سرینگر:مرکزی وزارت داخلہ نے آج واضح کر دیا کہ کشمیر میںداعش یا طالبان کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے جبکہ القاعدہ کے ذاکر موسی کے پاس 10جنگجووں کے علاوہ کوئی حامی نہیں ہے ۔ تاہم مرکزی حکومت کا کہنا تھا کہ کنٹرول لائن پر پاکستانی فوج کی اشتعال انگیزی جاری ہے ۔اس دوران مرکزی حکومت نے آج لداخ کو کشمیر سے جوڑنے کےلئے زوجیلا ٹنل تعمیر کرنے کی منظوری دے گی جو کہ 7برسوں میں مکمل ہوجائےگی ۔
مرکزی وزرات داخلہ نے آج اہم اعلان کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ کشمیر میں القاعدہ یا داعش کی موجودگی کااب تک کوئی ثبوت نہیں ملا ہے اور محض آئی ایس آئی کے ترنگے لہرانے والے گلیمر کے طور پر یہ جھنڈے لہراتے ہیں ۔امورداخلہ کے وزیر مملکت ہنس راج آہر نے پارلیمنٹ میں ایک تحریری سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں کئی ایک جنگجو تنظیمیں سرگرم ہیں لیکن داعش اور آئی ایس آئی کے بارے میں ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ملا ہے تاہم مرکزی حکومت نے صورتحال پر کڑی نگاہ رکھی ہوئی ہے ۔
ممبر پارلیمنٹ آمر سنگھ کے سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ اس صورتحال میںایک بات طے ہے کہ القاعدہ کی غزوت الہند نامی جماعت کے ذاکر موسی کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ محض 10جنگجووں سے زیادہ کوئی نہیں ہے ۔انہوںنے کہاکہ ذاکر موسی گروپ سوشل میڈیا پر ہی متحرک ہے اور زمینی سطح پر اس کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی ہے تاہم فوج ہر صورتحال کا مقابلہ کرنے کےلئے تیار ہے ۔
انہوںنے مزید کہاکہ حالات کو دیکھتے ہوئے کچھ ایک پروپگنڈا کیا جارہا ہے کہ کشمیر میں داعش اور طالبان موجود ہیں لیکن کسی بھی طور پر ہماری خفیہ ایجنسیوں اور انٹیلی جنسی ایجنسیوں کے ہوم ورک اور جانچ پڑتال میں کوئی ثبوت یا شواہد نہیں ملے ہیں لہذا ہمیں اس پروپگنڈا مہم کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوںنے مزید کہاکہ بھارت کے اندر بھی داعش یا طالبان جیسی کوئی تنظیم سرگرم نہیں ہے اور نہ ہی ملک کا مسلمان داعش سے متاثر ہے ۔انہوںنے کہا کہ کئی مقامات پر اکا دکا واقعات کو چھوڑ کر ملک میں بھی داعش کا کوئی اثر نظر نہیںآرہا ہے لیکن اس کے باوجود بھی احتیاطی اقدامات اٹھائے جارہے ہیںاور ملک کی انٹیلی جنسی ایجنسی اور این آئی اے اس کی جانچ پڑتال میںلگی ہوئی ہے اور وہ اپنے طور پر کام کررہی ہے جس میں اسے بھی کسی بھی طرح سے داعش کا کوئی عنصر نہیںملا ہے ۔
انہوںنے کہاکہ اس کے باوجود بھی ملک کےساتھ ساتھ کشمیر میں کہیں بھی داعش کا کوئی عنصر نظر نہیں آرہا ہے لہذا ہمیں پروپگنڈا کی جانب توجہ نہیں دینی ہوگی ۔اس دوران پارلیمنٹ میں ہی آج مرکزی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جموںوکشمیر کے لداخ میں زوجیلا ٹنل کو تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی ہے اور اس سلسلے میں ایک ایجنسی نے کم سے کم ٹینڈر ڈالا ہے جس کو منظوری مل گئی ہے ،متعلقہ ایجنسی نے سات برس میںیہ ٹنل تعمیر کرنے کی حامی بھر لی ہے ۔مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ زوجیلا ٹنل کی تعمیر ایک بہت بڑا مطالبہ تھا جس کو منظور کر لیا گیا ہے اور ملک کے وزیراعظم نے اس ٹینڈر کو منظور کرکے لداخ اور کشمیر کو ملانے کےلئے ایک بڑا قدم اٹھایا ہے جس میں اب موسم سرما کے ایام میں بھی کشمیر اور لداخ کے درمیان راستہ بند نہیں رہ سکتا ہے اور پورے سال لداخ اور کشمیر وجموں کے درمیان رابطہ بحال ہو تا رہےگا ۔
۔ایسے میں مرکزی وزیر داخلہ نے بھی اس فیصلے کو سراہا ہے ۔ادھر مرکزی وزیر داخلہ نے بھی کہا تھا کہ جموںوکشمیر سمیت ملک کے کسی بھی حصے میں داعش کی کوئی بنیاد نہیں تاہم کچھ ایک نوجوانوں کے داعش سے متاثر ہونے کے معاملات سامنے آئے ہیں مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ داعش ایک منظم گروپ ہے اوردنیا کے دیگر کئی ممالک میں اس کی جڑیں ہیں لیکن جموںوکشمیر سمیت ملک کے کسی بھی حصے میں داعش کی کوئی دستک نہیں ہے اور نہ ہی کوئی بنیاد ہے ۔تاہم انہوںنے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ملک کے اندر کئی مقامات پر نوجوان متاثر ہورہے ہیں اور اسے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن مجموعی طورپرملک کے مسلمان بھی داعش کے خلاف ہیں ۔الفا نیوز سروس کے مطابق انہوںنے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کواکسایا جارہا ہے لیکن اس سلسلے میںجو بھی معاملات حکومت کے پاس پہنچے ہیں ان کی پوری طرح سے تحقیقات کی جارہی ہے ۔
انہوںنے مزید کہا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے سیکورٹی نظام کو چست درست کیاجارہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ فورسز اور سیکورٹی ایجنسیاں کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کےلئے پوری طرح سے تیار ہیں۔انہوںنے کہا کہ بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ داعش کی ہندوستان میں کوئی بنیاد نہیں ہے لیکن سوشل میڈیا کے ذریعے کچھ نوجوانوں کے داعش سے متاثر ہونے کے معاملے سامنے آئے ہیں جن کی جانچ چل رہی ہے ۔وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مزید بتایا کہ اس قسم کی کوئی معلومات یا ثبوت نہیں ہے کہ داعش نے ملک میں اپنی بنیاد بنا لی ہے ۔

