیر نہیں ہے“۔
جب اسپیکر کویندر گپتا پر چاروں طرف سے اپوزیشن کی تنقید جاری رہی تو وہ دفاعی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے اور ایوان کو اس بات کا یقین دلایا کہ وہ مستقبل میں کبھی ایسی کسی میٹنگ میں نہیں جائیں گے۔تاہم انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف عشائیہ میں شرکت کرنے کی غرض سے گئے تھے۔انہوں نے اپوزیشن ممبران سے مخاطب ہوکر کہا”میں قبول کرتا ہوں اور ایوان کو اس بات کا یقین دلایا ہوں کہ میں مستقبل میں محتاط رہوں گا، اگر میرا سیاسی میٹنگ میں جانا غلط تھا تو میں یہ غلطی نہیں دہراﺅں گا“۔اسپیکر کی یقین دہانی کے بعد اپوزیشن ارکان خاموش ہوگئے اور ایوان میں معمول کی کارروائی شروع ہوئی۔
قانون سازیہ کے ایوان بالا کے چیرمین حاجی عنایت علی کو بھی اپوزیشن کی طرف سے اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔حاجی عنایت علی کا تعلق پی ڈی پی سے ہے اور وہ بھی اس میٹنگ میں گئے تھے جس پر اسمبلی میں حزب اختلاف نے شور شرابہ کیا۔کونسل کی کارروائی کے آغاز میں ہی نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ممبران نے اس بات پر اعتراض ظاہر کیا کہ چیرمین نے پی ڈی پی بھاجپا مشترکہ اجلاس میں شرکت کی۔
انہوں نے حاجی عنایت علی کو اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرنے کےلئے کہا۔این سی اور کانگریس کے قیصر جمشید لون، سجاد کچلو، غلام نبی مونگا ، علی محمد ڈار،شوکت احمد گنائی، نریش گپتا اور دیگر اپوزیشن ممبران نے چیرمین پر جانبداری کا مظاہرہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے زبردست ہنگامہ کیا اور چیرمین کی میز کے سامنے ایوان کے بیچوں بیچ آکر شور شرابہ کیا۔اس دوران تعمیرات عامہ کے وزیر نعیم اندرابی نے بھی مداخلت کرنے کی ناکام کوشش کی۔اس موقعے پر چیرمین حاجی عنایت علی نے احتجاجی ممبران سے خاموش رہنے کی درخواست کی لیکن انہوں نے احتجاج جاری رکھا جس کے بعد حاجی عنایت علی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ وہ نہ عشائیہ میں اور ہی میٹنگ میں شرکت کرنے بلکہ کسی اور کام کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ سے ملنے گئے تھے۔ کے ایم این

