سرینگر: شہری ہلاکتوں کے خلاف بعد نمازجمعہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی احتجاج کی کال کے پیش نظر انتظامیہ نے جمعہ کو سرینگر کے حساس علاقوں میں لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندیاں اور بندشیں عائد کیں جبکہ مزاحمتی لیڈران کو خانہ اور تھانہ نظر بند کیا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کےلئے اٹھا ئے گئے ۔
شہری ہلاکتوں کے خلاف ممکنہ احتجاج کے پیش نظر جمعہ کو انتظامیہ نے دارالحکومت سرینگر میں لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندیاں اور بندشیں عائد کیں ۔واضح رہے کہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک نے بعد نماز جمعہ شہری ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کی کال دی تھی ۔
یاد رہے کہ شمال وجنوب میں معرکہ آرائیوں کے دوران دو شیر خوار بچوں کی مائیں ازجان اور کپوارہ میں فوج کی فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق ہواتھا ۔ان حالیہ شہری ہلاکتوں کے خلاف لوگوں سے احتجاج کرنے کی اپیل کی گئی تھی ،جسے روکنے کےلئے سرکاری پابندیاں اور بندشیں عائد کی گئیں ۔
معلوم ہوا ہے کہ حریت (ع) کے چیئرمین میر واعظ عمرفاروق کو اپنی رہائش گاہ واقع نگین پر خانہ نظر بند رکھا گیا جبکہ محمد یاسین ملک کو حراست میں لیکر سینٹرل جیل سرینگر منتقل کیا گیا ہے ۔حریت(گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی کی طویل خانہ نظر بندی بھی برقرار ہے ۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کےلئے اٹھا ئے گئے۔انہوں نے کہا کہ رعناواری ،خانیار،نوہٹہ ،ایم آر گنج اور صفاکدل پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں احتیاطی طور پر دفعہ144سی آر پی سی کے تحت حکم امتناعی نافذ رہا جبکہ مائسمہ اور کرالہ کھڈ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں جزوی طور پر پابندیاں اور بندشیں عائد کی گئیں ۔
حساس علاقوں میں پولیس وفورسز کے اضافی اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ۔اس دوران جمعہ کو ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو پیش نظر بارہمولہ ۔بانہال ریل سروس کو احتیاطی طور پر معطل رکھا گیا ۔

