کشمیر :کشیدگی ،تناﺅ اور تشدد سے سال نو کی شروعات

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

پلوامہ ترال : ’کشمیر میں کشیدگی ،تناﺅ اور تشدد سے سال نو کی شروعات ‘ ہونے کے بیچ ضلع پلوامہ کے لیتہ پورہ اونتی پورہ میں واقع سی آر پی ایف کے ایک ٹریننگ سینٹر پر فدائین حملے میں جاں بحق ہوئے 2مقامی فدائین جنگجونوجوانوں کے جنازوں میں لوگوں کا اژدھام اُمڈ آیا ۔اس دوران جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں اُس تشدد بھی بھڑک اٹھا جب مشتعل مظاہرین ، پولیس وفورسزکے ساتھ اُلجھ پڑے ،جس دوران فورسز کی جانب سے کی گئی کارروائی کے دوران گولی لگنے سے ایک نوجوان شدید زخمی ہوا جبکہ پتھراﺅ ،ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کے نتیجے میں بھی کئی فورسز اہلکاروں سمیت نصف درجن سے زیادہ افراد مضروب ہوئے ۔ادھر جنوبی ضلع پلوامہ میں تعزیتی ہڑتال کے جنوبی کشمیر میں ریل سروس موبائیل انٹر نیٹ خد مات کو سیکورٹی وجوہات کی بناءپر منقطع رکھا گیا ۔دریں اثناءسی آر پی ایف کے ایک ٹریننگ سینٹر میں پیر کی صبح تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا ،جو دن بھر جاری رہا ۔

کشمیر میں نئے سال کا آغاز کشیدگی ،تناﺅ اور تشدد سے ہوا۔ پیر کے روز جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں سکیورٹی فورسز کے تصادم کے دوران گولی لگنے سے ایک نوجوان زخمی ہوا۔اطلاعات کے مطابق جیش محمد کے جنگجو منظور احمد بابا کے جنازہ میں شرکت سے روکنے کےلئے سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرلیا۔ واضح رہے کہ پلوامہ ضلع میں سی آر پی ایف کے تربیتی کیمپ پر حملہ کرنے والے 2 مقامی فدائین جنگجو جاں بحق ہوئے تھے ،جن میں ایک 16سالہ کمسن نوجوان بھی شامل ہے ۔

صورتحال کے حوالے سے ملی تفصیلات کے مطابق لیتہ پورہ میں سی آر پی ایف کے ایک کیمپ میں جاری تلاشی کارروائی کے دوران جاں بحق مقامی فدائین جنگجو نوجوانوں کے جنازوں میں پابندیوں ،بندشوں اور سخت ترین ناکہ بندی کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی

جاں بحق 16سالہ فدائی فردین کھانڈے عرف ابو معاذ کے جلوسِ جنازہ میں ہزاروں لوگوں کا اژدھام امڈ آیا ہے جبکہ جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں کشیدگی پھیل گئی ہے اور احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات کو لیتہ پورہ میں واقع سی آر پی ایف کے ایک تربیتی مرکز پر ہوئے جیشِ محمد کے ایک فدائی حملے میں ابھی تک فردین اور منظور احمد بابا نامی دو جنگجو جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ فورسز کو ابھی تک کم از کم ایک جنگجو کے زندہ ہونے کا شک ہے جسکی بنا پر کیمپ کا محاصرہ جاری ہے۔واضح رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا فدائین حملہ تھا کہ جس میں دو مقامی فدائی ازجان ہوگئے ہیں جنہوں نے کم از کم پانچ فورسز اہلکاروں کو بھی ہلاک اور دیگر کئی کو زخمی کردیا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ فردین کی نعش آج صبح انکے آبائی گاﺅں نازنین پورہ ترال پہنچائی گئی، جہاں فورسز کی زبردست بندشوں کے باوجود بھی سوگواروں کا اژدھام امڈ آیا ہے۔فردین کی نعش کو ایک چار پائی پر رکھ کر لوگ کاندھوں پر ا±ٹھائے ہوئے ہیں اور اسکے پیچھے پیچھے ہزاروں لوگوں،جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں،کا جلوس ”اسلام اور آزادی“کے حق میں اور نئی دلی کے خلاف نعرہ بازی کرتا ہوا جاں بحق فدائی کے آخری آرام گاہ کی جانب پیش قدمی کی ۔

علاقے میں پولس اور فورسز کی بھاری تعداد کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ کئی سڑکوں پر رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں تاہم اسکے باوجود مختلف علاقوں سے تنگ گلیوں اور پگڈنڈیوں سے ہوتے ہوئے ہزاروں لوگ یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔فردین کی کم از کم تین بار نمازِ جنازہ پڑھی گئی کیو نکہ لوگوں کے آتے رہنے کو دیکھتے ہوئے تدفین میں مزید دیر ہوئی اور مزید کئی بار جنازہ پڑھنے کی اطلاعات ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو کو ساتھیوں نے اپنے انداز میں سلامی دےتے ہوئے خراج بھی پیش کیا ۔

دربہ گام پلوامہ میں اُس وقت تشدد بھڑک اٹھنے کی اطلاعات ہیں جب یہاں لوگوں کو جاں بحق دوسرے فدائی منظور احمد بابا کے جلوسِ جنازہ میں لوگوں کی شرکت کو روکنے کےلئے سخت ترین بندشیں اور ناکہ بند ی کی گئی ،جس پر نوجوانوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فورسز پر خشت باری کی ۔فورسز نے جوابی کارروائی کے دوران مشتعل مظاہرین کو تتر بتر کرنے کےلئے ٹیر گیس شلنگ ،پیلٹ فائرنگ اور بلٹ فائرنگ بھی کی ۔

پلوامہ کے لیتہ پورہ اونتی پورہ میں واقع سی آر پی ایف کے ایک ٹریننگ سینٹر پر فدائین حملے میں جاں بحق ہوئے دوسرے مقامی فدائی منظور احمد بابا کی نعش جونہی آبائی گاﺅں دربہ گام پلوامہ پہنچائی گئی ،تو جاں بحق جنگجو کے جلوسِ جنازہ میں شرکت کرنے کےلئے آس پڑوس کے دیہات سے لوگوں نے دربہ گام کی جانب پیش قدمی کرنے شروع کردی ۔تاہم جگہ جگہ بندشیں ،پابندیاں اور سخت ترین ناکہ بندی کے سبب لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو یہاں پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ،جس دوران احتجاجی مظاہرین ،پولیس وفورسز کے ساتھ اُلجھ بھی پڑے ۔

معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر مظاہرین مشتعل ہوئے ،جنہوں نے پولیس وفورسز پر پتھراﺅ کیا ۔جوابی کارروائی کے دوران ابتدائی مرحلے پر فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کی پیلٹ بندوقوں کا استعمال کیا ۔تاہم یہاں صورتحال اُس وقت انتہائی کشیدہ ہوئی جب فورسز نے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کےلئے بندوقوں کے دھانے کھولے ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور مظاہرین کے درمیان پُرتشدد جھڑپوں کے دوران فورسز کی فائرنگ سے ایک نوجوان زخمی ہوا ۔معلوم ہوا ہے کہ زخمی نوجوان کا تعلق ٹہاب پلوامہ سے ہے ۔زخمی نوجوانوں کو مزید علاج ومعالجہ کی خاطر سرینگر منتقل کیا گیا ہے ۔پلوامہ کے کئی علاقوں سے تشدد بھڑک اٹھنے کی اطلاعات بھی ہیں ،جسکی وجہ سے یہاں صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے ۔گولی لگنے سے زخمی ہوئے نوجوان کے واقعہ کے بعد یہاں مزید کشیدگی کی لہر دوڑ گئی اور کئی علاقوں میں مشتعل مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ دن بھر جاری رہا ۔

معلوم ہوا ہے کہ پتھراﺅ ،ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کے نتیجے میں بھی کئی فورسز اہلکاروں سمیت نصف درجن سے زیادہ افراد مضروب ہوئے۔دربہ گام ،کدل بل پانپور کے ساتھ ساتھ کئی علاقوں میں مظاہرین ،فورسز اہلکاروں کے ساتھ اُلجھ پڑے ۔اس دوران فدائین حملے میں جاں بحق ہوئے دوسرے فدائی منظور احمد بابا کے جنازے میں بھی لوگوں کی خاصی تعداد نے شرکت کی ۔

ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگجوﺅں کو بندوق کی سلامی دےنے سے روکنے کےلئے ترال اور پلوامہ میں فورسز کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے اور جاں بحق جنگجوﺅں کے آبائی دیہات کو محاصرے میں دن بھر رکھا گیا ۔

اس دوران ضلع پلوامہ کے لیتہ پورہ اونتی پورہ میں واقع سی آر پی ایف کے ایک ٹریننگ سینٹر پر فدائین حملے میں جاں بحق ہوئے 2مقامی فدائین جنگجونوجوانوں کی یاد میں پلوامہ اور ترال میں مکمل ہڑتال رہی ۔معلوم ہوا ہے کہ ضلع کے بیشتر علاقوں میں دکانیں ،کاروباری ادارے اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا جسکی وجہ سے یہاں ہو کاعالم رہا ۔

ادھر ضلع بھر کے حساس علاقوں میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پابندیاں ،بندشیں اور سخت ترین ناکہ بند ی کی گئی جبکہ کئی علاقوں کو خاردار تاروں سے بھی سیل کیا گیا تھا ۔اس دوران جنوبی کشمیر میں ریل سروس کو معطل رکھا گیا ۔جنوبی کشمیر کے پلوامہ میں کل سکیورٹی اور جنگجوﺅں کے درمیان تصادم میں دو مقامی جنگجووں کے جاں بحق ہونے کے بعد نئے سال کے پہلے دن وادی میں سیکورٹی وجوہا ت کی بنا ءپر ریل خدمات معطل کر دی گئی۔

اس تصادم میں سینٹرل ریزرو پولیس دستے کے پانچ اہلکار ازجان اور تین دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ریلوے کے ایک افسر نے بتایا کہ اتوار کی رات پولیس نے سیکورٹی وجوہات کے پیش نظر بڈگام۔سری نگر سے جنوب میں واقع اننت ناگ اور قاضی گنڈ اور جموں علاقے کے بانہال تک چلنے والی ریل گاڑیوں کو بند کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا اس لئے ان شاپراہوں پر ریل خدمات منسوخ کردی گئی ہیں۔تاہم سرینگر اور بارہمولہ کے درمیان ریل سروس جاری رہی ۔

اس دوران جنوبی ضلع پلوامہ میں موبائیل انٹر نیٹ خد مات بھی منقطع کردئے گئے ۔حکا م کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات افواہوں کو روکنے اور امن وقانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کےلئے اٹھائے گئے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 28سالہ عسکری دور میں پہلی مرتبہ مقامی جنگجوﺅں نے فورسز کیمپ پر فدائین حملہ کیا ،جس میں16سالہ فدائی فردین کھانڈے عرف ابو معاذ شامل ہے ۔اس نے حملے سے قبل ایک ویڈیو بھی عکس بند کرایا ہے ،جو سوشل میڈیا پر اِس حملے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے ۔

دریں اثناءلیتہ پورہ اونتی پورہ میں واقع سی آر پی ایف کے ایک ٹریننگ سینٹر سے تیسرے فدائین جنگجو کی نعش برآمد کی گئی ،تاہم اسکی فوری طور پر شناخت نہیں ہوئی ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے