سرینگر:سرکاری ملازمین پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے حکومتی فیصلے کےخلاف علیحدگی پسند اور مین اسٹریم سیاسی جماعتیں یک زبان ہوگئی ہیں ۔نیشنل کانفرنس نے حکومتی فیصلے کی شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ حکومت ملازمین کو دہشت گرد کا لیبل لگانا چھوڑ دے جبکہ انجینئر رشید نے فیصلے کےخلاف مزاحمت اور تاریگامی نے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔اس دوران علیحدگی پسند لیڈران میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے اس فیصلے کی کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملازمین کےخلاف پابندی کسی بھی طورپر برداشت نہیں کی جائیں گی ۔
حکومت کی طرف سے گزشتہ دنوں باضابطہ طور پر ایک سرکیولر جاری کر دیا گیا ہے جس میں سرکاری ملازمین پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ملازمین کو ایسی کسی بھی سرگرمی سے خود کودور رکھنے کی تلقین کی گئی ہے چنانچہ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ساتھ علیحدگی پسند جماعتوں نے اس فیصلے کی کھل کر مخالفت کی ہے ۔اس سلسلے میں نیشنل کانفرنس نے سرکاری ملازمین پر سوشل میڈیاکے استعمال پر قدغن عائد کرنے کے حکومتی اقدام کو پی ڈی پی بھاجپا مخلوط اتحاد کی طرف سے حکومت کی ناکامیاں چُھپانے کا ایک ناکام حربہ قرار دیا۔
پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے دور میں سوشل میڈیا کے استعمال پر قدغنیں عائد کرنا جمہوری قدروں کے منافی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا پشتینی باشندہ ہونے کے ناطے ایک سرکاری ملازمین کو اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے اور ایک شہری سرکاری ملازم ہونے کے باوجود ریاست اور سماج کے مختلف معاملات کے بارے میں اظہارِ رائے ظاہر کرنے کا حق رکھتا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پی ڈی پی حکومت کو سرکاری ملازمین پر سوشل میڈیا کے استعمال پر قدغن لگانے کا کوئی بھی اخلاقی حق نہیں ،پی ڈی پی نے اقتدار سنبھالتے ہی تمام قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایسے سرکاری ملازمین کو بڑے بڑے عہدوں پر فائز کیا، جو سوشل میڈیا پر سابق حکومت کیخلاف پروپیگنڈا چلانے میں پیش پیش تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے اِس وقت بھی سرکاری ملازمین کی ایک ٹیم سوشل میڈیا پر پی ڈی پی کی تشہیر بازی اور نیشنل کانفرنس کیخلاف پروپیگنڈا چلانے کیلئے وقف رکھی گئی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت کا یہ تازہ فیصلہ پی ڈی پی بھاجپا اتحاد کیخلاف زمینی سطح پر پائے جارہے غم و غصے پر پردہ پوشی کرنے کے مترادف ہے جبکہ مین اسٹریم لیڈران میں انجینئر رشید نے بھی اس فیصلے کی کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئےکہا کہ سرکاری ملازمین کو جوابدہ بنائے جانے کا کوئی بھی اقدام خوش آئیندہ ہے لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں ہو سکتا ہے کہ سرکاری ملازمین کچھ اور ہونے سے قبل سماج کا حصہ ہیں جو آس پاس کے حالات سے متاثر ہوئے نہیں رہ سکتے ہیں اور نہ ہی ان حالات پر چپ رہ سکتے ہیں۔سرکار کی جانب سے اپنے ملازمین کو سوشل میڈیا کے استعمال سے باز رہنے کی ہدایات جاری کئے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے ممبر اسمبلی لنگیٹ نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جب سرکار نے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے کوئی اوچھا ہتھکنڈا استعمال کیا ہو۔
سرکاری ملازمین کے اظہار رائے پر بلاوجہ اور بلاجواز پابندی کے فیصلے کے حوالے سے سرکار کی نیت کو مشکوک بتاتے ہوئے انجینئر رشید نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اگر سرکار ملازمین اور انتظامیہ کو سیاست سے دور ہی رکھنا چاہتی ہے تو پھر اس بات کا بھی جواب دیا جانا چاہیئے کہ ملازمین،جن میں ڈاکٹر ،اساتذہ،آنگن واڑی وکر و دیگراں شامل ہیں،کو آئے دنوں مختلف وزراءاور ممبران اسمبلی کے جلسوں میں،جو بصورت دیگر فلاپ شو ثابت ہوتے ہیں، شامل ہونے کیلئے کیوں مجبور کیا جاتا ہے۔
حریت کانفرنس”ع“ کے چیئرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے سرکار کی جانب سے ریاست کے سرکاری ملازمین اور اُن کے اہل خانہ کو سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے حکم نامے کو حد درجہ آمرانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین جو سماج کا حساس اور پڑھا لکھا طبقہ ہے کے اظہار رائے پر قدغن سرکار کی بوکھلاہٹ اور عوام کا سامنا کرنے میں اس کی ناکامی کا برملا اظہار ہے انہوںنے کہا کہ مذکورہ حکم نامہ سرکاری ملازمین کے حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ توہین ہے اور حدیہ ہے کہ سرکاری ملازمین پر ذاتی طور ہی نہیں بلکہ ن کے اہل خانہ پر بھی سوشل میڈیا کے استعمال پر قدغن عائد کردی گئی ہے جس سے یہ عیاں ہوجاتا ہے کہ عوامی آواز کو کچلنے کےلئے سرکار کس طرح کے اوچھے حربوں کا استعمال کر سکتی ہے ہے ۔
لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا کہ اب سرکاری ملازمین پر شکنجہ کسنے اور ان کی آواز کو دبانے کےلئے انہیں سوشل میڈیا پر انسانی حقوق پر بات کرنے نیز ظلم و جبر پر ماتم سے روکنے کےلئے ایک نیا نادر شاہی حکم جاری کردیا گیا ہے جو دنیا کے انسانوں کو حاصل ’اظہار رائے کی آزادی ‘ کے ہی منافی نہیں بلکہ ہر لحاظ سے ایک آمرانہ حکم ہے جو محبوبہ سرکار کی ذہنی پستی کا واضح ثبوت فراہم کرنے کےلئے کافی و شافی ہے۔

