سرینگر/پلوامہ کے کمرازی پورہ علاقے میں فورسز کو اُس وقت ٹیر گیس شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کرنا پڑی جب قریب دو گھنٹوں تک تلاشی کارروائی جاری رہنے کے بعد لوگوں نے گھروں سے باہر آکر فورسز اہلکاروں پر شدید پتھراﺅ کیا۔واقعہ کے بعد مشتعل ہجوم نے ایک نوجوان کو دبوچ کر اس کی ہڈی پسلی ایک کی جو مقامی لوگوں کے مطابق فورسز کا اعانت کار ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ اسے فورسز نے تلاشی کارروائی کےلئے حراست میں لیا تھا۔پلوامہ سے کے ایم این نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ ایس او جی ، فوج کی53آر آر اور سی آر پی ایف سے وابستہ اہلکاروں نے بدھ کی شام7بجے کمرازی پورہ نامی گاﺅں کو گھیرے میں لیا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ فورسز کواپنے خفیہ ذرائع سے علاقے میں جنگجوﺅں کی موجودگی کے بارے میں مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی ۔نمائندے نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے علاقے کو محاصرے میں لینے کے ساتھ ہی جنگجوﺅں کو ڈھونڈ نکالنے کےلئے گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا۔اس دوران رہائشی مکانوں اور دیگر تعمیرات کی باریک بینی سے تلاشی لی گئی اور مردوں کے شناختی کارڈ چیک کئے گئے۔نمائندے نے بتایا کہ گھر گھر تلاشی کا سلسلہ جاری تھا کہ رات کے قریب ساڑھے9بجے لوگ اچانک گھروں سے باہر آکر احتجاج کرنے لگے ،انہوں نے فورسز کو تلاشی لینے سے روک دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا ہجوم گلی کوچوں میںامڈ آیا۔ فورسز نے جب انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تو لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے بیک وقت کئی اطراف سے فورسز پر زبردست پتھراﺅ شروع کیا۔ سنگباری میں شدت پیدا ہوئی تومظاہرین کو تتر بتر کرنے کےلئے پہلے لاٹھی چارج کیا گیا اور اشک آور گیس کے گولے داغے گئے جبکہ بعد میں ہوا میںگولیوں کے کئی راﺅنڈ بھی فائر کئے گئے جس کے نتیجے میں علاقے میں اتھل پتھل مچ گئی۔کے ایم ا ین نمائندے کے مطابق پتھراﺅ، احتجاج اور افراتفری کے بیچ ہی فورسز اور پولیس کی بھاری تعداد کئی گھنٹوںتک علاقے میں موجود رہی تاہم مزاحمت اور احتجاج کی وجہ سے ان کی تمام تر توجہ جنگجوﺅں کو ڈھونڈ نکالنے کے بجائے صرف سنگباز ی کرنے والے لوگوں پر ہی مرکوز رہی ۔ جھڑپوں کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا جس کے بعد فورسز اہلکار خالی ہاتھ واپس لوٹ گئے۔نمائندے نے بتایا کہ فورسز کے وہاں سے چلے جانے کے ساتھ ہی مشتعل ہجوم نے ایک نوجوان کو دبوچ کر اس کا زدوکوب شروع کیا۔اسکی شناخت امتیاز احمد ڈار ساکن رہمو پلوامہ کے بطور ہوئی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کریک ڈاﺅن کے دوران فورسز کے ساتھ تھا اور اس کے پاس اسلحہ بھی تھا، تاہم جب فورسز اہلکار وہاں سے چلے گئے تو مذکورہ نوجوان افراتفری کے عالم میں ان سے چھوٹ گیا۔امتیاز احمد کو شدید مارپیٹ کے بعد رات ساڑھے10بجے کے قریب نمبردار کے ذریعے پولیس اسٹیشن راجپورہ کے سپرد کیا گیا۔پولیس کے ایک آفیسرنے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورنوجوان فورسز کا اعانت کار نہیں ہے بلکہ فورسز نے اسے تلاشی کارروائی کےلئے ساتھ لیجانے کی غرض سے حراست میں لیا تھا اور جب فورسز وہاں سے چلے گئے تو انہوں نے امتیاز کو وہیں چھوڑ دیاجو بعد میں مشتعل ہجوم کے ہتھے چڑھ گیا۔مذکورہ نوجوان آخری اطلاع ملنے تک پولیس حراست میں تھا۔دریں اثناءپولیس اور فورسز نے دوران شب لوسونی پلوامہ کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی انجام دی جو جمعرات صبح10بجے تک جاری رہی اور پر امن طور اختتام کو پہنچ گئی۔

