سری نگر” سنگبازوں کیلئے عام معافی کووسیع القلبی کامظہر“قراردیتے ہوئے سی آرپی ایف کے انسپکٹرجنرل روی دیپ سہائے نے کہاہے کہ اسطرح کے اعتمادسازی اقدامات کشمیری نوجوانوں کیلئے حوصلہ افزاءثابت ہونگے ۔انہوں نے جنگجومخالف آپریشن کے دوران مظاہروں کوخطرناک قراردیتے ہوئے خبردارکیاکہ انکاﺅنٹر کے دوران کس کی گولی کس کولگے پتہ نہیں چلتا۔
پولوگراﺅندسرینگرمیں ایک تقریب کے حاشےے پرنامہ نگاروں کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے آئی جی سی آرپی ایف کاکہناتھاکہ ریاستی سرکارنے پہلی یاصرف ایک مرتبہ سنگباری کاارتکاب کرنے والے نوجوانوں کیلئے عام معافی کافیصلہ لیکروسیع القلبی کااپروچ اپنایاہے ۔انہوں نے ریاستی سرکارکے اعلان کوحوصلہ افزاءقراردیتے ہوئے کہاکہ اس طرح سے نہ صرف یہ کہ ہزاروں نوجوانوں اوراُن کے اہل خانہ کوبڑی راحت ملے گی بلکہ کشمیری نوجوانوں کوسنگباری جیسی سرگرمیوں سے دوررکھنے میں بھی کافی مددملے گی۔انہوں نے کہاکہ جن نوجوانوں کوعام معافی دی گئی ہے ،اُنھیں وسیع القلبی پرمبنی اس اپروچ کافائدہ اُٹھاناچاہئے ۔
آئی جی سی آرپی ایف روی دیپ سہائے نے مزیدکہاکہ عام معافی کافیصلہ ایک اچھاقدم ہے،کیونکہ اسکے نتیجے میں تشددکی راہ اپنانے والے نوجوانوں کوتشددکاراستہ چھوڑنے میں مددملے گی ۔انہوں نے اس اُمیدکااظہارکیاکہ جن نوجوانوں کوعام معافی کافائدہ ملا،وہ اپنی ساری قوت اورذرائع کواب اپنامستقبل سنوارنے پرلگائیں گے ۔سی آرپی ایف کے انسپکٹرجنرل روی دیپ سہائے نے نامہ نگاروں کوبتایاکہ مختلف سیکورٹی ایجنسیوں نے نوجوانوں کوملی ٹنسی جیسے راستے سے واپس لانے یادوررکھنے میں اہم رول اداکیاہے ،اوریہ اسی کانتیجہ ہے کہ اب مزیدنوجوان خطرناک راستے پرنہیں جارہے ہیں ۔
انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کوواپس امن کے راستے پرگامزن کرنے کے حوالے سے دیرسے ہی سہی لیکن سیکورٹی ایجنسیوں کوکامیابی ملی اوریہ اسی کامیاب پالیسی کانتیجہ تھاکہ جنوبی کشمیرکے ایک نوجوان فٹ بال کھلاڑی کی گھرواپسی کے بعدکئی دوسرے نوجوانوں نے بھی تشددکاراستہ ترک کیا۔شوپیان میں کچھ روزقبل بیوٹی جان نامی ایک جواں سالہ خاتون کی جنگجومخالف آپریشن کے دوران گولی لگنے سے موت واقعہ ہوجانے کے بارے میں پوچھ گئے سوال کے جواب میں روی دیپ سہائے کاکہناتھاکہ لوگوں کوقانون کااحترام کرناچاہئے تاکہ ایسی افسوسناک ہلاکتوں سے بچاجاسکے ۔
انہوں نے رول آف لاءیاقانون کی پاسداری کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ جب کسی علاقہ میں جنگجوﺅں کیخلاف کارروائی شروع کی جاتی ہے توعام لوگوں کواس میں بلاوجہ نہیں اُلجھناچاہئے ۔آئی جی سی آرپی ایف نے واضح کیاکہ جب کسی علاقہ کامحاصرہ کیاجاتاہے اورنقل وحمل پربندشیں عائدکی جاتی ہیں توعام لوگوں کواسکااحترام کرناچاہئے تاکہ اُنکے جان ومال کوبلاوجہ نقصان نہ پہنچے ۔انہوں نے کہاکہ جب کسی علاقہ میں موجودجنگجوﺅں اورسیکورٹی فورسزکے درمیان معرکہ آرائی شروع ہوتی ہے اوردونوں اطراف سے گولیاں چلتی ہیں تواس دوران مقامی آبادی کیلئے گھروں کے اندررہناہی بہترہوتاہے کیونکہ کیاپتہ کراس فائرنگ کے دوران کس کی گولی کس کولگے ۔(کے این ایس)

