بیتے سال کے خونین رہنے کااعتراف

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File photo

سری نگر: ”بیتے سال کے خونین رہنے کااعتراف“کرتے ہوئے پولیس سربراہ ڈاکٹرشیش پال وید نے کہاکہ 2017میں 85مقامی جنگجونوجوانوں سمیت206عساکرازجان ہوئے۔ڈی جی پی نے مقامی نوجوانوں کی واپسی کوآپریشن آل آﺅٹ کاایک اہم جُزقراردیتے ہوئے دعویٰ کہاکہ سال بھرکے دوران75نوجوانوں کوملی ٹنسی میں شامل ہونے سے روکاگیاجبکہ 7مقامی نوجوان تشددکاراستہ ترک کرکے راہ امن پرواپس لوٹ آئے ۔انہوں نے واضح کیاکہ کسی سرگرم یامطلوب جنگجوکوہلاک کرناہی انسدادملی ٹنسی نہیں بلکہ بھٹکے یابھٹکائے گئے مقامی نوجوانوں کوتشددکاراستہ چھوڑنے پرآمادہ کرنابھی اسی پالیسی اورعمل کاحصہ ہے ۔

ڈی جی پی کاکہناتھاکہ سرکارکی اعلان کردہ عام معافی کے تحت2016 اور 2017میں خشت باری کے واقعات میں ملوث رہے5500نوجوانوں کے کیسوں کاجائزہ لیاجارہاہے ۔ا س دوران پولیس کے صوبائی سربراہ منیراحمدخان نے کہاہے کہ 2017میں 24عام شہری انکاﺅنٹروں کے دوران جاں بحق ہوئے۔ اتوارکویہاں پولیس کنٹرول روم میں آئی جی پی کشمیرزون منیراحمدخان اوردیگرکچھ اعلیٰ پولیس حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ڈائریکٹرجنرل آف پولیس ڈاکٹرایس پی ویدنے مقامی نوجوانوں میں ملی ٹنسی کے رُجحان میں کمی آنے کادعویٰ کرتے ہوئے بتایاہے کہ سال2017کے دوران پولیس اوردیگرسیکورٹی ایجنسیوں نے لگ بھگ75نوجوانوں کوملی ٹنسی میں شامل ہونے سے روک لیا۔انہوں نے کہاکہ مختلف جنگجو گروپوںکی کوشش رہی کہ مقامی نوجوانوں کواپنے ساتھ ملایاجائے لیکن ریاستی پولیس نے ان کوششوں کوناکام بناتے ہوئے75نوجوانوں کوبروقت واپس لاکرگھروں والوں کے حوالے کردیا۔

انہوں نے کہاکہ آپریشن آل آﺅٹ کامقصدصرف جنگجوکومارنانہیں بلکہ اسکے تحت ہماری یہ کوشش رہتی ہے کہ مقامی نوجوانوں کوتشددکاراستہ ترک کرکے امن کی راہ پرواپس لوٹ آنے کی ترغیب دی جائے اورہم اس میں کامیاب رہے کیونکہ سال2017کے دوران7مقامی جنگجونوجوانوں نے ملی ٹنسی کاراستہ ترک کیا،اورواپس اپنے گھروں کولوٹ آئے ۔ڈی جی پی نے مزیدبتایاکہ کل یعنی اتوارکوبیت گئے سال کے دوران سیکورٹی ایجنسیوں نے انسدادملی ٹنسی کے محاذپربڑی کامیابیاں حاصل کیں کیونکہ کئی مقامی وغیرمقامی کماندروں سمیت206سرگرم جنگجومارے گئے ،جن میں 85مقامی اورباقی121غیرملکی جنگجوتھے ۔

انہوں نے کہاکہ پورے سال سیکورٹی ایجنسیوں کاجنگجوگروپوں پردباﺅ بنارہا،اوریہی وجہ ہے کہ سیکورٹی فورسزکوآپریشن آل آﺅٹ کے تحت بڑی کامیابیاں ملیں ۔ڈاکٹرشیش پال ویدکاکہناتھاکہ انسدادملی ٹنسی میں عام لوگوں کے تعاون کونظراندازنہیں کیاجاسکتاہے کیونکہ لوگوں نے اس کام میں سیکورٹی فورسزکاہاتھ بٹایا۔انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام کی غالب اکثریت امن پسنداورامن کی طرفدارہے ،اوریہاں کے لوگ تشددنہیں چاہتے ۔ڈی جی پی کاکہناتھاکہ عوام کی بھرپورمددسے ہی سیکورٹی ایجنسیوں نے کئی مطلوب ترین جنگجوکمانڈروںکاصفایاکیا،اوردرجنوں مقامی نوجوانوں کوملی ٹنسی کاراستہ اختیارکرنے سے روک لیا۔

پولیس سربراہ نے نامہ نگاروں کوبتایاکہ مجموعی طورپر2017کاسال پُرامن رہاجبکہ ملی ٹنسی کاخاتمہ کرنے کی مہم کے لحاظ سے بیتے سال کوکامیاب قراردیاجاسکتاہے ۔انہوں نے واضح کیاکہ کسی سرگرم یامطلوب جنگجوکوہلاک کرناہی انسدادملی ٹنسی نہیں بلکہ بھٹکے یابھٹکائے گئے مقامی نوجوانوں کوتشددکاراستہ چھوڑنے پرآمادہ کرنابھی اسی پالیسی اورعمل کاحصہ ہے ۔بیتے برس یعنی سال 2017کے آخری روزپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹرجنرل پولیس نے مزیدکہاکہ 2016اور2017کے دوران جن لگ بھگ5500نوجوانوں کیخلاف سنگباری کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں کیس درج کئے گئے ہیں ،اُن کے کیسوںکاجائزہ لیاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ ہماری یہی کوشش ہے کہ نوجوانوں کودرج کیسوں سے نجات دلاکرراحت پہنچائی جائے اوراسی مقصداورریاستی سرکارکی اعلان کردہ عام معافی کے تحت ان کے کیسوں کاجائزہ لینے کاعمل جاری ہے ۔

ا س دوران پولیس کے صوبائی سربراہ منیراحمدخان نے کہاہے کہ 2017میں 24عام شہری انکاﺅنٹروں کے دوران جاں بحق ہوئے۔انہوں نے کہاکہ ریاستی پولیس سمیت سبھی سیکورٹی ایجنسیوں کی یہی کوشش رہتی ہے کہ جنگجومخالف کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کی جان ومال کوکوئی گزندنہ پہنچے لیکن کراس فائرنگ کے واقعات میں بعض اوقات شہری اموات ہوتی ہیں ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے