کیا کشمیر کی وجہ سے مجھے بھارت میں داخلہ نہیں ملا؟، برطانوی رکن پارلیمان ڈیبی ابراہمس کا بھارتی حکومت سے سوال

Britain's shadow Secretary of State for Work and Pensions, Debbie Abrahams, speaks during the second day of the Labour Party conference in Liverpool, Britain, September 26, 2016. REUTERS/Darren Staples

سرینگر/18فروری: برطانوی رکن پارلیمان ڈیبی ابراہمس نے بھارتی حکومت کی جانب سے ان کا ‘ای۔ویزا’ خارج کرنے پر کئی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا کشمیر کی وجہ سے مجھے بھارت میں داخلہ نہیں ملا؟۔ خیال رہے کہ برطانیہ کی لیبر پارٹی سے منسلک ڈیبی ابراہمز کو بھارت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور انہیں پیر کے روز دہلی ائیرپورٹ سے اپنے ملک واپس روانہ کیا گیا تھا۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق ڈیبی ابراہمس نے ٹویٹر پر بھارتی حکومت سے سوال کیا ہے کہ کیا انہیں واپس بھیجے جانے کا فیصلہ جموں و کشمیر سے متعلق بھارت کی پالیسی پر ان کی تنقید کے سبب کیا گیا تھا؟’دہلی ائیرپورٹ پر پہنچنے کے بعد دوسرے روز انہیں واپس ابوظہبی روانہ کر دیا گیاتھا۔ ڈیبی ابراہمس نے بھارتی حکومت سے پوچھا ہے کہ ویزا جاری کرنے کے بعد اسے منسوخ کیوں کر دیا گیا۔ ڈیبی ابراہمس نے یہ بھی جاننا چاہا کہ انہیں آمد پر ویزا کیوں نہیں دیا گیا۔اگرچہ ڈیبی ابراہمس نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس درست ویزا تھا اور ان کو اکتوبر 2019 میں ای۔ویزا جاری کیا گیا تھا جس کی مدت اکتوبر 2020 تک ہے۔۔ڈیبی ابراہمس، ‘آل پارٹی پارلیمنٹری گروپ فار کشمیر اِن برٹین کی سربراہ بھی ہیں ۔ ایک انٹرویو میں ڈیبی ابراہمس نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے دورے کے لیے کوششوں کے سلسلے میں لندن میں قائم بھارتی ہائی کمیشن سے اکتوبر سے رابطے میں تھیں لیکن کامیاب نہ ہو پائیں۔( سی این آئی )

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے