ممکنہ امریکا مخالف احتجاج ۔شہر میں جزوی پابندیاں عائد 

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
سرینگر / سری نگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس ( یروشلم) کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر کشمیر انتظامیہ نے سری نگر کے پائین شہر کے بعض حصوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کرکے شہریوں کی نقل وحرکت محدود کردی ہے ۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شہر میں امن وامان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لئے پائین شہر کے نوہٹہ، صفا کدل اور ایم آر گنج پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا ‘ان پابندیوں کا خالص مقصد امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہے ‘۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر کی تمام مذہبی جماعتوں کے سربراہان نے جمعرات کو اپنے ایک مشترکہ بیان میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان پر شدید برہمی اور ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف 8دسمبر جمعتہ المبارک کو پورے کشمیر میں یوم احتجاج کے طور پر منانے اور نماز جمعہ کے موقعہ پر تمام مرکزی مساجد ، خانقاہوں ، امام بارگاہوں اور آستانوں میں ایک مذمتی قرارداد پیش کرنے کا اعلان کیا تاکہ مجروح مسلم جذبات اور احساسات کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کی ناراضگی کا برملا اظہار کیا جاسکے ۔
مذہبی جماعتوں کے سربراہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کو عالم اسلام کے سینے میں خنجر گھونپنے کے عمل سے تعبیر کیا ہے ۔ اس کے علاوہ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے بھی امریکی صدر کے اعلان پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی۔ تاہم کشمیر انتظامیہ نے احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد بھڑک اٹھنے کے خدشے کے پیش نظر نہ صرف پائین شہر کے بعض پولیس تھانوں کی حدود میں آنے والے علاقوں میں پابندیاں نافذ کردیں، بلکہ حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق کو بھی اپنی رہائش گاہ پر نظربند کردیا۔بڑے پیمانے کے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے متعدد دیگر علیحدگی پسند لیڈران اور کارکنوں کو تھانہ یا خانہ نظربند کردیا گیا ہے ۔
میرواعظ نے کہا ‘امریکی اعلان کے خلاف پرامن احتجاج کی اپیل کے ساتھ ہی مجھے گذشتہ شام اپنے گھر میں نظربند کیا گیا’۔ اس دوران انجمن اوقاف جامع مسجد کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ‘تاریخی جامع مسجد میں آج پیغمبر اسلام (ص) کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ایک خصوصی مجلس رحمت العالمین منعقد ہونے والی تھی جس میں میرواعظ خصوصی طور خطاب کرنے والے تھے ‘۔
انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ نے پائین شہر میں کرفیو جیسی پابندیاں اور میرواعظ کو نظربند کرکے اس دینی تقریب کے انعقاد کو روک دیا’۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے جمعہ کی صبح پائین شہر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، نے تاربل سے لیکر خانیار تک آنے والے علاقوں میں خاردار تاریں بچھی ہوئی پائی۔ انہوں نے بتایا ‘نواح کدل، کا وڈارہ، راجوری کدل، گوجوارہ، نوہٹہ اور بہوری کدل کو جوڑنے والی سڑکوں پر خاردار تار بچھائی گئی ہے ‘۔ نامہ نگار نے پابندی والے علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند پائے ۔
انہوں نے بتایا کہ تاریخی جامع مسجد کو ایک بار پھر مقفل کردیا گیا ہے جبکہ اس کے باہر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے ۔ نامہ نگار کے مطابق کچھ ایک حساس جگہوں پر سیکورٹی فورسز نے اپنی بلٹ پروف گاڑیاں کھڑی کردی ہیں۔ کشمیر کی مذہبی جماعتوں کے سربراہوں نے جمعرات کو احتجاج کی کال دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ٹرمپ کے اعلان کے بعد جموں وکشمیر سمیت پوری مسلم دنیا اور امت مسلمہ میں بے چینی، اضطراب اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور امت مسلمہ اس فیصلے کو ناقابل قبول تصور کرتا ہے ۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر کے سوا ارب سے زیادہ مسلمان مقبوضہ بیت المقدس اور قبلہ اول مسجد اقصیٰ کے تقدس اور حرمت کو اپنے ایمان کا حصہ تصور کرتے ہیں اور ان مقامات سے مسلمانوں کی وابستگی اور دینی عقیدت انتہائی شدید اور گہری ہے ۔
Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے