میسرہ کی ہلاکت کے خلاف ہندوارہ میں انجینئر رشید کی سربراہی میں احتجاج 

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

محبوبہ مفتی پر سیکورٹی ایجنسیوں کے رحم و کرم پر جینے کا لگایا الزام

ہندوارہ 11دسمبر//آج ہندوارہ میں برستی بارش کے باوجود اے آئی پی سربراہ اور ایم ایل اے لنگیٹ انجینئر رشید کی سربراہی میں سینکڑوں لوگوں نے فورسز کی طرف سے یونسو ہندوارہ کی میسرہ زوجہ اشفاق احمد خان نامی خاتون کی ہلاکت کے خلاف زوردار احتجاج کیا ۔ مظاہرین واقعہ میں ملوث فوجی جوانوں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ ہندوارہ چوک میں احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انجینئر رشید نے ہلاکت کو بلا جواز اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اپنے اس الزام کو دہرایا کہ نئی دلی منصوبہ بند پالیسی کے تحت کشمیریوں کو ہراساں کرنے اور انہیں اپنی بات رکھنے سے روکنے کیلئے وقفہ وقفہ سے چن چن کر ہلاکتیں کروا رہی ہے ۔ انجینئر رشید نے کہا ’’یونسو کا واقعہ ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے اور مذکورہ واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ فوج کے نزدیک کشمیریوں کا خون بہانا بلا لحاظ عمر و جنس جائز ہے ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ کشمیر میں ہر ہلاکت کو قومی مفاد کے نام پر جواز بخشا جاتا ہے اور قاتلوں کی پذیرائی کی جاتی ہے ۔ عیاں ہے کہ سرکار نے کشمیریوں کے جان کی قیمت ایک لاکھ روپیہ اور فرضی تحقیقات لگا دی ہے ‘‘۔ انجینئر رشید نے خبر دار کیا کہ اگر سرکار نے اپنا وطیرہ نہیں بدلا تو اس سے اپنی خرافات کی بھاری قیمت چکانی ہوگی۔ اس موقعہ پر انجینئر رشید نے اپنی تقریر میں سرکار کی طرف سے SKICCمیں انسانی حقوق کے عالمی دن کے حوالے سے تقریب منعقد کرنے کو بھونڈا مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ جو لوگ انسانی حقوق کی پامالیوں میں براہ راست ملوث ہیں وہی SKICCمیں بیٹھ کر کشمیریوں کو انسانی حقوق پر درس دے رہے ہیں۔ انجینئررشیدنے کہا ’’متعلقہ سمینارکی صدارت کرنے والے ریاستی وزیر عبدالحق خان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر وہ اپنے علاقہ میں منظور احمد خان نامی لاپتہ نوجوان کی بازیابی میں بری طرح ناکام ہوئے ہیں تو SKICCمیں بیٹھ کر انسانی حقوق سمجھانا کیا معنیٰ رکھتا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ متعلقہ وزیر گذشتہ سو دنوں سے منظور احمد کی بازیابی کے بجائے سیکورٹی ایجنسیز کے ہی موقف کی تشہیر کرنے میں مشغول ہیں تاکہ اس شرمناک واقعہ کی پردہ پوشی کی جا سکے ۔ انجینئر رشید نے ہندوستان کے ذی حس اور انصاف پسند طبقہ سے اپیل کی وہ میسرہ کی ہلاکت کو لیکر سرکار کو جوابدہ بنانے میں پہل کریں ۔ انجینئر رشید نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے اپیل کی کہ وہ خود کو سیکورٹی ایجنسیوں کے حصار سے باہر نکال کر لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں ورنہ انہیں بھی بے گناہوں کے خون بہنے میں اتنا ہی ملوث مانا جائے گا جتنا کہ خود سیکورٹی ایجنسیاں ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے