کشمیریوں پر ”بلڈوزر “ پھیرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

گوا:جموں وکشمیر کی شناخت کو برقرار رکھنے کی وکالت کرتے ہوئے ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ کشمیریوں پر ”بلڈوزر “ پھیرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ امن عمل کی کامیابی کےلئے ’ہیلنگ ٹچ ‘ کی پالیسی اپنانا ناگزیر ہے ۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جموں وکشمیر میں لوگوں کی اکثریت اپنا مستقبل بھارت کے ساتھ محفوظ تصور کررہی ہے جبکہ چند فیصد لوگ جموں وکشمیر میںپاکستان اور آزادی کے حامی ہیں ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں ذہنی ،جذباتی اور اقتصادی محاصرہ ہے ،جو ختم ہونا چاہئے جبکہ سیکورٹی فورسز تن ِتنہا ریاست میں کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکتی کیونکہ جنگجوﺅں کو مار نے سے کشمیرمیں جنگجوئیت ختم نہیں ہوگی ،اسکے لئے ضروری ہے کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی امن پالیسی کو آگے بڑھایا جائے ۔

خاتون وزیر اعلیٰ نے بھارت اور وسطی ایشیاءکے درمیان جموں وکشمیر کو ”گیٹ وے “ قرار دےتے ہوئے کہا کہ بھارت کو ریاست کی اسٹریٹجک صلاحیت کو تسلیم کرنا چاہئے ۔دریں اثناءوزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کشمیر کی موجودہ صورت حال پر بھارتی میڈیا کے رویہ پر سخت نکتہ چینی بھی کی ۔

مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق گوا میں انڈیا فاﺅنڈیشن کی جانب سے منعقدہ تین روزہ” انڈیا آئیڈیاز کنکیلیو“ سے خطاب کرتے ہوئے خا تون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جموں وکشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دےتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کے بغیر بھارت نامکمل یا ادھو را ہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو محاصرے سے آزاد کردینا چاہئے اور اسکے لئے امن عمل کو آگے بڑھانے ہو گا ۔وزیر اعلیٰ نے کہا ’آپ کبھی نہیں جانتے ،وہاں کب ہڑتال ہوگی یا کرفیو ہوگا اور اسکے بعد کب احتجاج کی کال آئے گی ‘۔انہوں نے کہا ’جموں وکشمیر میں ذہنی محاصرہ ،جذباتی محاصرہ اور اقتصادی محاصرہ ہے ،جو ختم ہونا چاہئے ‘۔

وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اعتراف کیا کہ کشمیر میں بھارت مخالف نظریہ موجود ہے ،تاہم انہوں نے ساتھ ہی دعویٰ بھی کیا کہ کشمیر میں پاکستان اور آزادی حامیوں کی تعداد انگلیوں پر گنے کے برابر ہے ۔ان کا کہاتھا کہ کشمیر میں چند فیصد لوگ پاکستان اور آزادی کے حامی ہیں ،لیکن اکثریت کا نظر یہ بھارت کے نظریہ کے ساتھ وابستہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں ،کشمیر اور لداخ میں میں لوگوں کی اکثریت اپنا مستقبل بھارت کے ساتھ محفوظ تصور کررہی ہے اور چند ہی فیصد لوگ پاکستان یا آزادی کے حامی ہے ۔

خاتون وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں احساس ِ بے بسی تو ہے لیکن احساسِ نا امید نہیں ۔ان کا کہناتھا کہ بھارت کا آئیڈیا جموں وکشمیر کے آئیڈیا سے علیحدہ نہیں کیو نکہ دونوں کے درمیان یہ آئیڈیا ایک ہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں دہائیوں سے مسئلہ ہے ۔انہوں نے کہا’ہمارے پاس تاریخ کا خزانہ ہے ،لیکن میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ کشمیر میں احساسِ بے بسی ہے لین احساسِ نا امیدی نہیں‘۔

انہوں نے کہا ’ہمیں ان لوگوں کے ساتھ ایک مختلف اپروچ اپنانے کی ضرورت ہے، جو ہمارے ساتھ ہیں جبکہ زیادہ تر لوگ ہمارے ساتھ ہیں‘۔ان کا کہناتھا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی پالیسی کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ،جو انہوں نے (اٹل بہاری واجپائی) نے کشمیر کے حوالے سے اپنائی تھی ۔ان کا کہناتھا کہ اٹل بہاری واجپائی کے اقدامات سے 10برسوں تک کشمیر میں صورتحال پرامن رہی ۔

جموں وکشمیر کی شناخت کو برقرار رکھنے کی وکالت کرتے ہوئے ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ کشمیریوں پر ”بلڈوزر “ پھیرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ امن عمل کی کامیابی کےلئے ’ہیلنگ ٹچ ‘ کی پالیسی اپنانا ناگزیر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیکورٹی فورسز تن ِتنہا ریاست میں کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکتی کیونکہ جنگجوﺅں کو مار نے سے کشمیرمیں جنگجوئیت ختم نہیں ہوگی ،اسکے لئے ضروری ہے کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی امن پالیسی کو آگے بڑھایا جائے ۔

ان کا کہناتھا کہ سیکورٹی فورسز نے قیام امن کے حوالے سے خوشگوار ماحول قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی ،لیکن سیکورٹی فورسز تن تنہا مسئلہ حل نہیں کرسکتی ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کےلئے ’ہیلنگ ٹچ ‘پالیسی کو اپنا انتہائی ضروری ہے ۔

ان کا کہناتھا کہ ملی ٹنٹوں کو مار نے سے مسائل کا حل تلاش نہیں کیا جاسکتا ہے ،انہوں نے موجودہ ملی ٹنسی،جھڑپ اور کریک ڈاﺅن پر تبدیلی ناگزیر ہے ۔انہوں نے کہا’فوج اور سیکورٹی فورسز محسوس کررہی ہیں کہ انہوں نے اعلیٰ کام کیا ، سیاسی عمل کےلئے اب ہیلنگ ٹچ پالیسی کو اپنانے کی ضرورت ہے ‘

مباحثے پر مبنی تقریب کے دوران محبوبہ مفتی سے کئی سوالات بھی پوچھے گئے ۔ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا ’ ہیلنگ ٹچ پالیسی کی ضرورت ہے ،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں نرم پالیسی اختیار کریں ‘۔ان کا کہناتھا ’اگر کل کورٹ مسرت عالم کو مثلاً رہا کرتی ہے ،جمہوریت میں کم کیا کرسکتے ہیں ‘۔انہوں نے کہا ’اگر مسرت عالم سپریم کورٹ آف انڈیا جاتے ہیں اور کورٹ یہ کہتا ہے کہ اسکے خلاف کچھ نہیں ہے آپ اسے نظر بند نہیں رکھ سکتے ،ہم کیا کرسکتے ہیں ؟،کیا آپ کہہ سکتے ہو نہیں،نہیں آپ نہیں کہہ سکتے‘۔

انہوں نے کہا ’ ہم ان اداروں کو ایک شخص کےلئے نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں کیو نکہ ایک شخص طوفان بپا نہیں کرسکتا ‘۔انہوں نے واضح کیا کہ جنگجوﺅں کا صفایا کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ۔وزیر اعلیٰ نے کہا ’اگر ہم نے200جنگجو مارے ،پاکستان مزید200جنگجو بھیجے گا ،ہم کیا کرسکتے ہیں ؟۔انہوں نے کہا ’ہمیں وہ سب کچھ کرنا ہے جو سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے کیا ،مجھے امید ہے صورتحال تبدیل ہوجائیگی ‘۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان کے ساتھ امن پہل کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کیا ۔

انہوں نے مزید کہا ’آپ ہمیں ایک ٹکیہ دیں گے ،تو راتو رات سب کچھ تبدیل ہوگا ،مجھے یاد ہے ،جب میں جوان تھیں ،لوگ کہتے تھے ،مفتی صاحب اچھے ہیں ،پر ہندوستانی ہیں ،کئی لوگ ایسا کہتے تھے ،میر ی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا اگر میرے والد مرحوم اچھے انسان ہیں ،تو وہ اُنہیں ہندوستانی کیوں کہتے تھے ‘۔

خاتون وزیر اعلیٰ نے کہا ’میرے لئے ہندوستان اندرا گاندھی ہیں ،میرے لئے ہندوستان تاج محل ہے ،ہم صرف فلموں میں ایسا دیکھا کرتے تھے ،جموں وکشمیر میں میرے جیسے لاکھوں کی تعداد میں لوگ ہیں ،جو ہندوستان کو سمجھ چکے ہیں ،اور کچھ لوگ ہی جو ہندوستان پر یقین نہیں رکھتے ہیں ‘۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کئی لوگ مشکل حالات میں پھنسے ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا ’ہمیں اس صورتحال سے فوری طور پر نکلنا ہوگا ،آپ کو کشمیریوں کو حب الوطنی کا درس نہیں دینا پڑے گا ،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ آپ کو حب الوطنی کا درس دیں گے ۔

خاتون وزیر اعلیٰ نے بھارت اور وسطی ایشیاءکے درمیان جموں وکشمیر کو ”گیٹ وے “ قرار دےتے ہوئے کہا کہ بھارت کو ریاست کی اسٹریٹجک صلاحیت کو تسلیم کرنا چاہئے ۔ان کا کہناتھا کہ جموں وکشمیر ایک مرکز بننا چاہئے ،ہم جموں وکشمیر کو سارک کوآپریشن کےلئے ماڈل ریاست بنا سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سارک ہند وپاک دشمنی میںیر غمال بنا ہوا ہے ۔ان کا کہناتھا ’ہمیں کشمیر کی ترقی یقینی بنا نی ہوگی ،تاکہ یہ ایک بلندی کا حصہ بن سکے ،تاہم ہمیں اسکی شناخت کو بھی برقرار رکھنا ہوگا‘۔

انہوں نے مرکز پر زور دیا کہ وہ جموں وکشمیر کوملک کے تاج کے بطور دیکھنا چاہئے ۔انہوں نے کہا’انڈیا کا نظریہ کشمیر کے نظریہ کے بغیر نامکمل ہے ‘۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ جموں کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ،ہم کسی دشمن ریاست سے نہیں نمٹ رہے ہیں بلکہ ہم اپنی ریاست سے نمٹ رہے ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے کشمیر کےلئے خصوصی مذاکرات نامزد کرنے کی پہل ایک مثبت قدم ہے تاکہ تمام متعلقین کے ساتھ بات ہوسکے ۔

دریں اثناءوزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کشمیر کی موجودہ صورت حال پر بھارتی میڈیا کے رویہ پر سخت نکتہ چینی بھی کی ۔انہوں نے کہا کہ میڈیا ایک طرف علیحدگی پسندوں پر الزامات عائد کرتا ہے تو دوسری جانب انہیں ٹی وی کی زینت بھی بناتا ہے۔

انہوں نے میڈیا سے سوال پوچھا کہ ایسا کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا صرف ٹی آر پی کے لئے ایسا کیا جاتا ہے ؟،ان کا کہنا کہ میڈیا کو چاہئے کہ کشمیر کو موجودہ حالات سے باہر نکلنے کے لئے مدد کریں نہ کہ آگ پر پٹرول چھڑکنے کا کام کرے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ بعض میڈیا ادارے ایسے افراد کو مباحثے کے لئے بلاتے ہیں، جو ملک کے خلاف اپنی زبان استعمال کرتے ہیں۔حالانکہ کشمیری عوام انہیں جانتے تک نہیں اور وہی لوگ ملک کے خلاف ٹی وی پر بلا جھجک بات کرتے ہیں۔ملک کے دیگر شہری یہ سمجھتے ہیں کہ سارے کشمیری اسی طرح کے ہوتے ہوں گے ۔اسی کے باعث ملک میں کشمیریوں کے تعلق سے بدگمانی پھیلتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کو کشمیریوں کو ملک کا اہم حصہ بنانے کے لئے اہم رول ادا کرنا پڑےگا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیریت کا ثبوت دیکھنے کے لیے آپ ان کشمیری لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں جنہوں نے امرناتھ یاترا پر حملے کے بعد ان کی مدد کی ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے