دہشت گردی کوکسی مذہب، قومیت اورتہذیب سے نہیں جوڑا جاسکتا / پاک ترک مشترکہ اعلامیہ

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر15 فروری//یو پی آئی // پاک ترک دونوں ممالک نے چیلنجزمیں ایک دوسرے کی مدد اورحمایت کے جذبے کی یاد دہانی کی جب کہ دہشت گردی اورنسل پرستانہ حملوں پرگہری تشویش کا اظہارکیا۔ یو پی آئی مانٹرنگ کے مطابق ترک صدرکے دورے کے اختتام پردونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے شاندارتعلقات کوباہمی فائدہ مند شراکت داری کو توسیع دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا، دونوں ممالک کے لازوال تعلقات کے تحفظ پرزوردیا گیا، چیلنجز میں ایک دوسرے کی مدد اورحمایت کے جذبے کی یاددہانی کی گئی اوردونوں ممالک کی لازوال دوستی کا اعادہ کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہراورمسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے دہشت گردی اورنسل پرستانہ حملوں پرگہری تشویش کا اظہارکیا گیا، اقوام متحدہ کی سینکشنزرجیم کا دائرہ کاربڑھانے پراتفاق کیا گیا، دہشت گردی کوکسی مذہب، قومیت اور تہذیب سے نہیں جوڑا جاسکتا، دہشت گردی کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے اورخاص طورپرطویل مدت تصفیہ طلب تنازعات کے حل اورغیرملکی تسلط کے خاتمے پرزوردیا گیا۔اعلامیے میں دہشت گردی کی لعنت کے خلاف لڑائی کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا گیا، پاکستان ترکی ’ڈیکلریشن آف اسٹریٹجک اکنامک فریم ورک‘ اینڈ ایکشن پلان کو حتمی شکل دینے کا خیرمقدم کیا گیا، پاک ترک ہائی لیول اسٹریٹجک تعاون کونسل میکانزم پر زور دیا گیا، دونوں ممالک کے درمیان وزراخارجہ کی سطح پرمشاورت کے دائرہ کارکوتوسیع دی جائے گی، ہائی لیول اسٹریٹجک کوآپریشن کونسل فورم کو جاری رکھا جائے گا جب کہ دوطرفہ ادارہ جاتی میکانزم پربھی اتفاق کیا گی۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے