سرینگر: ریاستی حکومت نے پنچایتی انتخابات کا بگل بجاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگلے برس ماہ ِ فروری میں یہ انتخابات منعقد ہونگے ۔خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ اُنہیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ جموں وکشمیر میں پنچایتی انتخابات15فروری 2018سے شروع ہونگے ۔ان کا کہناتھا کہ ریاست کے لوگوں نے ہمیشہ گولیوں کے بجائے ووٹ پرچیوں کو ترجیح دی ہے اور آگے بھی دیتے رہیں گے۔یاد رہے کہ پیر کے روز وزیرا علیٰ محبوبہ مفتی نے راج بھون جموں میں ریاستی گورنر این این ووہرا کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے اِ ن انتخابات پر مہر ثبت کی تھی ۔
ادھر اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس نے حکومتی اعلان کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ پنچایتی انتخابات کے حوالے سے اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لینا چاہئے تھا ۔پارٹی کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ حکومت کو پنچایتی انتخابات کا اعلان کرنے سے قبل جمہوری اصولوں اور اقدار کے مطابق کل جماعتی میٹنگ طلب کرنی چاہئے تھی ،تاکہ اس حوالے سے اتفاق رائے پیدا ہوسکے ۔
ریاستی حکومت نے جموں وکشمیر میں پنچایتی انتخابات کے حوالے سے با ضابط طور پر اعلان کیا کہ اگلے برس ماہ ِفروری میں یہ انتخابات منعقد ہونگے ۔ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے یہ اعلان کیا ۔ وزیر اعلیٰ نے سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ریاست جموں وکشمیر میں15فروری 2018سے پنچایتی انتخابات شروع ہونگے ۔
ٹویٹر پیغام میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کہا ’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ جموں و کشمیر میں پنچایتی انتخابات 15 فروری2018 سے شروع ہونگے۔ان کا کہناتھا کہ ریاست کے لوگوں نے ہمیشہ گولیوں کے بجائے ووٹ پرچیوں کو ترجیح دی ہے اور آگے بھی دیتے رہیں گے۔
یاد رہے کہ وزیرا علیٰ محبوبہ مفتی نے پیر کے روز راج بھون جموں میں ریاستی گورنر این این ووہرا کے ساتھ ملاقات کی ۔ آدھے گھنٹے تک جار ی رہنے والی اس میٹنگ کے دوران وزیرا علیٰ نے گورنر کو کچھ دن پہلے کابینہ کی طرف سے لئے گئے فیصلوں کے حوالے سے اہم امور کے بارے میں جانکاری دی ۔
وزیر اعلیٰ نے گورنر کو 15فروری 2018ءسے پنچایتی انتخابات منعقد کرانے کے حکومت کے فیصلے سے بھی آگاہ کیا۔ گورنر نے اس موقعہ پر عوامی مسائل کو فوری طور سے حل کرنے سے جڑے کئی معاملات کو زیر بحث لایا ۔انہوں نے پورے انتظامی نظام میں مزید شفافیت اور جواب دہی لانے کی ضرورت پربھی زور دیا تاکہ عوامی بہبود کو فروغ حاصل ہوسکے۔
ادھر اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس نے حکومتی اعلان کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو پنچایتی انتخابات کے حوالے سے اعتماد میں نہ لینے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ۔پارٹی کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ حکومت کو پنچایتی انتخابات کا اعلان کرنے سے قبل جمہوری اصولوں اور اقدار کے مطابق کل جماعتی میٹنگ طلب کرنی چاہئے تھی ،تاکہ اس حوالے سے اتفاق رائے پیدا ہوسکے ۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے دورِ اقتدار میں جب یہ انتخابات ریاست بھر میں منعقد کئے گئے ،تو تمام سیاسی پارٹیوں سے صلاح ومشورہ کرنے کے بعد یہ فیصلہ لیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ اِس وقت ریاست کے سامنے سب سے بڑا چیلنج سلامتی کا ہے اور ایسے میں ریاستی حکومت کا اعلان سمجھ سے باہر ہے ۔انہوں نے پنچایتی انتخابات کے حوالے سے اپوزیشن بھی ریاست حکومت کو اپنی تجویز دیتی ،لیکن حکومت نے لوگوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کو بھی’فار گرانٹیڈ‘ یعنی غیر سنجیدگی کے ساتھ لے رہی ہے ۔
علی محمد ساگر کا کہناتھا کہ نیشنل کانفرنس عنقریب اس حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کرے گی ،جس میں مشاورت کے بعد ہی اس حوالے سے فیصلہ لے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اِس بحث مین نہیں پڑ نا چاہتی کہ آیا اِن انتخابات کے حوالے سے حالات موزون ہے کہ نہیں ۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ اُسے پنچایتی انتخابات کے حوالے سے اپوزیشن کو بھی اعتماد میں لینا چاہئے تھا ۔
واضح رہے کہ جموں وکشمیر میں پنچایتی انتخابات گزشتہ برس منعقد کرانے کا شیڈول تھا ،لیکن حزب کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے سبب یہ انتخابات منعقد نہ ہوسکے ۔عوامی ایجی ٹیشن کے دوران فورسز کارروائی میں 86شہری ہلاک ہوئے تھے ۔غور طلب یہ ہے کہ دو پارلیمانی نشستوں سرینگر اور اننت ناگ پر ہونے والے ضمنی چناﺅ کے دوران بھی یہاں تشدد بھڑک اٹھا تھا ،جس دوران بڈگام اور گاندر بل میں 8نوجوان فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئے تھے ،جس کے بعد اننت ناگ نشست کےلئے پارلیمانی ضمنی انتخابات ملتوی کئے گئے ۔حکمران جماعت پی ڈی پی کی در خواست پر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اِ ن انتخابات کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا ۔تاہم سرینگر نشست سے نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کامیاب قرار دئے گئے ۔

