مشن کشمیر:پاﺅرپروجیکٹوں کی واپسی کامعاملہ مرکزکے زیرغور:دنیشور شرما

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

بارہمولہ:”پاﺅرپروجیکٹوں کی واپسی کامعاملہ مرکزکے زیرغور“ہونے کاانکشاف کرتے ہوئے مذاکرات کاردنیشورشرمانے منگل کے روزبارہمولہ میں سیاسی وغیرسیاسی وفودکوبتایاکہ جموں وکشمیرمیں پائیدارامن اورریاستی عوام کی ترقی وخوشحالی مرکزکی اولین ترجیحات ہیں ۔

دنیشورشرمانے ڈاک بنگلہ بارہمولہ میں 30سے زیادہ وفودکیساتھ باری باری ملاقات کی تاہم بارایسوسی ایشن بارہمولہ نے موجودہ مذاکراتی عمل کوفضول مشق سے تعبیرکرتے ہوئے مذاکرات کارکیساتھ طے شدہ میٹنگ کابائیکاٹ کیاجبکہ بیوپارمنڈل بارہمولہ نے بھی دنیشورشرماکیساتھ ملاقات نہ کرنے کافیصلہ لیا۔

مشن کشمیرکے تحت اپنے تیسرے دورہ ریاست کے تحت مرکزکے نامزدمذاکرات کاردنیشورشرمامنگل کوصبح لگ بھگ ساڑھے گیارہ بجے بارہمولہ پہنچے ،اوریہاں اُنھیں مقامی ڈاک بنگلہ میں ٹھہرایاگیاجہاں تقریباً2درجن سیاسی اورسیاسی وفودکی دنیشورشرماکیساتھ باری باری ملاقات طے تھی۔ڈاک بنگلہ بارہمولہ میں اسے پہلے ہی کئی وفودپہنچ چکے تھے اوریہاں پہنچنے کے لگ بھگ پندرہ منٹ بعدہی مذاکراتکارنے وفودکیساتھ ملاقاتوں کاسلسلہ شروع کردیا۔

معلوم ہواکہ جن دودرجن کے لگ بھگ وفودکومنگل کے روزیہاں مذاکراتکاردنیشورشرماکیساتھ ملاقات کرناتھی ،اُن سبھی وفودکوپیشگی اسکی اطلاع دی گئی تھی جبکہ کچھ وفودکوتحریری طوراسبات کی جانکاری ملی تھی کہ اُنکی مذاکراتکارکیساتھ ملاقات طے ہے ۔معلوم ہواکہ مرکزکے نامزدمذاکرات کارکے مشاورتی یامذاکراتی عمل کو اُسوقت جھٹکالگاجب بارہمولہ کی وکلاءبرادری کی تنظیم نے دنیشورشرماکیساتھ طے شدہ ملاقات کابائیکاٹ کیا۔بارایسوسی ایشن بارہمولہ کے صدرایڈوکیٹ عبدالاسلام راتھر نے کہاکہ ہم نے مذاکرات کارکیساتھ میٹنگ کابائیکاٹ کرنے کافیصلہ لیاکیونکہ بقول موصوف اس طرح کا مذاکراتی عمل ثمرآورثابت نہیں ہوسکتا۔

ایڈوکیٹ راتھرنے کہاکہ بارایسوسی ایشن بارہمولہ ایسے کسی بھی عمل کاحصہ نہیں بنناچاہتی جس سے کوئی نتیجہ برآمدنہ ہوسکے ۔انہوں نے مذاکرات کارکی متعلقین کیساتھ بات چیت کے طریقہ کارپرسوال اُٹھاتے ہوئے کہاکہ یہ ایک فضول مشق ہے ۔اُدھربارہمولہ قصبہ کے تاجران کی نمائندہ تنظیم نے بھی دنیشورشرماکیساتھ طے شدہ میٹنگ کابائیکاٹ کیا۔اسکی تصدیق کرتے ہوئے بیوپارمنڈل بارہمولہ کے جنرل سیکرٹری انجینئرطارق مغلونے کے این ایس کوبتایاکہ ہمیں مذاکرات کارکیساتھ میٹنگ کیلئے حکام کی جانب سے تحریری طورمدعویامطلع کیاگیاتھالیکن ہم نے فیصلہ لینے کیلئے ہنگامی میٹنگ طلب کی ۔

انجینئرطارق کے بقول بیوپارمنڈل بارہمولہ کے نومنتخب صدرمحمداشرف گنائی کی زیرصدارت میٹنگ میں اہم عہدیدار،سینئرممبران اورسرکردہ تاجران بھی موجودتھے ،اورمیٹنگ میں بااتفاق رائے یہ فیصلہ لیاگیاکہ بیوپارمنڈل بارہمولہ مذاکرات کارکیساتھ ملاقات نہیں کرے گی ۔میٹنگ میں موجودذمہ داروں اورسرکردہ تاجروں نے بتایاکہ بیوپارمنڈل بارہمولہ ایک غیرسیاسی انجمن ہے اوراسکوصرف تاجربرادری کی نمائندگی کامنڈیٹ حاصل ہے ۔اس دوران معلوم ہواکہ مین قصبہ بارہمولہ کالگ بھگ کوئی بھی وفدمذاکراتکارسے ملاقی نہیں ہواتاہم اوڑی ،کنڈی بارہمولہ ،رفیع آباد،دلنہ ،پٹن اوردیگرکئی علاقوں سے سیاسی اورغیرسیاسی وفودنے ڈاک بنگلہ بارہمولہ پہنچ کریہاں مرکزکے نامزدکردہ مذاکرات کاردنیشورشرماکیساتھ طے شدہ وقت میں ملاقات کی ۔معلوم ہواکہ اوڑی کے وفدکی قیادت پی ڈی پی کے زونل صدرراجہ اعجازعلی کررہے تھے جبکہ دلنہ بارہمولہ سے آئے ایک وفدکی سربراہی اسی جماعت کاایک مقامی ذمہ دارغلام رسول کررہاتھا۔

پی ڈی پی لیڈرراجہ اعجازعلی نے کہاکہ اُنکی سربراہی والے ڈیلی گیشن نے مذاکراتکارکیساتھ لگ بھگ دس منٹ تک ملاقات کی ،جس دوران پی ڈی پی وفدنے دنیشورشرماکیساتھ این ایچ پی سی کی تحویل میں پڑے پاﺅپروجیکٹوں کی واپسی اورسنگباری کے مرتکب ہوئے نوجوانوں کوعام معافی دینے پرتبادلہ خیال ہوا۔راجہ اعجازعلی کے بقول انہوں نے مذاکرات کارکوبتایاکہ پاﺅرپروجیکٹوں کی واپسی ایک دیرینہ مطالبہ ہے کیونکہ اسکے ساتھ ریاست کے معاشی ومالی مفادات جڑے ہوئے ہیں ۔پی ڈی پی لیڈرکے بقول مذاکرات کارنے اُنھیں بتایاکہ پاﺅرپروجیکٹوں کی واپسی کامعاملہ پہلے ہی مرکزی سراکرکے زیرغورہے ۔

معلوم ہواکہ سیاسی وغیررسیاسی وفودباری باری ڈاک بنگلہ کے ایک مخصوص کمرے میں مذاکارتکارکیساتھ ملاقات کرکے اُنھیں اپنے انفرادی ،اجتماعی اورعلاقائی نوعیت کے مسائل ومشکلات اورمطالبات کی جانکاری فراہم کرتے رہے ،اورملاقاتوں کایہ سلسلہ سوموارکوبعدسہ پہرتک یہاں جاری رہا۔مذاکراتکارکیساتھ ملاقی ہوئے کچھ وفودمیں شامل لوگوں نے بتایاکہ انہوں نے اپنے انفرادی ،اجتماعی اورعلاقائی نوعیت کے مسائل ومشکلات دنیشورشرماکے گوش گزارکئے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے سیاسی معاملات پربات نہیں کی بلکہ عوامی اہمیت کے حامل مسائل مذاکراتکارتک پہنچائے ۔کرناہ اورمژھل جیسے دوراُفتادہ علاقوں سے آئے وفودنے مذاکرات کارکوبتایاکہ دوردرازکے علاقوں میں رہنے والے زیادہ ترلوگ اکیسویں صدی میں بھی صاف پانی ،بجلی ،سڑک رابطے ،طبی اورتعلیمی سہولیات سے محروم ہیں ۔

انہوں نے دنیشورشرماکوبتایاکہ مرکزی سرکارکوکشمیروادی کے دورافتادہ علاقوں کی ترقی اوریہاں رہنے والے پسماندہ طبقوں ولوگوں کی فلاح وبہبودکیلئے خصوصی اسیکموں کااعلان کرناچاہئے ۔اُدھرذرائع نے بتایاکہ صبح پونے بارہ بجے سے سہ پہرتک مذاکرات کارنے لگ بھگ 36وفودکیساتھ باری باری ملاقات کی ،اوراُنھیں مختلف نوعیت کے مسائل ومشکلات اورمظالبات گوش گزارکئے ۔

ڈاک بنگلہ بارہمولہ کادروازہ صحافیوں کیلئے بند
’ڈاک بنگلہ بارہمولہ کادروازہ صحافیوں کیلئے بند“رکھتے ہوئے حکام نے مذاکراتکارتک مقامی میڈیاکی رسائی پھرناممکن بنادی۔کے این ایس نمائندے منظورشیری کے مطابق سوموارکوسرحدی قصبہ کپوارہ کی طرح منگلوارکوشمالی قصبہ بارہمولہ میں بھی پرنٹ والیکٹرانک میڈیا سے وابستہ افرادکی مرکزکے نامزدمذاکرات کاردنیشورشرماتک رسائی کوناممکن بنادیاگیا۔

صبح لگ بھگ ساڑھے 11بجے جب دنیشورشرماڈاک بنگلہ بارہمولہ پہنچے تویہاں مین گیٹ کے باہرمیڈیاسے وابستہ افرادبڑی تعدادمیں موجودتھے جویہاں مذاکرات کارکی موجودگی سے فائدہ اُٹھاکراُن سے اُنکے شروع کردہ مشن کشمیریعنی مذاکراتی عمل کے بارے میں جانکاری لینے کے خواہشمندتھے لیکن ڈاک بنگلہ بارہمولہ کے باہرتعینات سیکورٹی حکام نے صحافیوں کواندرجانے کی اجازت نہیں دی جبکہ اس دوران سیاسی اورغیرسیاسی افرادپرمشتمل وفودمذاکراتکارسے ملاقات کیلئے ڈاک بنگلہ کے اندرجاتے رہے ۔

سہ پہرتک وفودکاآناجانالگارہالیکن میڈیاسے وابستہ افرادگیٹ کے باہراجازت ملنے کی اُمیدلیکرانتظارکرتے رہے ۔غورطلب ہے کہ سوموارکے روزکپوارہ میں بھی میڈیاسے وابستہ افرادکومذاکرات کارسے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔کے این ایس

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے