سرینگر// مشترکہ مزاحتمی قیادت کی ”اننت ناگ چلو “کال کو ناکام بنانے کےلئے اننت ناگ ضلع کو مکمل طور سیل کرکے شہر خاص اور سول لائنز کے بیشتر علاقوں میں کرفیو جیسی سخت پابندیاں عائد کرکے شہر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی ناممکن بنائی گئی، تاہم قدغنوں کے باوجود اننت ناگ میں نماز جمعہ کے بعد مظاہرین اور فورسز کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئیں ۔اس دوران پولیس نے حریت”ع“ کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق کو اُس وقت کئی ساتھیوں سمیت گرفتار کیا جب انہوں نے خانہ نظر بندی توڑ کر اننت ناگ جانے کی کوشش کی۔حریت”گ“ کے چیرمین سید علی گیلانی سمیت کئی لیڈران اپنے گھروں جبکہ لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین ملک سینٹرل جیل سرینگرمیں نظر بند رہے اور پولیس نے متعدد مزاحتمی کارکنان کو احتیاطی طور حراست میں رکھا ۔ادھرکشیدہ صورتحال کے پیش نظر بارہمولہ اور بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس کے ساتھ ساتھ اننت ناگ ضلع میں موبائیل انٹر نیٹ سروس بھی مکمل طور ٹھپ رہی۔سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے مشترکہ طور لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ جمعہ کو جنوبی قصبہ اننت ناگ کا رُخ کریں جہاں تاریخی لالچوک میں ایک جلسہ عام منعقد کیا جائے گا اور مزاحتمی لیڈران آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔تینوں مزاحتمی لیڈرا ن مختلف علاقوں سے خود لالچوک اننت ناگ کی طرف مارچ کرنے والے تھے۔ مزاحتمی قائدین نے حکومت کو چیلنج بھی کیا تھا کہ اگر وہ جمہوریت میں یقین رکھتی ہے تو اننت ناگ جلسے کی اجازت دے دی جائے۔یہ جلسہ ضلع کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے بطور منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم اس اعلان کے پیش نظر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے جمعرات کی شب سے ہی اننت ناگ قصبہ اور گردونواح میں واقع دیگر حساس علاقوں کو اپنی تحویل میں لینے کا عمل شروع کیااور مجوزہ مارچ کو ناکام بنانے کےلئے لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندیاں عائد کیں۔اس مقصد کےلئے ضلع میں مختلف اطراف سے داخل ہونے والی تمام شاہراہوں اورچھوٹی بڑی سڑکوںکو جگہ جگہ سیل کرکے گاڑیوں اور راہگیروں پر قدغن لگائی گئی تھی۔لالچوک اننت ناگ کی طرف جانے والے کم و بیش تمام راستے سیل کردئے گئے تھے اور جگہ جگہ ناکے بٹھاکر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری تعداد تعینات کی گئی تھی۔ضلع سے گزرنے والے سرینگر جموں شاہراہ کے حصے پر بھی گاڑیوں کی آمدورفت محدود رکھی گئی ۔ دیگر حساس علاقوں میں بھی اسی طرح کی صورتحال نظر آئی اورمجموعی طور ضلع کے بیشتر علاقوں میں پولیس اور فورسز کے دستے متعدد مقامات پر گشت پر مامور تھے ۔اگر چہ ضلع انتظامیہ کے مطابق ضلع میں کچھ ایک مقامات پر دفعہ144نافذ رہا ، تاہم مقامی لوگوں نے بتایا کہ کئی علاقوں میں لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ سخت نوعیت کی پابندیوں کے باعث ضلع بھر میں کاروباری سرگرمیاں بھی معطل ہوکر رہ گئیں۔حکام نے جمعرات کی شب ہی ضلع میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کرنے کی ہدایت جاری کی تھی۔نمائندے نے بتایا کہ اگر چہ دوپہر تک ضلع کی صورتحال مجموعی طور پر امن رہی ، تاہم نماز جمعہ کے بعد اننت ناگ کے پرانے قصبے میں کاڈی پورہ کے مقام پر نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جلوس نکالنے کی کوشش کی۔مظاہرین اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے اور جب فورسز کی بھاری جمعیت نے ان کا راستہ روکا تو وہ تشدد پر اُتر آئے اور فورسز پر پتھراﺅ شروع کیا۔جوابی کارروائی کے تحت مظاہرین پر ٹیر گیس کے گولے داغے گئے اور جھڑپوں کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ادھر کے ایم ا ین سٹی رپورٹر کے مطابق اننت ناگ چلو کال کے پیش نظر حکام نے شہر کے متعدد علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا جس پر سختی کے ساتھ عمل کیا گیا۔اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن رعناواری، نوہٹہ، مہاراج گنج اور صفاکدل کے علاوہ پولیس تھانہ مائسمہ اور کرالہ کھڈ کے بعض علاقوںمیںبھی غیر اعلانیہ طور کرفیو جیسی بندشیں عائد رہیں ۔جمعہ علی الصبح ہی سینکڑوں اضافی پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کو شہر خاص کے تمام علاقوں میں تعینات کیا گیاتھا، لوگ جب صبح جاگ گئے تو اُنہوں نے اپنی بستیوں کو پولیس اور فورسز گھیرے میں پایا جو اُنہیں اُنکے گھروں کے اندر رہنے کی تلقین کررہے تھے۔کے ا یم ا ین کے مطابق درجنوں مقامات پر لوگوں کی نقل و حرکت روکنے کے لئے ناکہ بندی کی گئی تھی اور خار دار تاریں بچھا کر رکاﺅٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔اس صورتحال کے باعث سے کادی کدل، گوجوارہ،عالی کدل، صفاکدل ،سکہ ڈافر، نواب بازار، حبہ کدل، زالڈگر، بسنت باغ، گاﺅ کدل، نوہٹہ ، جمالٹہ، خانیار، رعناواری، راجوری کدل ،بہوری کدل ، مہاراج گنج اور دیگر علاقوں میں دن بھر ہو کا عالم رہا۔ امن و قانون کو برقرار رکھنے کےلئے پولیس اور فورسز کے اضافی دستے ہر طرف نظر آرہے تھے اور مجموعی طور پر پائین شہر کے لوگوں کو گھروں کے اندر محصور رکھا گیا ۔ اس صورتحال کی وجہ سے نوہٹہ میں شہر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ جامع مسجد اور اس کے گردونواح کے علاقوں کی سخت ترین ناکہ بندی کی گئی تھی جس میں دوپہر ہوتے ہوتے مزید سختی برتی گئی اور لوگوں کو مسجد کی طرف جانے نہیں دیا گیا۔ پولیس کے ایک سینئرآفیسر نے کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے ساتھ بات کرتے ہوئے شہر کے کسی بھی علاقے میں باضابطہ کرفیو کے نفاذ سے انکار کیا ،تاہم انہوں نے بتایا کہ بعض علاقوں میں احتیاط کے بطور دفعہ144کے تحت امتناعی احکامات نافذ رہے۔انہوں نے کہا کہ مجوزہ احتجاج کو روکنے کےلئے یہ اقدام امن و قانون کوبرقرا رکھنے کےلئے اٹھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ حکام کو خدشہ تھا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران امن و قانون کا مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ پولیس نے مجوزہ جلسے کو ناکام بنانے کےلئے مزاحتمی لیڈران اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کیا تھا جس کے تحت اننت ناگ ضلع کے ساتھ ساتھ سرینگر اور دیگر کئی علاقوں میں بعض لیڈران کو گھروں میں نظر بند جبکہ کچھ ایک کو باضابطہ طور حراست میں لیا گیا ۔حریت کانفرنس(ع) کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق جو جامع مسجد میں نما ز جمعہ کے موقعے پر خطاب کرتے ہیں، کو اپنی نگین رہائش گاہ پر نظر بند رکھا گیا تھا۔تاہم دوپہر کے وقت انہوں نے نظر بندی توڑنے کی کوشش کی اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ گھر سے باہر آکر اننت ناگ کی طرف جانے کی کوشش کی۔ان کی رہائش گاہ کے باہر پولیس کی بھارتی جمعیت موجود تھی اور انہوں نے میرواعظ اور ان کے دیگر ساتھیوں کو روک کر احتیاطی طور حراست میں لیا۔حریت کانفرنس(گ) کے سربراہ سید علی گیلانی اپنی حیدر پورہ رہائش گاہ پر نظر بند رہے جبکہ لبریشن فرنٹ چیرمین محمد یاسین کو گرفتاری کے بعد سینٹرل جیل سرینگر منتقل کیا گیا۔دریں اثناءپر تناﺅ صورتحال کے پیش نظر بارہمولہ اور بانہال کے درمیان ریل سروس بھی مکمل طور ٹھپ رہی۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ہڑتال اور مظاہروں کے دوران ریلوے املاک کو نقصان پہنچائے جانے کا خدشہ رہتا ہے اور اسی بناءپر ریل خدمات احتیاط کے بطور معطل رکھی گئیں۔ (کے ایم این)

