سری نگر//وادی کشمیر میں سیکورٹی وجوہات کی بناءپر جموں خطہ کے بانہال اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان چلنے والی ریل خدمات جمعہ کو معطل رکھی گئیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر کی تمام مذہبی جماعتوں کے سربراہان نے جمعرات کو اپنے ایک مشترکہ بیان میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان پر شدید برہمی اور ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف 8دسمبر جمعتہ المبارک کو پورے کشمیر میں یوم احتجاج کے طور پر منانے اور نماز جمعہ کے موقعہ پر تمام مرکزی مساجد ، خانقاہوں ، امام بارگاہوں اور آستانوں میں ایک مذمتی قرارداد پیش کرنے کا اعلان کیا تاکہ مجروح مسلم جذبات اور احساسات کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کی ناراضگی کا برملا اظہار کیا جاسکے۔
اس کے علاوہ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے بھی امریکی صدر کے اعلان پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تھی۔ انتظامیہ نے احتجاج کے دوران پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر وادی بھر میں ریل خدمات معطل کرادیں۔ ریلوے کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’ہم نے سیکورٹی وجوہات کی بناءپر آج (جمعہ کو) تمام ٹرینوں کی آمدورفت معطل کردی ہے‘۔
انہوں نے بتایا ’وسطی کشمیر کے بڈگام اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان چلنے والی تمام ٹرینوں کو معطل کیا گیا ہے‘۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا ’اسی طرح بڈگام اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان براستہ جنوبی کشمیر تمام ٹرینیں منسوخ کی گئی ہیں‘۔ انہوں نے بتایا کہ ریل خدمات کی معطلی کا اقدام پولیس اور سول انتظامیہ کی جانب سے جاری ایڈوائزری پر عمل کے طور پر لیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس و سول انتظامیہ کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد ریل خدمات کو بحال کردیا جائے گا۔ وادی میںامسال ریل خدمات کو سیکورٹی وجوہات کی بناءپر کم از کم تین درجن مرتبہ معطل کیا گیا ۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں تشدد کے واقعات کے دوران وادی میںریلوے املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا ۔ وادی میں گذشتہ برس جولائی میں حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد شدید احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل خدمات کو کم از کم چار مہینوں تک معطل رکھا گیا ۔
کشمیر میں سیکورٹی وجوہات کی بناءپر ریل خدمات معطل
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
